قومی زبان

خود اپنی محفل میں اس قدر کیوں ہے اہتمام حجاب تیرا

خود اپنی محفل میں اس قدر کیوں ہے اہتمام حجاب تیرا یہاں تو موجود تو ہی تو ہے کہاں ہے کوئی جواب تیرا کبھی تو صحرا کے دامنوں پر کبھی چمن کی لطافتوں پر جلال بن کر جمال بن کر برس رہا ہے شباب تیرا سیاہ بادل امڈ امڈ کر وہ آ رہے ہیں برس رہے ہیں عروس فطرت نہا رہی ہے نکھر رہا ہے شباب تیرا

مزید پڑھیے

یوں جدا ہوئے میرے درد آشنا مجھ سے

یوں جدا ہوئے میرے درد آشنا مجھ سے ایک سے خفا ہوں میں دوسرا خفا مجھ سے اک دیے سے کوشش کی دوسرا جلانے کی اور اس عمل میں پھر وہ بھی بجھ گیا مجھ سے تیری آرزو کیا ہے کیا نہیں سمجھتا میں دیکھ اپنی خواہش کو اور مت چھپا مجھ سے راہ کا شجر ہوں میں اور اک مسافر تو دے کوئی دعا مجھ کو لے کوئی ...

مزید پڑھیے

نگاہ مست کا کیف خمار کیا کہیے

نگاہ مست کا کیف خمار کیا کہیے بہار گویا ہے اندر بہار کیا کہیے مآل حسن پرستیٔ یار کیا کہیے نظر نظر ہے مری جلوہ یار کیا کہیے قدم قدم پر نگاہوں نے ٹھوکریں کھائیں فریب جلوۂ رنگیں بہار کیا کہیے یہ انتظار کسی کا ارے معاذ اللہ لٹا چکا ہوں متاع قرار کیا کہیے انہیں خیال کی محفل میں ...

مزید پڑھیے

مذاق غم سے نکھرے گا شعور کارواں کب تک

مذاق غم سے نکھرے گا شعور کارواں کب تک اسیر رہبری ڈھونڈیں گے قدموں کے نشاں کب تک ذرا زخموں پہ دل کے اور تھوڑی سی نمک پاشی نکھرتا ہی نہیں دیکھیں یہ حسن گلستاں کب تک خودی کو بیچ کر سجدہ کوئی سجدہ نہیں ہوتا جبین شوق سے کہہ دو تلاش آستاں کب تک مرے افکار میں بالیدگی ہے حسن قسمت ...

مزید پڑھیے

بیٹھے ہیں بھیگی زلف پریشاں کئے ہوئے

بیٹھے ہیں بھیگی زلف پریشاں کئے ہوئے کافر ادائے حسن کو عریاں کئے ہوئے دل کچھ محبتوں سے گریزاں کئے ہوئے بیٹھا ہوں کچھ خیال پریشاں کئے ہوئے آنکھوں میں اک لطیف سی مستی بھری ہوئی نظروں کو ہمکنار گلستاں کئے ہوئے آ میکدے میں بن کے بہار ہوائے صبح چل دے ہر ایک جام کو رقصاں کئے ...

مزید پڑھیے

اے عشق شاد کام ہوں تیرے شعور سے

اے عشق شاد کام ہوں تیرے شعور سے مجھ کو گلہ نہیں ہے کسی کے غرور سے یہ انتہائے ہوش ہے آگے خبر نہیں آواز دے رہا تھا کوئی مجھ کو دور سے قطرے کی کیا بساط پتا بھی نہیں چلا اک موج اٹھ کے رہ گئی دریائے نور سے دیتا رہے زمانہ فریب‌ نشاط اب سر خوش ہیں ہم تو بادۂ غم کے سرور سے قربان تیری ...

مزید پڑھیے

خزاں سے کون سی شے چھین لی بہاروں نے

خزاں سے کون سی شے چھین لی بہاروں نے گلوں کو آنکھ دکھائی چمن میں خاروں نے چھپا چھپا کے رکھا تھا جسے بہاروں نے اگل دیا ہے وہی خون لالہ زاروں نے قدم قدم پہ ہزاروں فریب ہیں ساقی ارادے نیک تو باندھے ہیں بادہ خواروں نے اسی مقام پہ پہنچے ہیں تیرے دیوانے جہاں سے آنکھ چرائی تھی ...

مزید پڑھیے

مجموعۂ خیال پریشاں کیے ہوئے

مجموعۂ خیال پریشاں کیے ہوئے بیٹھا ہوں پھر جنوں کو میں مہماں کیے ہوئے میں لکھ رہا ہوں شرح حیات الم نصیب قطرات خون دل سر عنواں کیے ہوئے دیتا ہوں پھر خیال کو میں دعوت جنوں ذروں کو اپنے دل کے بیاباں کیے ہوئے وحشت بہ قید عشق نہیں مدتیں ہوئیں پھرتا ہوں یوں ہی چاک گریباں کیے ہوئے اے ...

مزید پڑھیے

سورج کی بیماری

تو آؤ چلیں اب گھر چلتے ہیں دن کی تھکن اب شام ہوئی ہے سورج کو اپنے گہوارے میں سو جانے دو وہ بہت تھکا ہوا ہے سورج کی بیماری نے ہم سب کو تھکا دیا ہے کیا جانے کل کیا ہوگا کل تو اندیشے کو کہتے ہیں دیکھو ہم کتنے اندیشوں سے گزرے ہیں اور زندہ ہیں اس نے کہا تھا زندہ رہو اٹھارہ برس اٹھارہ برس ...

مزید پڑھیے

نقطہ

ہر طرف سے انفرادی جبر کی یلغار ہے کن محاذوں پر لڑے تنہا دفاعی آدمی میں سمٹتا جا رہا ہوں ایک نقطہ کی طرح میرے اندر مر رہا ہے اجتماعی آدمی

مزید پڑھیے
صفحہ 1308 سے 6203