قومی زبان

قبضہ مرے بدن پہ مری خواہشوں کا ہے

قبضہ مرے بدن پہ مری خواہشوں کا ہے بستی مری پہ راج مرے دشمنوں کا ہے قلب و نظر میں نور نئے تجربوں کا ہے احسان کس قدر یہ بدلتی رتوں کا ہے چہرے سے دھل چکی مری بیداریوں کی راکھ آنکھوں میں کچھ خمار ابھی رتجگوں کا ہے تو سو رہا تھا اور میں دستک نہ دے سکا کتنا خیال مجھ کو تری راحتوں کا ...

مزید پڑھیے

جی میں آتا ہے کہ اک روز یہ منظر دیکھیں

جی میں آتا ہے کہ اک روز یہ منظر دیکھیں سامنے تجھ کو بٹھائیں تجھے شب بھر دیکھیں بند ہے شام سے ہی شہر کا ہر دروازہ آ شب ہجر کہ اب اور کوئی گھر دیکھیں ایسے ہم دیکھتے ہیں دل کے اجڑنے کا سماں جس طرح داسیاں جلتا ہوا مندر دیکھیں آج بھی شہر میں ہے میری وفا کی شہرت آئیں اور آ کے ذرا میرے ...

مزید پڑھیے

داستانوں میں وہ جادو ہے نہ تفسیروں میں ہے

داستانوں میں وہ جادو ہے نہ تفسیروں میں ہے جو تری آنکھوں کی بے آواز تقریروں میں ہے رائیگاں ہیں کل کی خوشیاں کل کے غم بھی بے اثر اب بھلا رکھا ہی کیا ماضی کی تصویروں میں ہے تیری آنکھوں میں اگر پڑھنے کی ہمت ہے تو پڑھ کرب کا مضموں مرے ماتھے کی تحریروں میں ہے اس کے اک اک انگ میں وہ ...

مزید پڑھیے

ہر بلبل مشتاق تہ دام ہے اب بھی

ہر بلبل مشتاق تہ دام ہے اب بھی پھولوں کی طلب باعث آلام ہے اب بھی اک عمر سے گو رسم جنوں چھوڑ چکا ہے دیوانہ ترے شہر میں بدنام ہے اب بھی کہنے کو تو ہر سمت بہاروں کا سماں ہے دل اپنا تو افسردہ سر شام ہے اب بھی مدت سے کئے بیٹھے ہیں گو ترک محبت ہاں باعث تسکین وہی نام ہے اب بھی کس آنکھ ...

مزید پڑھیے

پھولوں کی ہے تخلیق کہ شعلوں سے بنا ہے

پھولوں کی ہے تخلیق کہ شعلوں سے بنا ہے کندن سا ترا جسم جو خوشبو میں بسا ہے جنگل کے غزالوں پہ عجب خوف ہے طاری طوفان کوئی شہر کی جانب سے اٹھا ہے یہ حسن چمن ہے مرے احساس کی تخلیق ورنہ کہیں گل ہے نہ کہیں موج صبا ہے ہر لفظ ترے چہرے کی تصویر بنا تھا کس کرب سے سو بار ترے خط کو پڑھا ...

مزید پڑھیے

ابھی روٹھی ہوئی ہے پر یہی تصویر بولے گی

ابھی روٹھی ہوئی ہے پر یہی تصویر بولے گی یقیناً ایک دن ہم سے ہماری ہیر بولے گی مرے دشمن ابھی ہے وقت تو سمجھا رہا ہوں میں اگر میں چپ ہوا تو پھر مری شمشیر بولے گی ارے نادان دنیا میں ترا کردار بولے گا یہ کس نے کہہ دیا تجھ سے تری جاگیر بولے گی میاں قسمت کو رونے سے یہاں کچھ بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

جب مری گردن پہ اس نے اپنا خنجر رکھ دیا

جب مری گردن پہ اس نے اپنا خنجر رکھ دیا لوگ اٹھے اور اس کے تاج سر پر رکھ دیا بوند ہی کافی تھی جب سیراب ہونے کے لیے خشک ہونٹوں پر یہ تم نے کیوں سمندر رکھ دیا اب بھٹکتے پھر رہے ہیں راحت جاں کے لیے یہ کمی اپنی ہے جو سب کچھ بھلا کر رکھ دیا کھا کے ٹھوکر آ گیا اب مجھ کو چلنے کا ہنر شکریہ ...

مزید پڑھیے

میں ریزہ ریزہ بکھر کے ایسے سمٹ رہا ہوں

میں ریزہ ریزہ بکھر کے ایسے سمٹ رہا ہوں کہ تھوڑا تھوڑا سبھی کے حصہ میں بٹ رہا ہوں میں ایک پتھر صفت زمانے سے ہوں مگر اب کسی کے آنسو کے چند قطروں سے کٹ رہا ہوں میں خوش ہوں اس کو دکھا رہا ہوں نئے مناظر مگر یہ دکھ بھی کہ اس کی نظروں سے ہٹ رہا ہوں مجھے یقیں ہے بچھڑنے والا یہیں ملے ...

مزید پڑھیے

ایسی کسک تھی آنکھ سے آنسو گرا نہ تھا

ایسی کسک تھی آنکھ سے آنسو گرا نہ تھا اس بار میرا درد بھی میری دوا نہ تھا بے چین روح چین سے بیٹھی نہ ایک پل جب تک مرے وہ جسم میں داخل ہوا نہ تھا احسان روشنی کا ہی رہتا تمام عمر ورنہ ترے چراغ سے مجھ کو گلہ نہ تھا اس راستے پہ منزلیں میں نے تلاش کیں جس راستے پہ کوئی کہیں نقش پا نہ ...

مزید پڑھیے

کاتب قسمت نے مجھ پہ جب اتارا ایک شعر

کاتب قسمت نے مجھ پہ جب اتارا ایک شعر کیوں سناؤں میں کسی کو پھر دوبارہ ایک شعر کیا ضروری ہے غزل پر ہم غزل کہتے رہیں گھر بنا سکتا ہے دل میں جب ہمارا ایک شعر چبھ گیا تھا دل میں میرے نوک نشتر کی طرح یاد ہے مجھ کو ابھی تک وہ تمہارا ایک شعر لوگ چیخیں بھی کہاں سنتے ہیں اتنے غور سے شکریہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1271 سے 6203