قومی زبان

تیرے نزدیک ہی ہر وقت بھٹکتا کیوں ہوں

تیرے نزدیک ہی ہر وقت بھٹکتا کیوں ہوں تو بتا پھول کے جیسا میں مہکتا کیوں ہوں میں نہ راتوں کا ہوں جگنو نہ کوئی تارہ پر اس کی آنکھوں میں مگر پھر بھی چمکتا کیوں ہوں اس پہیلی کا کوئی حل تو بتاؤ یارو ہجر کی راتوں میں آتش سا دہکتا کیوں ہوں گھر بنایا ہے ترے دل میں اسی دن سے صنم ساری ...

مزید پڑھیے

دل کے نزدیک سے گزرو تو بتا کر جانا

دل کے نزدیک سے گزرو تو بتا کر جانا یہ بھی چاہت کی ہے اک رسم نبھا کر جانا تم مجھے چھوڑ کے جاتے ہو تو جاؤ لیکن اپنے بھیجے ہوئے خط سارے جلا کر جانا کیا بتاؤں گا جدائی کا سبب لوگوں کو جو حقیقت ہے زمانہ کو بتا کر جانا تاکہ تنہائی سے گھبراؤں تو باتیں کر لوں اپنی تصویر کو کمرے میں لگا ...

مزید پڑھیے

درد کے انقلاب سے ہارا

درد کے انقلاب سے ہارا ایک پتھر گلاب سے ہارا سب سوالوں نے خودکشی کر لی جب میں اس کے جواب سے ہارا کیا مرا درد بانچ لیتا جو آئنہ اک نقاب سے ہارا اس کو بھی جیت کا گمان رہے میں بھی کچھ اس حساب سے ہارا آخری سانس لے رہی تھی رات جب چراغ آفتاب سے ہارا

مزید پڑھیے

کوئی امید کا تارا کہاں سے ملتا ہے

کوئی امید کا تارا کہاں سے ملتا ہے یہ مفلسی کو سہارا کہاں سے ملتا ہے سوال یہ نہیں خنجر ہے کن کے ہاتھوں میں سوال ہے کہ اشارہ کہاں سے ملتا ہے کوئی جو ڈوب کے دیکھے تو جان پائے گا ہمیں پتہ ہے کنارہ کہاں سے ملتا ہے بتا اے زندگی ہر دم تجھے مری خاطر فقط غموں کا پٹارا کہاں سے ملتا ...

مزید پڑھیے

ہم اسے پیار کا تحفہ بھی نہیں دے سکتے

ہم اسے پیار کا تحفہ بھی نہیں دے سکتے مسئلہ یہ ہے کہ دھوکا بھی نہیں دے سکتے بیچ مجھدھار میں خود چھوڑ دی جس نے پتوار اب اسے تم کوئی تنکا بھی نہیں دے سکتے دریا دل وہ کے ہمیں سونپ دی غم کی جاگیر خود غرض ہم اسے حصہ بھی نہیں دے سکتے چاند بھی دور ادھر اور ہوا بھی ہے خلاف ہم تو اڑتا ہوا ...

مزید پڑھیے

ہے شکایت دل کو ایسا کیوں نہیں

ہے شکایت دل کو ایسا کیوں نہیں جب تو میرا ہے تو لگتا کیوں نہیں جب نظر سے مل نہیں پاتی نظر خواب سے باہر نکلتا کیوں نہیں لگ رہی ہے کیوں تھمی دنیا مجھے تو بھی موسم سا بدلتا کیوں نہیں ہے زباں چپ اور دھڑکن تیز ہے تو اشاروں کو سمجھتا کیوں نہیں جسم ٹھنڈا پڑ گیا سنتوشؔ کا آگ اپنی اس کو ...

مزید پڑھیے

اس نے بکھرے کاغذوں کو چھو کے صندل کر دیا

اس نے بکھرے کاغذوں کو چھو کے صندل کر دیا اک ادھوری سی غزل کو یوں مکمل کر دیا کچھ تو دیوانہ تھا میں پہلے ہی اس کے عشق میں اس نے چلمن یوں ہٹائی مجھ کو پاگل کر دیا اس کے جلووں کا کرشمہ تھا کہ جس نے دوستو ساری دنیا کو مری آنکھوں سے اوجھل کر دیا میں بہت الجھا ہوا تھا زندگی کے پھیر ...

مزید پڑھیے

ہے کہاں کون ہے کیسا وہ نظر آتا ہے

ہے کہاں کون ہے کیسا وہ نظر آتا ہے خود میں کم مجھ میں زیادہ وہ نظر آتا ہے کیا تعلق ہے مرا اس سے بتاؤں کیسے ہر دعا میں مجھے چہرہ وہ نظر آتا ہے تشنگی جب مجھے دیدار کی تڑپائے تو ایسے حالات میں دریا وہ نظر آتا ہے گھیر لیتے ہیں مجھے جب بھی اندھیرے غم کے میرا ہمدرد اکیلا وہ نظر آتا ...

مزید پڑھیے

اس نے بکھرے کاغذوں کو چھو کے صندل کر دیا

اس نے بکھرے کاغذوں کو چھو کے صندل کر دیا اک ادھوری سی غزل کو یوں مکمل کر دیا کچھ تو دیوانہ تھا میں پہلے ہی اس کے عشق میں اس نے چلمن یوں ہٹائی مجھ کو پاگل کر دیا اس کے جلوؤں کا کرشمہ تھا کہ جس نے دوستو ساری دنیا کو مری آنکھوں سے اوجھل کر دیا میں بہت الجھا ہوا تھا زندگی کے پھیر ...

مزید پڑھیے

کتنی گہری یہ شناسائی لگے

کتنی گہری یہ شناسائی لگے جھوٹ وہ بولے تو سچائی لگے اتنا پاگل ہوں میں ان کے عشق میں بھیڑ میں بھی مجھ کو تنہائی لگے تم نہیں ہو ساتھ جب میرے صنم شول جیسی مجھ کو پروائی لگے باغباں تیری بدولت ہی یہاں ہر کلی گلشن کی مرجھائی لگے چاہتا ہوں اس قدر تجھ کو کہ اب ہر برائی تیری اچھائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1162 سے 6203