قومی زبان

عمر بھر راز وہ پوچھا کیے پروانے سے

عمر بھر راز وہ پوچھا کیے پروانے سے خود بخود آج کھلا ہم پہ وہ جل جانے سے گر پلانا ہے تو نظروں سے پلا دے اپنی لطف آتا نہیں ساقی مجھے پیمانے سے راز یہ ہے کہ نہ ہو راز سے واقف کوئی عشق میں ہم جو پھرا کرتے ہیں دیوانے سے دیکھ آتے ہیں حرم کی بھی حقیقت فائقؔ ورنہ ناکام تو پھر آئے ہیں بت ...

مزید پڑھیے

جس کو کہتے ہیں قضا یا موت جس کا نام ہے

جس کو کہتے ہیں قضا یا موت جس کا نام ہے واقعی وہ دائمی راحت کا اک پیغام ہے التزام چارہ سازی اک خیال خام ہے چارہ گر میرے لئے تکلیف میں آرام ہے اف رے یہ بیگانگی ہمدرد ہو تو کون ہو ایک دل تھا وہ بھی صرف کثرت آلام ہے عرصۂ رفتہ پہ نظریں پڑ رہی ہیں وہم کی خواب کی تصویر ہے یا زندگی کی ...

مزید پڑھیے

عشق کے افسانے کیا ہیں شرح حسن یار ہے

عشق کے افسانے کیا ہیں شرح حسن یار ہے آئنے گو مختلف ہیں ایک ہی دیدار ہے اے تعالیٰ اللہ کیسا عشق کا آزار ہے دل بھی روشن ہو گیا ہے روح بھی بیدار ہے سن رہا ہوں ساز ہستی پر سرود سرمدی بے خودیٔ شوق میں کیا زندگی بیدار ہے

مزید پڑھیے

میں فیضیاب گردش ساغر نہیں ہوا

میں فیضیاب گردش ساغر نہیں ہوا کیوں اے نگاہ دوست یہ کیوں کر نہیں ہوا ہر اشک خوں میں گوہر یکتا کی آب ہو وہ عشق کیا جو حسن کا زیور نہیں ہوا کیونکر لٹائی دل کی یہ میں نے محبتیں کچھ غم نہیں جو کوئی شناور نہیں ہوا بازی ہمیشہ دل ہی محبت میں لے گیا اک معرکہ بھی تم سے کوئی سر نہیں ہوا اک ...

مزید پڑھیے

جن

بچپن میں بوڑھوں سے سنا تھا کچھ لوگوں پر جن آتے ہیں جو ان کو بھگائے پھرتے ہیں وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں اپنے آپ نہیں کہتے ہیں جن ان سے کہلاتے ہیں اب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کچھ لوگوں پر لفظ آتے ہیں جو ان کو بھگائے پھرتے ہیں وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں اپنے آپ نہیں کہتے ہیں لفظ ان سے کہلاتے ...

مزید پڑھیے

میرا چہرہ

ایک قیافے کے ماہر نے مجھ سے کہا گہری چالیں چلنا اور دنیا کو دھوکے میں رکھنا آسان نہیں ہے لیکن تو چاہے تو یہ کر سکتا ہے تیرا چہرہ اک ہنس مکھ احمق کا چہرہ ہے

مزید پڑھیے

جانے کسی نے کیا کہا تیز ہوا کے شور میں

جانے کسی نے کیا کہا تیز ہوا کے شور میں مجھ سے سنا نہیں گیا تیز ہوا کے شور میں میں بھی تجھے نہ سن سکا تو بھی مجھے نہ سن سکا تجھ سے ہوا مکالمہ تیز ہوا کے شور میں کشتیوں والے بے خبر بڑھتے رہے بھنور کی سمت اور میں چیختا رہا تیز ہوا کے شور میں میری زبان آتشیں لو تھی مرے چراغ کی میرا ...

مزید پڑھیے

جو آنکھوں کے تقاضے ہیں وہ نظارے بناتا ہوں

جو آنکھوں کے تقاضے ہیں وہ نظارے بناتا ہوں اندھیری رات ہے کاغذ پہ میں تارے بناتا ہوں محلے والے میرے کار بے مصرف پہ ہنستے ہیں میں بچوں کے لیے گلیوں میں غبارے بناتا ہوں وہ لوری گائیں گی اور ان میں بچوں کو سلائیں گی میں ماؤں کے لیے پھولوں کے گہوارے بناتا ہوں فضائے نیلگوں میں حسرت ...

مزید پڑھیے

ملا جو کام غم معتبر بنانے کا

ملا جو کام غم معتبر بنانے کا ہنر اس آنکھ کو آیا نہ گھر بنانے کا تجھی سے خواب ہیں میرے تجھی سے بیداری تجھے سلیقہ ہے شام و سحر بنانے کا میں اپنے پیچھے ستاروں کو چھوڑ آیا ہوں مجھے دماغ نہیں ہم سفر بنانے کا یہ میرے ہاتھوں میں پتھر ہیں اور رات ہے سرد میں کام لیتا ہوں ان سے شرر بنانے ...

مزید پڑھیے

سلیمؔ دشت تمنا میں کون ہے کس کا

سلیمؔ دشت تمنا میں کون ہے کس کا یہاں تو عشق بھی تنہا ہے حسن بھی تنہا بنے وہ بات کہ اہل وفا کے دن پھر جائیں مزاج یار کی صورت بدل چلے دنیا اڑا کے لے ہی گئیں بوئے پیرہن! تیرا سبک خرام ہواؤں پہ کوئی بس نہ چلا مزاج عشق ہو مانوس زندگی اتنا کہ مثل خلوت محبوب ہو بھری دنیا مثال صبح مری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1309 سے 6203