گل یاد نہ امواج نسیم سحری یاد
گل یاد نہ امواج نسیم سحری یاد کچھ بھی نہیں جز عالم بے بال و پری یاد خورشید سحر عارض مہتاب کا عالم نظروں کو ابھی تک ہے تری جلوہ گری یاد سوئے حرم و دیر کبھی رخ نہ کریں گے جن کو مرے ساقی کی ہے رنگیں نظری یاد جلووں کا تقاضا نہیں کرتی نظر ان کی رہتی ہے جنہیں حسن کی دیوانہ گری یاد یہ ...