قومی زبان

کہاں زمیں کے ضعیف زینے پہ چل رہی ہے

کہاں زمیں کے ضعیف زینے پہ چل رہی ہے یہ رات صدیوں سے میرے سینے پہ چل رہی ہے رواں ہے موج جنوں پہ احساس کا سفینہ اور ایک تہذیب اس سفینے پہ چل رہی ہے خمار خواب سحر یہ دل اور تیری یادیں ہوا دبے پاؤں آبگینے پہ چل رہی ہے میں مر گیا تو خبر نہیں ان کا کیا بنے گا دکان یاراں تو صرف کینے پہ ...

مزید پڑھیے

کھول کر بات کا بھرم دونوں

کھول کر بات کا بھرم دونوں کم سخن ہو گئے ہیں ہم دونوں ہو گئے اب جدا تو کیا کہیے تھے خطا کار بیش و کم دونوں جب ملیں گے تو بھول جائیں گے جو ابھی سوچتے ہیں ہم دونوں دفعتاً سامنا ہوا اپنا جی اٹھے جیسے ایک دم دونوں ہجرت و ہجر سے بچائے خدا مجھ کو لاحق ہیں آج غم دونوں اب یہی ایک راہ ...

مزید پڑھیے

شب کی زلفیں سنوارتا ہوا میں

شب کی زلفیں سنوارتا ہوا میں یہ ترے ساتھ جاگتا ہوا میں رشتۂ جاں سے کٹ گیا یکسر کچھ تعلق نباہتا ہوا میں وہ سر بزم جھومتا ہوا تو یہ سر رہ کراہتا ہوا میں وہ سر شاخ تو مہکتا ہوا اور سر خاک سوکھتا ہوا میں گر گیا تھک کے اپنے قدموں میں تجھ سے تجھ کو ہی مانگتا ہوا میں عکس در عکس پھیلتا ...

مزید پڑھیے

دکھائی دیں گی سبھی ممکنات کاغذ پر

دکھائی دیں گی سبھی ممکنات کاغذ پر ذرا اتار تو لوں سب جہات کاغذ پر مری کہانی بہت دیر سے رکی ہوئی ہے وہ کھو گیا ہے کہیں رکھ کے ہاتھ کاغذ پر ہماری تازہ غزل میں بھی عکس ہے اس کا وہ ایک اشک جو ٹپکا تھا رات کاغذ پر میں تھک چکا ہوں فقط رائیگانیاں لکھتے انڈیل دوں نہ کہیں اب دوات کاغذ ...

مزید پڑھیے

تم غلط سمجھے ہمیں اور پریشانی ہے

تم غلط سمجھے ہمیں اور پریشانی ہے یہ تو آسانی ہے جو بے سر و سامانی ہے خواہش دید سر وصل جو نکلی نہیں تھی لمحۂ ہجر میں تجرید کی عریانی ہے کیوں بھلا بوجھ اٹھاؤں میں ترے خوابوں کا میرے آئینے میں کیا کم کوئی حیرانی ہے ایک مدت سے جو بیٹھی ہے مری پلکوں پر خانۂ دل میں وہ صورت ابھی ...

مزید پڑھیے

رہین خواب ہوں اور خواب کے مکاں میں ہوں

رہین خواب ہوں اور خواب کے مکاں میں ہوں جہان مجھ سے سوا ہے میں جس جہاں میں ہوں عجب طرح کا خرد خیز ہے جنوں میرا مجھے خبر ہے میں کس کار رائیگاں میں ہوں تو مجھ کو پھینک چکا کب کا اپنے دشمن پر میں اب کماں میں نہیں ہوں ترے گماں میں ہوں مری تھکن بھی تری ہجرتوں میں شامل ہے میں گرد گرد ...

مزید پڑھیے

اتنی گستاخی تو اے صیاد کر لیتا ہوں میں

اتنی گستاخی تو اے صیاد کر لیتا ہوں میں قید غم سے روح کو آزاد کر لیتا ہوں میں بیٹھے بیٹھے تجھ کو جس دم یاد کر لیتا ہوں میں مایۂ صبر و سکوں برباد کر لیتا ہوں میں وائے نادانی کہ پیدا کر کے تجھ سے بد ظنی آپ اپنے دل کو خود ناشاد کر لیتا ہوں میں ہو کے مجبور تماشا وہم کی تصویر سے لذت ...

مزید پڑھیے

حسن پھر شوخیٔ وفا توبہ

حسن پھر شوخیٔ وفا توبہ ایک کافر نیا خدا توبہ ان سے کس منہ سے شکوۂ بیداد زندگی خود ہے اک جفا توبہ ضبط کی کوششیں تو کیں میں نے ہر نظر تھی خود التجا توبہ وہ بھی مجبور التفات ہوئے دل نے اس طرح رو دیا توبہ دل پھر اس پر یہ شوق بے پایاں عفو کیجے ہوئی خطا توبہ

مزید پڑھیے

مجھ پر جنون شوق کا کیوں کر اثر غلط

مجھ پر جنون شوق کا کیوں کر اثر غلط گر یہ غلط تو راہ غلط راہبر غلط نظر آ گئے وہ آپ ہی دیکھا جو آئنہ سمجھے تھے عشق ہی کو مریض نظر غلط وارفتگئ شوق سنبھلنے بھی دے مجھے بے تابیوں کا وہ نہ کہیں لیں اثر غلط مت پوچھ وہ نگاہوں سے کیا کچھ پلا گئے اب بے خودیٔ شوق میں باقی کسر غلط فائقؔ ...

مزید پڑھیے

کسی کی یاد پھر خلوت نشیں معلوم ہوتی ہے

کسی کی یاد پھر خلوت نشیں معلوم ہوتی ہے طبیعت آج کل اندوہ گیں معلوم ہوتی ہے محبت کا ہر اک سجدہ بھی معراج محبت ہے مقام عرش اب میری جبیں معلوم ہوتی ہے کبھی شبنم کبھی تارے کبھی تم مسکراتے ہو محبت کی ہر اک ساعت حسیں معلوم ہوتی ہے ذرا تم ہاتھ رکھو یا خلش درد محبت کی یہیں معلوم ہوتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1307 سے 6203