قومی زبان

کہنے کو تو ہے کیا نہیں

کہنے کو تو ہے کیا نہیں کیوں ہے خلش پتا نہیں مجھ سے ہوئے وہ کیوں خفا ان سے مجھے گلا نہیں جس کی تھی ہم کو جستجو کیوں وہ ہمیں ملا نہیں پھر بھی سزا مجھے ملی جب کہ میری خطا نہیں الجھا ہوں اتنا عشق میں مجھ کو مرا پتا نہیں یوں تو بہت ہیں راحتیں غم کی مرے دوا نہیں کہنے کو تو ہیں دور ...

مزید پڑھیے

زندگانی جب کہانی ہو گئی

زندگانی جب کہانی ہو گئی وہ کہانی خود پرانی ہو گئی زندگی نے جو مسرت پائی تھی وہ خوشی آنکھوں کا پانی ہو گئی جان دی دل دے دیا سودا کیا بات یہ ساری زبانی ہو گئی بات اس نے راستے میں جب نہ کی میں یہ سمجھا وہ سیانی ہو گئی داغ دامن پہ ہمارے جو لگے کیا یہ الفت کی نشانی ہو گئی ان کے آنے ...

مزید پڑھیے

نہ سنا اب مجھے تو افسانہ (ردیف .. ا)

نہ سنا اب مجھے تو افسانہ جل اٹھے نہ کہیں یہ پروانہ راتیں کاٹیں ہیں کروٹیں لے کر عشق کرنے کا ہے یہ ہرجانا آگ کا دریا پار کرنا ہے عشق کی راہ سے گزر جانا ان کے آنے سے چین آتا ہے ان کا جانا ہے جان کا جانا قتل کرنا نہیں ہے منصوبہ ان کی خواہش ہے مجھ کو تڑپانا مانتا ہی نہیں کبھی ...

مزید پڑھیے

مے کدوں میں تو عام پیتے ہیں

مے کدوں میں تو عام پیتے ہیں ہم نگاہوں سے جام پیتے ہیں تیری تصویر سامنے رکھ کر کر کے تجھ سے کلام پیتے ہیں غم فرقت میں بس دو گھونٹ پیا آپ کرتے ہیں نام پیتے ہیں آؤ پی لو کے صبح صادق ہے آؤ بیٹھو ہے شام پیتے ہیں میں زمانے کو میکدے سا لگوں آؤ اس طرح جام پیتے ہیں قید بوتل میں ہیں عجب ...

مزید پڑھیے

نام اپنا بھی کر گئے ہوتے

نام اپنا بھی کر گئے ہوتے عاشقی میں جو مر گئے ہوتے تیرا کوچہ اگر نہیں ہوتا پھر نہ جانے کدھر گئے ہوتے بے خودی میں نہ گر خودی پاتے ہم حدوں سے گزر گئے ہوتے آس ان کو نہیں تھی آنے کی ورنہ اب تک سنور گئے ہوتے گر وہ آتے مری عیادت کو زخم دل میرے بھر گئے ہوتے بادہ نوشی تھی تیرے غم کا ...

مزید پڑھیے

مجھ سے آنکھیں لڑا رہا ہے کوئی

مجھ سے آنکھیں لڑا رہا ہے کوئی میرے دل میں سما رہا ہے کوئی ہے تری طرح روز راہوں میں مجھ سے تجھ کو چھڑا رہا ہے کوئی پھر ہوئے ہیں قدم یہ من من کے پاس اپنے بلا رہا ہے کوئی نکلوں ہر راہ سے اسی کی طرف راستے وہ بتا رہا ہے کوئی کیا نکل جاؤں عہد ماضی سے یاد بچپن دلا رہا ہے کوئی پھر سے ...

مزید پڑھیے

کرتے ہیں اگر مجھ سے وہ پیار تو آ جائیں

کرتے ہیں اگر مجھ سے وہ پیار تو آ جائیں پھر آ کے چلے جائیں اک بار تو آ جائیں ہے وقت یہ رخصت کا بخشش کا تلافی کا سمجھیں نہ جو گر اس کو بے کار تو آ جائیں اک دید کی خواہش پہ اٹکا ہے یہ دم میرا کم کرنا ہو میرا کچھ آزار تو آ جائیں جاں دینے کو راضی ہوں اے پیک اجل لیکن کچھ دیر تو رک جاؤ ...

مزید پڑھیے

دوست یا دشمن جاں کچھ بھی تم اب بن جاؤ

دوست یا دشمن جاں کچھ بھی تم اب بن جاؤ جینے مرنے کا مرے اک تو سبب بن جاؤ ہو مثالوں میں نہ جو حسن عجب بن جاؤ کس نے تم سے یہ کہا تھا کہ غضب بن جاؤ آ بسو دل کی طرح گھر میں بھی اے خوش الحان زندگی بھر کو مرا ساز طرب بن جاؤ رشک قسمت پہ مری سارے زمانے کو رہے ہم سفر تم جو لئے اپنے یہ چھب بن ...

مزید پڑھیے

مناظر حسیں ہیں جو راہوں میں میری

مناظر حسیں ہیں جو راہوں میں میری تمہیں ڈھونڈتے ہیں وہ بانہوں میں میری انہیں کیا خبر مجھ میں رچ سے گئے ہو بچھڑ کر بھی مجھ سے ہو آہوں میں میری عجب بے خودی آپ ہی آپ چھائے ترا نام آئے جو آہوں میں میری ہر اک سو ہے رونق خیالوں سے تیرے ابھی بھی مہک تیری بانہوں میں میری مرے ساتھ بھی ہو ...

مزید پڑھیے

درمیاں فاصلہ نہیں ہوتا

درمیاں فاصلہ نہیں ہوتا تو اگر بے وفا نہیں ہوتا عشق کی ڈور ہی کچھ ایسی ہے جس کا کوئی سرا نہیں ہوتا آشنا ہم وفا سے ہو پاتے وہ اگر بے وفا نہیں ہوتا سچ تو یہ ہے کبھی برائی سے آدمی کا بھلا نہیں ہوتا وہ نہ آتے اگر گلستاں میں کوئی بھی گل کھلا نہیں ہوتا ان کتابوں کو ہم نہیں پڑھتے جن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1065 سے 6203