قومی زبان

بنا ہے دشمن گل جب سے باغباں اپنا

بنا ہے دشمن گل جب سے باغباں اپنا بھری بہار میں جلتا ہے آشیاں اپنا اگر ہو اذن تو اے میر کارواں پوچھوں چلا ہے کون سی منزل کو کارواں اپنا اب اس گلی میں مرا کوئی ہم جلیس نہیں قدم قدم پہ جہاں کل تھا رازداں اپنا جہاز اپنے حریفوں کے بے شمار سہی کرو نہ فکر کہ دریا ہے بے کراں اپنا زمیں ...

مزید پڑھیے

فکر کا سبزہ ملا جذبات کی کائی ملی

فکر کا سبزہ ملا جذبات کی کائی ملی ذہن کے تالاب پر کیا نقش آرائی ملی مطمئن ہوتا کہاں میرا دل جلوت پسند درمیان شہر بھی جنگل سی تنہائی ملی دیکھنے میں دور سے وہ کس قدر سادہ لگا پاس سے دیکھا تو اس میں کتنی گہرائی ملی ہر دریچہ میرے استقبال کو وا ہو گیا اجنبی گلیوں میں بھی مجھ کو ...

مزید پڑھیے

آگ سی برستی ہے سبز سبز پتوں سے

آگ سی برستی ہے سبز سبز پتوں سے دور بھاگتے ہیں لوگ شہر کے درختوں سے پچھلی رات جب ہر سو ظلمتوں کا پہرہ تھا ایک چاند نکلا تھا ان حسیں دریچوں سے جانے چھو گئے ہوں گے کس کے پھول سے پاؤں اک مہک سی اٹھتی ہے اس نگر کے رستوں سے آج کے زمانے میں کس کو ہے سکوں حاصل سب ہیں بر سر پیکار اپنی اپنی ...

مزید پڑھیے

یوں بنے سنورے ہوئے سے پھول ہیں گلزار میں

یوں بنے سنورے ہوئے سے پھول ہیں گلزار میں سیر کو نکلی ہوں جیسے لڑکیاں بازار میں یہ ترا حسن تکلم یہ ترا حسن بیاں ٹوٹنے لگتے ہیں آئینے تری گفتار میں کس نے پھینکا ہے یہ پتھر ذہن کے تالاب میں ایک طوفاں سا بپا ہے اب مرے افکار میں تیرے چہرے پر نظر آتے ہیں اپنے ہی نقوش ہے مرا دیدار بھی ...

مزید پڑھیے

چہرے پہ اس کے اشک کی تحریر بن گئی

چہرے پہ اس کے اشک کی تحریر بن گئی وہ آنکھ میرے درد کی تفسیر بن گئی میں نے تو یونہی راکھ میں پھیری تھیں انگلیاں دیکھا جو غور سے تری تصویر بن گئی ہر سمت ہیں کٹی پڑی پھولوں کی گردنیں اب کے صبا ہی باغ میں شمشیر بن گئی اس کی نظر تو کہتی تھی پرواز کے لیے میری ہی سوچ پاؤں کی زنجیر بن ...

مزید پڑھیے

اس کو دیکھا تھا فقط دو چار لمحوں کے لئے

اس کو دیکھا تھا فقط دو چار لمحوں کے لئے ہو گئے تنہا جہاں میں کتنی صدیوں کے لئے رات کا پچھلا پہر مجھ کو بشارت دے گیا آ رہی ہے روشنی تاریک گلیوں کے لئے کوئی سی رت ہو سدا پایا ہے ان کو سوگوار موسموں کا قہر ہے معصوم پتوں کے لئے اب کوئی چہرہ کوئی منظر ہمیں روکے گا کیا اٹھ چکے اپنے قدم ...

مزید پڑھیے

چمکے ہوئے ہیں دیوار و در رونق ہے بازاروں میں

چمکے ہوئے ہیں دیوار و در رونق ہے بازاروں میں کیسے کیسے لوگ آئے ہیں کیسی کیسی کاروں میں میں تو اس کے سامنے بیٹھا اس کا چہرہ پڑھتا تھا جانے وہ کیا ڈھونڈ رہا تھا انگریزی اخباروں میں وہ بھی دن تھے جب ہر چھٹی تیرے ساتھ گزرتی تھی آج مگر رکھا ہی کیا ہے ہفتوں اور اتواروں میں جانے کس ...

مزید پڑھیے

آج کچھ اندیشۂ صرصر نہیں

آج کچھ اندیشۂ صرصر نہیں اب کوئی ہم میں شکستہ پر نہیں سامنے شیشے تو ہیں لاکھوں مگر آج اپنے ہاتھ میں پتھر نہیں پھول زخموں کے کھلے ہیں جا بجا یہ تو میرے شہر کا منظر نہیں جل رہے ہیں ہم تو اپنی آگ میں آتشیں تیرا حسیں پیکر نہیں روشنی کی بھیک مانگوں غیر سے اتنا بھی تاریک میرا گھر ...

مزید پڑھیے

شہروں کی خاک چھان کر آیا ہوں گاؤں میں

شہروں کی خاک چھان کر آیا ہوں گاؤں میں کتنا سکوں ملا ہے درختوں کی چھاؤں میں وہ آ رہا ہے میری طرف رینگتا ہوا کانٹا طلب کا چبھ گیا پتھر کے پاؤں میں اب اس کے جسم پر بھی مزین ہیں دھجیاں جس کا شمار تھا کبھی رنگیں قباؤں میں دیتا رہا پہاڑ کی چوٹی سے وہ صدا اس کی صدائیں کھو گئیں اونچی ...

مزید پڑھیے

مرض ایسا ہے کہ جس کی دوا ہونے نہیں والی

مرض ایسا ہے کہ جس کی دوا ہونے نہیں والی کسی بھی حال میں تم سے وفا ہونے نہیں والی مرے حصہ کے جو بھی جام ہیں وہ سامنے رکھ دو مرے ہونٹوں سے کوئی التجا ہونے نہیں والی ہمیں ہی ڈھونڈنے ہیں راستے خود اپنی منزل کے یہ دنیا تو ہماری رہنما ہونے نہیں والی مجھے معلوم ہے سب کچھ یہیں رہ جائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1270 سے 6203