قومی زبان

سکوں نصیب ہوا اور نہ کچھ قرار مجھے

سکوں نصیب ہوا اور نہ کچھ قرار مجھے خزاں ہی لگتا ہے یہ موسم بہار مجھے وہ آئیں بزم تصور میں بس یہ کافی ہے قسم خدا کی یہی ہے وصال یار مجھے یہ بے خودی بھی محبت کی اک امانت ہے خدا کے واسطے کیجے نہ ہوشیار مجھے سمجھ سکے نہ مرے غم کو آپ بھی اب تک یہی ہے غم جو رلاتا ہے زار زار مجھے یہ ...

مزید پڑھیے

اشک بہا لے آہیں بھر لے

اشک بہا لے آہیں بھر لے دل کے بوجھ کو ہلکا کر لے میں نے تجھ سے پیار کیا ہے جو بھی تجھے کرنا ہو کر لے اب وہ مجھ کو بھول گیا ہے ایسی بات کا کون اثر لے خوش کامی نایاب ہوئی ہے ناکامی سے جھولی بھر لے غم خواروں سے گھبراتا ہے ایسے دل کی کون خبر لے کل تو ماٹی ہو جائے گا جتنا چاہے آج سنور ...

مزید پڑھیے

دور تک جن کا کوئی نقش نہیں ہے یارو

دور تک جن کا کوئی نقش نہیں ہے یارو ایسے ہی قدموں پہ اپنی بھی جبیں ہے یارو ایک سودائے محبت کے سوا دنیا میں میرا سرمایۂ دل کچھ بھی نہیں ہے یارو ہم نے سر خم نہ کیا سنگ زنوں کے آگے بس اسی جرم پہ مجروح جبیں ہے یارو وہ بھی تنہائی میں روتا ہے مرے دل کی طرح جانے کیوں مجھ کو یہ رنگین یقیں ...

مزید پڑھیے

عشق میں ہو کے تر بہ تر جانا

عشق میں ہو کے تر بہ تر جانا دل کی خواہش ہے تجھ پہ مر جانا عشق یہ ہے نہیں تو پھر کیا ہے میرا چھونا ترا نکھر جانا تجھ کو دیکھے تو پھر یہ لازم ہے چاند کے چہرے کا اتر جانا یہ مرا دل ہے سنگ مرمر سا چاندنی بن کے تم بکھر جانا تو محبت کا آشیانہ تھا چھوڑ کر تجھ کو اے شجرؔ جانا

مزید پڑھیے

سنا رہے ہیں وہ یوں اعتبار کے قصے

سنا رہے ہیں وہ یوں اعتبار کے قصے خزاں کے دور میں جیسے بہار کے قصے کہیں گے ہم بھی کبھی انتظار کے قصے تمہارا پیار شجر اور پیار کے قصے اداس لہجے میں کچھ شعر ہیں جو رومانی انہیں سمجھنا کہ سب ہیں ادھار کے قصے دلوں کی تہ میں صدا اشک ابلتے رہتے ہیں ہر ایک صحرا میں ہیں آبشار کے قصے یہ ...

مزید پڑھیے

کیوں کسی نے تمہیں روکا تو نہ تھا آ جاتے

کیوں کسی نے تمہیں روکا تو نہ تھا آ جاتے اور انجان بھی رستہ تو نہ تھا آ جاتے اس سے پہلے یہ بہانہ تو نہ تھا آ جاتے درمیاں اپنے زمانہ تو نہ تھا آ جاتے وہم ہے آپ کا ایسا تو نہ تھا آ جاتے بزم میں غیر کا چرچا تو نہ آ جاتے حال بیمار بھی اچھا تو نہ تھا آ جاتے زخم مجھ پر کوئی تازہ تو نہ تھا ...

مزید پڑھیے

اک نظر دیکھ لے تو ادھر زندگی

اک نظر دیکھ لے تو ادھر زندگی کیسے ہوتی ہے تجھ بن بسر زندگی اک صدی کی طرح عمر گزری مری زندگی تھی مگر مختصر زندگی ہاتھ سے ہاتھ چھوٹا ہے جب سے ترا ڈھونڈھتا ہوں تجھے در بدر زندگی روح سے دل سے رشتہ رہا ہی نہیں لوگ جیتے رہے جسم بھر زندگی سانس بوجھل ہوئی جسم بھی تھک گیا موت بولی کہ چل ...

مزید پڑھیے

خواہشوں کا مقام تھوڑی ہے

خواہشوں کا مقام تھوڑی ہے دل کا کوئی نظام تھوڑی ہے عمر ہے یہ مرض بھی ہونا ہے اب کوئی روک تھام تھوڑی ہے یوں ہی بس ہاں میں ہاں ملاتے ہیں آپ کا احترام تھوڑی ہے شاعری بے لباس اف توبہ بزم ہے یہ حمام تھوڑی ہے داد و تحسین سب اسی کی ہے میرا خود کا کلام تھوڑی ہے

مزید پڑھیے

کہیں کیا خندہ لب کیوں ہم ہیں یارو

کہیں کیا خندہ لب کیوں ہم ہیں یارو ہمارے پاس بھی کچھ غم ہیں یارو قتال غم تو لاکھوں مل رہے ہیں مگر کچھ ہی شہید غم ہیں یارو محبت میں بہ زعم جرأت دل ہم ان میں ہیں جو مستحکم ہیں یارو سیاست کے نشے میں اہل دانش شکار لغزش پیہم ہیں یارو ہماری مستیوں کا راز کیا ہے کہ جب مدت سے تشنہ ہم ہیں ...

مزید پڑھیے

خیالوں میں وفا اچھی لگی ہے

خیالوں میں وفا اچھی لگی ہے یہ جینے کی ادا اچھی لگی ہے جو اکثر پیار میں ہوتی ہے یارو مجھے تو وہ خطا اچھی لگی ہے ملی ہے جو محبت کی بدولت ہمیشہ وہ سزا اچھی لگی ہے بنی بیٹی جو دلہن باپ بولا ہتھیلی پر حنا اچھی لگی ہے میرے محبوب کی خوشبو جو لائی مجھے باد صبا اچھی لگی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 1161 سے 6203