قومی زبان

پہنچ گیا جو تصور کسی کی محفل تک

پہنچ گیا جو تصور کسی کی محفل تک چراغ جل گئے گویا نگاہ سے دل تک وہ اجنبی سی نگاہیں اتر گئیں دل تک مسافر آ گئے بھولے سے اپنی منزل تک ہجوم حسرت و ارماں کا ذکر اور دل تک پہنچ سکا نہ کوئی اپنے ساتھ منزل تک دعا ملی تھی تباہی کی جن سفینوں کو وہ لوٹ آئے ہیں طوفاں کو لے کے ساحل تک وہ جن ...

مزید پڑھیے

ظلم سہ کر انہیں حسرت سے تکا کرتے ہیں

ظلم سہ کر انہیں حسرت سے تکا کرتے ہیں ہم نگاہوں سے بھی فریاد کیا کرتے ہیں مجھ سے یہ کہہ کے وہ تاویل جفا کرتے ہیں ہم تجھے خوگر تسلیم و رضا کرتے ہیں غم میں ہم عیش کو یوں جلوہ نما کرتے ہیں درد کو درد کی لذت میں فنا کرتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ غم سے ہو خوشی کی تکمیل اشک بھی جوش مسرت میں ...

مزید پڑھیے

جنوں ہے تو قفس کب تک قفس کی تیلیاں کب تک

جنوں ہے تو قفس کب تک قفس کی تیلیاں کب تک نہ آئے گی ادھر آخر ہوائے گلستاں کب تک رہے گی میرے دم سے گرمیٔ بزم جہاں کب تک فغاں پر ناز ہے مجھ کو مگر تاب فغاں کب تک مرا افسانۂ ہستی ہے افسانہ در افسانہ سنے گا کوئی میری زندگی کی داستاں کب تک بدل دے خود نظام دہر کو گر تجھ میں ہمت ہے کرے گا ...

مزید پڑھیے

تسکین اضطراب تمنا نہ کیجئے

تسکین اضطراب تمنا نہ کیجئے مجھ سے جدا ابھی مری دنیا نہ کیجئے دیوانۂ فریب تمنا نہ کیجئے میری طرف سے مجھ کو پکارا نہ کیجئے کچھ دور چلنے دیجئے اب خود ہی عشق کو ہر ہر قدم پہ آپ اشارا نہ کیجئے دل کے سوا تمام کتاب حیات میں اک لفظ بھی نہیں جسے افسانہ کیجئے اٹھتے ہیں جب جنوں میں ...

مزید پڑھیے

احساس غم میں آج وہ یوں جلوہ گر ہوا

احساس غم میں آج وہ یوں جلوہ گر ہوا رہ رہ کے مجھ کو دل پہ گمان نظر ہوا اتنا قریب ہو کے کوئی جلوہ گر ہوا یہ بھی خبر نہیں کہ میں کب بے خبر ہوا گزرا ہے یوں زمانے سے بیگانہ ہو کے عشق غم کا اثر ہوا نہ خوشی کا اثر ہوا میرے قفس تک آ نہ سکا کوئی انقلاب مجھ کو تو آج تک نہ غم بال و پر ہوا منزل ...

مزید پڑھیے

للہ کوئی کوشش نہ کرے الفت میں مجھے سمجھانے کی

للہ کوئی کوشش نہ کرے الفت میں مجھے سمجھانے کی جلنے کے علاوہ اور کوئی منزل ہی نہیں پروانے کی ڈرنے کو تو کتنے ڈرتے ہیں رسوائی سے وہ دیوانے کی اک حد تو مقرر کر دیتے زلفوں کے لیے لہرانے کی نظریں تو ملاتی تھیں ان سے کچھ بات نہ تھی گھبرانے کی اے عشق مگر ہم چوک گئے یہ چوٹ تھی دل پر ...

مزید پڑھیے

یہ آخری زحمت ہے ذرا اور ٹھہر جائیں

یہ آخری زحمت ہے ذرا اور ٹھہر جائیں بیمار ادھر جائے تو پھر آپ ادھر جائیں یوں ظلمت شب میں چمک اٹھتے ہیں ستارے جس طرح سے معصوم بھری نیند میں ڈر جائیں اچھا تیری محفل سے چلے جاتے ہیں لیکن یہ اور بتا دے کہ کہاں جائیں کدھر جائیں اے دست جنوں دیدۂ خوں بار کی سننا دامن میں جو موتی ہیں ...

مزید پڑھیے

راہ میں حائل نہ ہو جاتے اگر دیر و حرم

راہ میں حائل نہ ہو جاتے اگر دیر و حرم اور شاید دور تک ملتے ترے نقش قدم عشق میں فرق مراتب کو کبھی بھولے نہ ہم اپنی خاطر آہ و زاری ان کی خاطر ضبط غم جب بھی ہاتھ آئی بقدر ظرف ہی ثابت ہوئی پی کے دیکھی ہے زیادہ سے زیادہ کم سے کم کر لیا ہے میں نے ہر اک حادثے کا تجزیہ مسکرانے سے مسرت بن ...

مزید پڑھیے

سر بزم میری نظر سے جب وہ نگاہ ہوش ربا ملی

سر بزم میری نظر سے جب وہ نگاہ ہوش ربا ملی کبھی زندگی کا مزہ ملا کبھی زندگی کی سزا ملی کئی منزلوں سے گزر گئے تو ہمیں یہ راہ وفا ملی کہیں دل ملا کہیں درد دل کہیں درد دل کی دوا ملی تمہیں یاد ہے مرے ساتھیو کہ بچھڑ گئے تھے وہیں سے ہم تمہیں درد دل کی دوا ملی مجھے درد دل کی دعا ملی نہ ...

مزید پڑھیے

جب اٹھایا ہے جام شراب کہن

جب اٹھایا ہے جام شراب کہن پڑ گئی عصر نو کی جبیں پر شکن دیکھ کر رہرو عشق کے بانکپن کھو گئے رہ نما لٹ گئے راہزن کچھ تو دو فن کو للہ اے اہل فن زندگی ارتقا سادگی بانکپن رہ نما رہ نما راہزن راہزن ان کے بس کا نہیں اپنا دیوانہ پن کیا خبر کل ہماری جگہ کون ہو ہوشیار اے خدایان دار و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1062 سے 6203