تم سا دل کش کوئی دیکھا ہی نہیں

تم سا دل کش کوئی دیکھا ہی نہیں
آئنہ جھوٹ بولتا ہی نہیں


سن کے تعریف اپنی شرمائے
جیسے خود سے وہ آشنا ہی نہیں


جان لے کر وہ کہہ اٹھے مجھ سے
اس میں میری کوئی خطا ہی نہیں


چارہ گر کو خبر نہیں شاید
درد دل کی کچھ دوا ہی نہیں


ہم نے اس دل کو لاکھ سمجھایا
زور دل پر مگر چلا ہی نہیں


یہ مرا دل تو ہو چکا تیرا
میرے بس میں وہ اب رہا ہی نہیں


میری ہستی کو آس ہے تجھ سے
بن تیرے کوئی آسرا ہی نہیں


درد فرقت فغاں خلش نفرت
یہ اثاثہ مجھے ملا ہی نہیں