قومی زبان

خاطر حال مدارت نہیں کی جائے گی

خاطر حال مدارت نہیں کی جائے گی ہم سے اس طور محبت نہیں کی جائے گی روئیں گے سینۂ افلاک کے چاک ہونے تک اس قدر ہم سے مروت نہیں کی جائے گی کس طرح خواب کا امکان زیاں کم ہوگا آپ سے کشف و کرامت نہیں کی جائے گی سانحے خاک نے پھر باندھے مرے دامن سے دل سے اس درجہ صعوبت نہیں کی جائے گی ہم ...

مزید پڑھیے

مایوسیٔ نگاہ کا قائل نہیں رہا

مایوسیٔ نگاہ کا قائل نہیں رہا یعنی تمہاری راہ کا قائل نہیں رہا جب میں گناہ عشق کا پابند ہو گیا تب سے کسی گناہ کا قائل نہیں رہا ترک تعلقات کا افسوس ہے مگر تجدید رسم و راہ کا قائل نہیں رہا جس میں سوائے وعدۂ فردا کے کچھ نہ ہو ایسی کسی نگاہ کا قائل نہیں رہا لب ہائے صبح و شام سدا ...

مزید پڑھیے

زندگی دھوپ میں بسر کی ہے

زندگی دھوپ میں بسر کی ہے بات لمبی تھی مختصر کی ہے آ ہی جائے گا اپنے مطلب پہ بات پہلے ادھر ادھر کی ہے سانپ دیکھے ہیں آستینوں میں کیسی منزل یہ آج سر کی ہے رنج کو مجھ پہ جو تصرف ہے ایسا لگتا ہے بات گھر کی ہے درمیاں کوئی راستہ ہی نہیں بات اک دوسرے کے سر کی ہے ایک تصویر کی طرح چپ ...

مزید پڑھیے

تم سناؤ گے نویدیں کتنی

تم سناؤ گے نویدیں کتنی ہم کو تم سے تھی امیدیں کتنی ہم ہی مقروض تمہارے ٹھہرے گھر میں رکھیں ہیں رسیدیں کتنی کتنا باندھوگے ہوا میں گیسو کہہ بھی دو اور تمہیدیں کتنی میزباں گھر کی ہوئی ہے مہماں جان اک جاں سے کشیدیں کتنی خاک اب ہوگی کھلونوں کی قضا گو دکانیں ہی خریدیں کتنی

مزید پڑھیے

عیب تو ہوں گے چاند تارے میں

عیب تو ہوں گے چاند تارے میں سوچیے آپ اپنے بارے میں اتنا کہہ دو کہ اپنے تک رکھیے پھیل جائے گی بات سارے میں اور دل کش ہوئی ہیں نم آنکھیں میٹھی لگتی ہیں اور کھارے میں اپنی کرتے ہیں دل ضمیر و ذہن سارے افسر ہیں اس ادارے میں الجھنوں سے نجات پنہاں ہے اک بھروسے میں اک اشارے میں سب ...

مزید پڑھیے

چلو کہ زخم کریدیں خیال کیسا ہے

چلو کہ زخم کریدیں خیال کیسا ہے پھر اپنے آپ سے پوچھیں کہ حال کیسا ہے ستائیں اتنا کہ اک دن پلٹ کے وار کرے پھر اس کے بعد سزا دیں یہ جال کیسا ہے تمہارے طرز عدل کا کوئی جواب نہیں مگر جو پیدا ہوا ہے سوال کیسا ہے لگاؤ پیڑ تو سائے کی آرزو نہ رکھو ملے گی چھاؤں کسی کو ملال کیسا ہے تمہارے ...

مزید پڑھیے

پھر آس دے کے آج کو کل کر دیا گیا

پھر آس دے کے آج کو کل کر دیا گیا ہونٹوں کے بیچ بات کو شل کر دیا گیا صدیوں کا پھوک جسم سنبھالے تو کس طرح جب عمر کو نچوڑ کے پل کر دیا گیا اب تو سنوارنے کے لیے ہجر بھی نہیں سارا وبال لے کے غزل کر دیا گیا مجھ کو مری مجال سے زیادہ جنوں دیا دھڑکن کی لے کو ساز اجل کر دیا گیا کیسے بجھائیں ...

مزید پڑھیے

وفور شرم سے میں مر رہا تھا

وفور شرم سے میں مر رہا تھا خود اپنا تجزیہ جب کر رہا تھا جو میرے پیار کا دم بھر رہا تھا مرے حالات سے وہ ڈر رہا تھا خود اپنی ذات کو دھوکے دئے تھے گماں یہ ہے محبت کر رہا تھا اسے منزل کی حسرت کھا گئی ہے وہ جس کے ساتھ اک رہبر رہا تھا خدا جانے میں کیوں کر بچ گیا ہوں وہ مجھ پر وار پیہم ...

مزید پڑھیے

ان کے جور بے حد کو بھی خاموشی سے سہتا ہوں

ان کے جور بے حد کو بھی خاموشی سے سہتا ہوں جانے کن موہوم امیدوں کی رو میں میں بہتا ہوں تم کیا جانو ان باتوں سے تم تو دور ہی رہتے ہو میں جو باتیں تنہائی میں دل سے کرتا رہتا ہوں آج تمہارے پاس ہوں لیکن تم کو کوئی قدر نہیں کل تم خود سب سے پوچھو گے میں کس دیش میں رہتا ہوں زلف ہستی کو ...

مزید پڑھیے

جرأتوں حوصلوں امنگوں سے

جرأتوں حوصلوں امنگوں سے نعرۂ حق بلند کر پیارے جو تجھے کشت و خوں سے ملتی ہو اس مسرت پہ آہ بھر پیارے غم طرب خیز ہے کہ جاں لیوا اب یہ قصہ تمام کر پیارے ہاں ہر اک بات حسن رکھتی ہے اپنے اپنے مقام پر پیارے تو بھی عرفان آگہی پا لے تو بھی ہے صاحب نظر پیارے ہے تو مشکل مگر ہے امکاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1160 سے 6203