قومی زبان

اپنے گاؤں میں

جب کسی فرصت میں ہم آتے ہیں اپنے گاؤں میں کیا بتائیں کیا خوشی پاتے ہیں اپنے گاؤں میں روز گھر سے ہم نکلتے ہیں ٹہلنے کے لئے ساتھ ہو جاتے ہیں کچھ بچے بھی چلنے کے لئے کب کمی ہوتی ہے کچھ بھی دل بہلنے کے لئے پیار کے جب گیت ہم گاتے ہیں اپنے گاؤں میں کیا بتائیں کیا خوشی پاتے ہیں اپنے گاؤں ...

مزید پڑھیے

روپ نگر کی سیر

ننھے منے دو بچوں کی ہے دلچسپ کہانی روپ نگر کی سیر کریں گے بات جو دل میں ٹھانی لاکھ منایا ماں نے لیکن بات نہ اس کی مانی صبح سویرے گھر سے نکلے گھر والوں سے چھپ کے چلتے چلتے دونوں بچے اک جنگل میں پہنچے شدت کی گرمی تھی اس پہ دونوں ہی تھے بھوکے تھوڑی دیر چلے جنگل میں دیکھا باغ ...

مزید پڑھیے

شکست کھا کے تیرے غم سے کامیاب ہوا

شکست کھا کے تیرے غم سے کامیاب ہوا دل اس مقام پہ ڈوبا کہ آفتاب ہوا سکون شوق مبدل بہ اضطراب ہوا کسی نے پردہ کیا اور میں بے نقاب ہوا تری نظر ہی تو محفل کی جان ہے ساقی نگاہ تو نے اٹھائی کہ انقلاب ہوا مری جبیں کو دم نزع چومنے والے غروب ہونے لگا میں تو آفتاب ہوا خوشی کا کوئی نتیجہ نہ ...

مزید پڑھیے

پھولوں کے روبرو تھا ستاروں کے سامنے

پھولوں کے روبرو تھا ستاروں کے سامنے وہ شخص جل رہا تھا ہزاروں کے سامنے میں ذات کے غلام جزیرے میں قید تھا چرچا مری انا کا تھا یاروں کے سامنے چہرے بہت حسیں تھے مگر دل بہت اداس منظر دھواں دھواں تھے بہاروں کے سامنے باتیں ہمارے پیار کی شعلہ بیان تھیں تنکوں کے آشیاں تھے شراروں کے ...

مزید پڑھیے

ڈوبتی کرنیں

وہ پیوستہ نگاہیں اپنے سینے میں اتر جائیں ترستی آتما کو لمحہ بھر تو چین آ جائے بکھرتی ساعتیں پھر ایک نقطہ میں سمٹ جائیں مچلتی چاندی کہسار کے دامن پہ لہرائے فلک کے نیلگوں ساگر سراپا نور بن جائیں مگر میں نے سنا ہے چاندنی جب یوں اترتی ہے تو نیلے پانیوں میں گونجتی موجیں الجھتی ...

مزید پڑھیے

دائروں کی فصیلوں سے ڈرتے ہو

دائرے سے ٹوٹ کر گر پڑیں گے ابھی اور ہم اپنے ہونے کی پاداش میں بوڑھی صدیوں کی ٹوٹی ہوئی قوس پر ایک تاریک نقطے میں کھو جائیں گے دائروں کے مقابر میں سو جائیں گے دائرے خواہشوں کے مقابر سہی دائرے آرزو کے مینار ہیں دائرے بے ثباتی کے مرقد نہیں دائرے گزرے وقتوں کے آثار ہیں دائروں کی ...

مزید پڑھیے

رات دن گزرتی ہے میری زندگی تنہا

رات دن گزرتی ہے میری زندگی تنہا جیسے صحن گلشن میں ہو کہیں کلی تنہا پہلے تیرے جلووں کے ساتھ ساتھ آتی تھی آ گئی مرے لب پر آج کیوں ہنسی تنہا موند لیں ستاروں نے تھک کے خود بہ خود آنکھیں چاند کیوں لٹاتا ہے اپنی چاندنی تنہا آج ایک مدت پر وہ مجھے نظر آئے راہ میں ملے جیسے کوئی اجنبی ...

مزید پڑھیے

دشت جنوں میں جلوۂ خوباں کی جستجو

دشت جنوں میں جلوۂ خوباں کی جستجو کتنی عجیب ہے دل ناداں کی جستجو گزری تھی زلف یار سے ہو کر نسیم شوق اب تک ہے اس کی بوئے پریشاں کی جستجو حیرت زدہ ہوں دیکھ کے یہ انقلاب نو ہے شاخ گل کو آج گلستاں کی جستجو لیجے فنا کا درس پتنگوں کی خاک سے آساں نہیں ہے شمع فروزاں کی جستجو شبنمؔ کی ...

مزید پڑھیے

اتنا بھی ہو نہ ذوق تجسس نگاہ میں

اتنا بھی ہو نہ ذوق تجسس نگاہ میں حائل رہیں خود آپ ہمیں اپنی راہ میں ہونے کو کیا نہیں ہے تمہاری نگاہ میں لیکن وہ ایک چیز جو ہوتی ہے آہ میں توبہ کی راحتیں نہیں میرے گناہ میں کس درجہ آ گئی ہے بلندی نگاہ میں حالانکہ منزلیں بھی نئی عزم بھی نیا ملتے ہیں میرے نقش قدم مجھ کو راہ میں بس ...

مزید پڑھیے

اعتماد عشق کو کیوں رائیگاں سمجھا تھا میں

اعتماد عشق کو کیوں رائیگاں سمجھا تھا میں ان کے جلوے بھی وہیں نکلے جہاں سمجھا تھا میں ایک پسندیدہ گرفتاری تھی آزادی نہ تھی ایک قفس تھا وہ بھی جس کو آشیاں سمجھا تھا میں کس قدر طعنے دئے ہیں ہمت پرواز نے سوچتا ہوں کیوں قفس کو آشیاں سمجھا تھا میں اے معاذ اللہ مفہوم وفا کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1061 سے 6203