قومی زبان

بہ فیض گردش ایام ہم کو

بہ فیض گردش ایام ہم کو کسی صورت نہیں آرام ہم کو سکوں دشمن جنوں پرور ارادو نہ کر دینا کہیں بدنام ہم کو فسردہ خلوتوں میں یاد آ کر رلاتے ہیں وہ صبح و شام ہم کو اٹھا اے مطربا ساز محبت پلا اے ساقیٔ گلفام ہم کو نہ ہم کو زندگی کی ہے ضرورت نہ دنیا سے ہے کوئی کام ہم کو کسی کی بے وفائی کے ...

مزید پڑھیے

رہ طلب میں نہ کر اس طرح خراب مجھے

رہ طلب میں نہ کر اس طرح خراب مجھے ٹھہرنے دے کہیں اے چشم انتخاب مجھے بلا رہا ہے کہیں عشق سوئے دار و رسن پکارتا ہے کہیں حس بے نقاب مجھے میں ایک ذرۂ ناچیز ہی سہی لیکن نگاہ والے سمجھتے ہیں آفتاب مجھے بس ایک جرم محبت پہ اس ستم گر نے دئے ہیں شام و سحر سیکڑوں عذاب مجھے لٹی لٹی سی شب غم ...

مزید پڑھیے

بے رخی سے نہ پیش آ ساقی

بے رخی سے نہ پیش آ ساقی ٹوٹ جائے گا دل مرا ساقی بھول جاؤں میں رنج و غم سارے آج ایسا نشہ پلا ساقی میکشوں سے حجاب کیا معنی سامنے بے نقاب آ ساقی آہ ماضی مرا حسیں ماضی لوٹ کر اب نہ آئے گا ساقی راز میری سیاہ بختی کا کون جانے مرے سوا ساقی دشت غم میں بھٹک گیا ہوں میں راہ کوئی مجھے ...

مزید پڑھیے

پردہ ہٹا کے جب وہ حسیں مسکرائے گا

پردہ ہٹا کے جب وہ حسیں مسکرائے گا بجلی ہمارے ہوش و خرد پر گرائے گا کیا تھی خبر کہ ترک تعلق کے بعد بھی ہم کو وہ شوخ پردہ نشیں یاد آئے گا امید و آرزو کی تباہی تو دیکھ لی اب اور کیا ہمیں یہ مقدر دکھائے گا اے قلب‌ زار صبر و تحمل سے کام لے کب تک کسی کی یاد میں آنسو بہائے گا میری زباں ...

مزید پڑھیے

ہوا ہے ہر طرح پامال قلب ناتواں میرا

ہوا ہے ہر طرح پامال قلب ناتواں میرا بگاڑے گا بھلا اب اور کیا یہ آسماں میرا سناؤں اپنی روداد محبت کس کو دنیا میں نہ کوئی ہم نفس میرا نہ کوئی رازداں میرا نظر سے دور ہے منزل ابھی ہے بے بسی اپنی بھٹکتا ہے ابھی راہ جنوں میں کارواں میرا ہزاروں آندھیاں آئیں ہزاروں بجلیاں چمکیں رہے ...

مزید پڑھیے

اپنی ناکام محبت پہ ہنسی آتی ہے

اپنی ناکام محبت پہ ہنسی آتی ہے دل کی بگڑی ہوئی قسمت پہ ہنسی آتی ہے میں نے سمجھا تھا سہارا جسے اپنے دل کا آج مجھ کو اسی الفت پہ ہنسی آتی ہے ڈھل گئی جو کسی بے ربط سے افسانے میں دل کی اس تازہ حقیقت پہ ہنسی آتی ہے چاہتا ہے کہ انہیں شام و سحر پیار کرے دل معصوم کی حسرت پہ ہنسی آتی ...

مزید پڑھیے

خاک تک میرے آشیانے کی

خاک تک میرے آشیانے کی لے اڑی ہے ہوا زمانے کی اپنی تقدیر آزمانے کی آرزو ہے کسی کو پانے کی کیا کرو گے ہمارا دل لے کر تم کو عادت ہے بھول جانے کی سچ کہو کس سے پیار ہے تم کو ہم سے کیا بات ہے چھپانے کی ہم یوں ہی چاہتے رہیں گے تمہیں ہم کو پروا نہیں زمانے کی برق و باراں سے پوچھ اے ...

مزید پڑھیے

داستاں ہے حسیں شراروں کی

داستاں ہے حسیں شراروں کی زندگی آگ ہے چناروں کی شب غم کے گھنے اندھیروں میں کھو گئی روشنی ستاروں کی میں خزاں کو لگا چکا ہوں گلے اب ضرورت نہیں بہاروں کی آپ کی میری دوستی یوں ہے جیسے لہروں سے ہو کناروں کی بے سہارو یوں ہی جیے جاؤ لاج رہ جائے گی سہاروں کی ان کے غم میں گزر گئی ...

مزید پڑھیے

کہیں دن ڈھلا کہیں شب ہوئی کہیں شام آئی سحر گئی

کہیں دن ڈھلا کہیں شب ہوئی کہیں شام آئی سحر گئی کسی بے وفا کی تلاش میں مری عمر یوں ہی گزر گئی تیرے حسن عشق نواز نے مجھے خوش نصیب بنا دیا مرے رنج و غم کو مٹا دیا مری خستہ حالی سنور گئی میں کسے سناؤں یہ داستاں میں کسے بتاؤں یہ ماجرا کسی نازنیں کی ہر اک ادا مرے دل جگر میں اتر گئی ترے ...

مزید پڑھیے

چھو کر کسی کی زلف معطر مچل گئے

چھو کر کسی کی زلف معطر مچل گئے جھونکے خنک ہواؤں کی خوشبو میں ڈھل گئے کس سے کریں امید وفا اس جہان میں اس دل کو جن پہ ناز تھا وہ بھی بدل گئے جس وقت ہم نے جھوم کر عزم سفر لاکھوں چراغ راہ محبت میں جل گئے اے دوست ہم نے عشق و محبت کی راہ میں ٹھوکر تو سخت کھائی تھی لیکن سنبھل گئے نیرؔ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1107 سے 6203