قومی زبان

تم سا دل کش کوئی دیکھا ہی نہیں

تم سا دل کش کوئی دیکھا ہی نہیں آئنہ جھوٹ بولتا ہی نہیں سن کے تعریف اپنی شرمائے جیسے خود سے وہ آشنا ہی نہیں جان لے کر وہ کہہ اٹھے مجھ سے اس میں میری کوئی خطا ہی نہیں چارہ گر کو خبر نہیں شاید درد دل کی کچھ دوا ہی نہیں ہم نے اس دل کو لاکھ سمجھایا زور دل پر مگر چلا ہی نہیں یہ مرا دل ...

مزید پڑھیے

ضرورت ہے کسی بھی خواب کی تعبیر سے پہلے

ضرورت ہے کسی بھی خواب کی تعبیر سے پہلے بنا لو ذہن میں نقشہ کوئی تعمیر سے پہلے ازل سے آشنا ہے دل ترے جلووں سے اے ہمدم تصور میں تری تصویر تھی تصویر سے پہلے بڑی کوشش کرے انسان حاصل کچھ نہیں ہوتا ملا ہے وقت سے پہلے نہ کچھ تقدیر سے پہلے نشیمن برق کی زد پر بنانا چاہتا ہوں میں تسلسل ہے ...

مزید پڑھیے

اک ذرا گرم لو کے چلتے ہی

اک ذرا گرم لو کے چلتے ہی پھول مرجھا گئے ہیں کھلتے ہی جاگ اٹھیں ضرورتیں سب کی آفتاب سحر نکلتے ہی دن گئے ریگ مشت کی مانند رہ گئے لوگ ہاتھ ملتے ہی سج کے آئی ہے آج شام غم بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی اس کے تیور بدلنے لگتے ہیں میرے حالات کے بدلتے ہی جانے کیسا تضاد ہے ہم میں گر پڑے تم مرے ...

مزید پڑھیے

کس دکھے دل کی بد دعا ہوں میں

کس دکھے دل کی بد دعا ہوں میں آج کل خود سے بھی خفا ہوں میں کوئی مجھ سے مجھے ملا دیتا جسم سے اپنے لاپتہ ہوں میں ہم پہ الزام کوئی مت رکھنا وہ مرا اس کا ہو گیا ہوں میں میرے نزدیک آ گیا ہے تو تیری آہٹ کو سن رہا ہوں میں جن کی چاہت میں ہو گیا برباد اب وہ کہتے ہیں بے وفا ہوں میں درد سینے ...

مزید پڑھیے

پتا تا زندگی پایا نہ خوشیوں کے ٹھکانے کا

پتا تا زندگی پایا نہ خوشیوں کے ٹھکانے کا یہ جرمانہ لگا ہم پر کسی سے دل لگانے کا ہمارے حوصلوں کی آسماں بھی داد دیتا ہے طواف اب بھی کیا کرتی ہے بجلی آشیانے کا مری آنکھوں میں اپنے گاؤں کے دل کش مناظر ہیں ارادہ کر لیا ہے میں نے بھی گھر لوٹ جانے کا غزل کا پیرہن میں ذہن کے سانچے میں ...

مزید پڑھیے

کیسی یہ روشنی ہے بکھرتی نہیں کبھی

کیسی یہ روشنی ہے بکھرتی نہیں کبھی تاریک راستوں پہ تو پڑتی نہیں کبھی کیسا یہ چھا گیا ہے مری زندگی پہ زنگ کوشش ہزار پہ بھی اترتی نہیں کبھی یکسانیت کا ہو گئی عنوان زندگی بگڑی ہے ایسی بات سنورتی نہیں کبھی رہتا ہے زندگی کو بہاروں کا انتظار حرکات کج رواں سے تو ڈرتی نہیں کبھی ہے ...

مزید پڑھیے

بھری محفل میں تنہائی کا عالم ڈھونڈ لیتا ہے

بھری محفل میں تنہائی کا عالم ڈھونڈ لیتا ہے جو آئے راس دل اکثر وہ موسم ڈھونڈ لیتا ہے کسی لمحے اکیلا پن اگر محسوس ہو دل کو خیال یار کے دامن سے کچھ غم ڈھونڈ لیتا ہے کسی رت سے رہے مشروط کب ہیں روز و شب میرے جہاں جیسا یہ چاہے دل وہ موسم ڈھونڈ لیتا ہے غم فرقت کا دل کو بوجھ کرنا ہو اگر ...

مزید پڑھیے

گھر سے بے پردہ پری رو جو نکل جاتے ہیں

گھر سے بے پردہ پری رو جو نکل جاتے ہیں دیکھنے والوں کے ایمان بدل جاتے ہیں آسماں کرتا ہے جو چشم عنایت اپنی رنگ پت جھڑ کے بہاروں میں بدل جاتے ہیں اپنی نظروں سے جو گرتے ہیں سنبھلتے ہی نہیں ٹھوکریں کھا کے تو رستے میں سنبھل جاتے ہیں امن کی شاخ پہ بیٹھے ہوئے پنچھی سارے شر پسندوں کی ...

مزید پڑھیے

وہ سن نہ پائے تو صدا کیا ہے

وہ سن نہ پائے تو صدا کیا ہے آہ و زاری سے فائدہ کیا ہے کوئی پوچھے تو عشق والوں سے درد کا دل سے واسطہ کیا ہے حق بیانی ملی ہے ورثے میں اتنی حیرت سے دیکھتا کیا ہے سارے اپنے ہوئے ہیں بیگانے ہم کو بیگانوں سے گلہ کیا ہے جھوٹ کی گرد صاف کر ڈالو سچ نہ بولے تو آئنہ کیا ہے تم ابھی یاد بھی ...

مزید پڑھیے

مٹی کا جسم اور صف معتبر میں ہے

مٹی کا جسم اور صف معتبر میں ہے کتنا بڑا کمال کف کوزہ گر میں ہے ایسی ہوس چھپی ہوئی قلب بشر میں ہے گھر میں ہیں اور وسعت دنیا نظر میں ہے شوق سخن وری کو مٹاتا میں کس طرح یہ تو رچی بسی مرے قلب و جگر میں ہے مل جائے بے قرار کو لطف سکون دل ایسی تو بس مثال خدا ہی کے گھر میں ہے تم کو تمہاری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1066 سے 6203