قومی زبان

علم و فن کا جو طلب گار نہیں ہو سکتا

علم و فن کا جو طلب گار نہیں ہو سکتا میرا دعویٰ ہے وہ فن کار نہیں ہو سکتا آج وہ عشق میں مرنے پہ بھی آمادہ ہے کل جو کہتا تھا مجھے پیار نہیں ہو سکتا جھوٹ بولا بھی تو معصوم کی جاں کی خاطر میں خطا‌ وار گنہ گار نہیں ہو سکتا وہ یقیناً ہے مرے ساتھ مری رگ رگ میں اس کا دھوکا مجھے ہر بار ...

مزید پڑھیے

تمنا ہے سنور جانے سے پہلے

تمنا ہے سنور جانے سے پہلے تجھے دیکھوں نکھر جانے سے پہلے کبھی مجھ پر بھی ہو نظر عنایت میری ہستی بکھر جانے سے پہلے تیرے پہلو میں ہی نکلے مرا دم یہی خواہش ہے مر جانے سے پہلے چلو ایک پیار کا پودھا لگائیں بہاروں کے گزر جانے سے پہلے گزرنا ہے مجھے ان کی گلی سے وضو کر لوں ادھر جانے سے ...

مزید پڑھیے

ہنس دے تو کھلے کلیاں گلشن میں بہار آئے

ہنس دے تو کھلے کلیاں گلشن میں بہار آئے وہ زلف جو لہرائیں موسم میں نکھار آئے مل جائے کوئی ساتھی ہر غم کو سنا ڈالیں بے چین مرا دل ہے پل بھر کو قرار آئے مدہوش ہوا دل کیوں بے چین ہے کیوں آنکھیں ہوں دور مے خانہ سے پھر کیوں اے خمار آئے کھل جائیں گی یہ کلیاں محبوب کے آمد سے جس راہ سے وہ ...

مزید پڑھیے

کہیں پہ چیخ ہوگی اور کہیں کلکاریاں ہوں گی

کہیں پہ چیخ ہوگی اور کہیں کلکاریاں ہوں گی اگر حاکم کے آگے بھوک اور لاچاریاں ہوں گی اگر ہر دل میں چاہت ہو شرافت ہو صداقت ہو محبت کا چمن ہوگا خوشی کی کیاریاں ہوں گی کسی کو شوق یوں ہوتا نہیں غربت میں جینے کا یقیناً سامنے اس کے بڑی دشواریاں ہوں گی یہ ہولی عید کہتی ہے بھلا کب اپنے ...

مزید پڑھیے

جس طرح سے پھولوں کی ڈالیاں مہکتی ہیں

جس طرح سے پھولوں کی ڈالیاں مہکتی ہیں میرے گھر کے آنگن میں بیٹیاں مہکتی ہیں پھول سا بدن تیرا اس قدر معطر ہے خواب میں بھی چھو لوں تو انگلیاں مہکتی ہیں ماں نے جو کھلائی تھیں اپنے پیارے ہاتھوں سے ذہن میں ابھی تک وہ روٹیاں مہکتی ہیں عمر ساری گزری ہو جس کی حق پرستی میں اس کی تو قیامت ...

مزید پڑھیے

جب سے ان کی مہربانی ہو گئی

جب سے ان کی مہربانی ہو گئی زندگی اب رات رانی ہو گئی اس نے مانگا زندگی سوغات میں نام اس کے زندگانی ہو گئی ابتدائے زندگی کی صبح سے شام تک پوری کہانی ہو گئی روٹھنا ہنسنا منانا پیار میں زندگی کتنی سہانی ہو گئی کھو گئے مصروفیت کی بھیڑ میں ختم اس میں زندگانی ہو گئی میں بھی ان کا ...

مزید پڑھیے

ہم نے ہر اک امید کا پتلا جلا دیا

ہم نے ہر اک امید کا پتلا جلا دیا دشواریوں کو پاؤں کے نیچے دبا دیا میری تمام انگلیاں گھائل تو ہو گئیں لیکن تمہاری یاد کا نقشہ مٹا دیا میں نے تمام چھاؤں غریبوں میں بانٹ دی اور یہ کیا کہ دھوپ کو پاگل بنا دیا اس کے حسیں لباس پہ اک داغ کیا لگا سارا غرور خاک میں اس کا ملا دیا جو زخم ...

مزید پڑھیے

خرابی کے نظارے اگ رہے ہیں

خرابی کے نظارے اگ رہے ہیں منافع میں خسارے اگ رہے ہیں ترے ہونٹوں پہ کلیاں کھل رہی ہیں مرے آنکھوں میں تارے اگ رہے ہیں فلک چومے ہے دھرتی کے لبوں کو کہ دھرتی سے کنارے اگ رہے ہیں تمہارے عشق میں جلنے کی خاطر بدن میں کچھ شرارے اگ رہے ہیں فلک کے چاند کو چھونے کی ضد میں رضاؔ جی پر ہمارے ...

مزید پڑھیے

جانے کیسے ہوں گے آنسو بہتے ہیں تو بہنے دو

جانے کیسے ہوں گے آنسو بہتے ہیں تو بہنے دو بھولی بسری بات پرانی کہتے ہیں تو کہنے دو ہم بنجاروں کو نا کوئی باندھ سکا زنجیروں میں آج یہاں کل وہاں بھٹکتے رہتے ہیں تو رہنے دو مفلس کی تو مجبوری ہے سردی گرمی بارش کیا روٹی کی خاطر سارے غم سہتے ہیں تو سہنے دو اپنے سکھ سنگ میرے دکھ کو ...

مزید پڑھیے

بہاریں کب لبوں کو کھولتی ہیں

بہاریں کب لبوں کو کھولتی ہیں بڑی حسرت سے کلیاں دیکھتی ہیں بھلے خاموش ہیں یہ لب تمہارے مگر آنکھیں بہت کچھ بولتی ہیں امیر شہر کا قبضہ ہے لیکن غریبوں کی دیواریں ٹوٹتی ہیں سمندر کو کہاں خشکی کا ڈر ہے وہ ندیاں ہیں جو اکثر سوکھتی ہیں نہ جانے کب ہٹا دیں زلف اپنی انہیں اک ٹک یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1272 سے 6203