علم و فن کا جو طلب گار نہیں ہو سکتا
علم و فن کا جو طلب گار نہیں ہو سکتا میرا دعویٰ ہے وہ فن کار نہیں ہو سکتا آج وہ عشق میں مرنے پہ بھی آمادہ ہے کل جو کہتا تھا مجھے پیار نہیں ہو سکتا جھوٹ بولا بھی تو معصوم کی جاں کی خاطر میں خطا وار گنہ گار نہیں ہو سکتا وہ یقیناً ہے مرے ساتھ مری رگ رگ میں اس کا دھوکا مجھے ہر بار ...