سکوں نصیب ہوا اور نہ کچھ قرار مجھے
سکوں نصیب ہوا اور نہ کچھ قرار مجھے خزاں ہی لگتا ہے یہ موسم بہار مجھے وہ آئیں بزم تصور میں بس یہ کافی ہے قسم خدا کی یہی ہے وصال یار مجھے یہ بے خودی بھی محبت کی اک امانت ہے خدا کے واسطے کیجے نہ ہوشیار مجھے سمجھ سکے نہ مرے غم کو آپ بھی اب تک یہی ہے غم جو رلاتا ہے زار زار مجھے یہ ...