بنجر زمیں تھی اور مکاں کوئی بھی نہ تھا
بنجر زمیں تھی اور مکاں کوئی بھی نہ تھا میں اس جگہ بسا تھا جہاں کوئی بھی نہ تھا وحشت برس رہی تھی جہان خراب میں دل کو لبھا سکے وہ سماں کوئی بھی نہ تھا سب سے جدا ہوا تھا میں جس کے یقین پر ہو جائے گا جدا وہ گماں کوئی بھی نہ تھا تپتی ہوئی زمین پہ برسوں چلا ہوں میں لیکن مرے قدم کا نشاں ...