قومی زبان

گل یاد نہ امواج نسیم سحری یاد

گل یاد نہ امواج نسیم سحری یاد کچھ بھی نہیں جز عالم بے بال و پری یاد خورشید سحر عارض مہتاب کا عالم نظروں کو ابھی تک ہے تری جلوہ گری یاد سوئے حرم و دیر کبھی رخ نہ کریں گے جن کو مرے ساقی کی ہے رنگیں نظری یاد جلووں کا تقاضا نہیں کرتی نظر ان کی رہتی ہے جنہیں حسن کی دیوانہ گری یاد یہ ...

مزید پڑھیے

جو کیف عشق سے خالی ہو زندگی کیا ہے

جو کیف عشق سے خالی ہو زندگی کیا ہے شگفتگی نہ ملے جس میں وہ کلی کیا ہے مری نگاہ میں ہے ان کا عارض روشن یہ کہکشاں یہ ستارے یہ چاندنی کیا ہے جمال یار کی رعنائیوں میں گم ہے نظر مجھے یہ ہوش کہاں ہے کہ زندگی کیا ہے اٹھا بھی جام کہ دنیا ترے قدم چومے یہ مے کدہ ہے یہاں عیش کی کمی کیا ...

مزید پڑھیے

سنا کے رنج و الم مجھ کو الجھنوں میں نہ ڈال

سنا کے رنج و الم مجھ کو الجھنوں میں نہ ڈال تھکن کا خوف مرے عزم کی رگوں میں نہ ڈال میں اس جہان کو کچھ اور دینا چاہتا ہوں تو کار وقت کے پر ہول چکروں میں نہ ڈال ملول دیکھ کے تجھ کو میں رک نہ جاؤں کہیں خدارا! ہجر کی شدت کو آنسوؤں میں نہ ڈال تری بھلائی کی خاطر مجھے اتارا گیا مجھے لپیٹ ...

مزید پڑھیے

اے جنوں وہ گل کھلا سارا چمن دیکھا کرے

اے جنوں وہ گل کھلا سارا چمن دیکھا کرے جب گریباں چاک ہو جائے بہار آیا کرے زلف جاناں جب سنورنے کے لئے ترسا کرے ابر رحمت ہم گنہ گاروں پہ کیا سایا کرے آنکھ کھول اے محو خود بینی کہیں ایسا نہ ہو آئینہ خانوں میں آئینوں سے ٹکرایا کرے دیکھ کر کالی گھٹائیں ہوش کھو دیتے ہیں لوگ اپنے گیسو ...

مزید پڑھیے

ہم ان سے کر گئے ہیں کنارا کبھی کبھی

ہم ان سے کر گئے ہیں کنارا کبھی کبھی دل ہو گیا ہے جان سے پیارا کبھی کبھی راتوں کی خامشی میں مرے دل پہ رکھ کے ہاتھ لیتی ہے کائنات سہارا کبھی کبھی اس طرح بھی وہ آتے ہیں آغوش شوق میں گرتا ہے جیسے ٹوٹ کے تارا کبھی کبھی میں نے جہان شوق کو بے جذبۂ نمود اپنے ہی دیکھنے کو سنوارا کبھی ...

مزید پڑھیے

یہ سوچ سوچ کے بسمل پہ کیا گزرتی ہے

یہ سوچ سوچ کے بسمل پہ کیا گزرتی ہے کہ دست و بازوئے قاتل پہ کیا گزرتی ہے جو میرے ساتھ چلو چاندنی کی سیر کو تم تو دیکھنا مہ کامل پہ کیا گزرتی ہے میری تباہی پہ منہ پھیر کر نہ ہنس اے دوست نظر ملا کے تو کہہ دل پہ کیا گزرتی ہے چراغ بجھ گئے پروانے جل کے خاک ہوئے نہ پوچھ صاحب محفل پہ کیا ...

مزید پڑھیے

دم تعمیر تخریب جہاں کچھ اور کہتی ہے

دم تعمیر تخریب جہاں کچھ اور کہتی ہے کلی کچھ اور کہتی ہے خزاں کچھ اور کہتی ہے کدہ کی یاد سب کچھ ہے مگر اے زاہد ناداں دلوں سے مستئ چشم بتاں کچھ اور کہتی ہے کبھی شاید وہ دور آئے جب انساں ہو سکے انساں ابھی تو گردش ہفت آسماں کچھ اور کہتی ہے بنا کر آشیانے فصل گل میں شاد ہیں لیکن چمن ...

مزید پڑھیے

مزہ شباب کا جب ہے کہ با خدا بھی رہے

مزہ شباب کا جب ہے کہ با خدا بھی رہے بتوں کے ساتھ رہے اور پارسا بھی رہے مذاق حسن پرستی قبول ہے مجھ کو اگر نگاہ حقیقت سے آشنا بھی رہے نظام دہر جدا کر رہا ہے دونوں کو میں چاہتا ہوں کلی بھی رہے صبا بھی رہے کہاں سے جان بچے جب وہ شوخ سحر نگاہ جفا شعار بھی ہو مائل وفا بھی رہے مجھے ملا ...

مزید پڑھیے

زباں خموش رہے ترک مدعا نہ کرے

زباں خموش رہے ترک مدعا نہ کرے یہ التجا بھی نہیں کم کہ التجا نہ کرے میں ننگ عشق سمجھتا ہوں زندگی کے لئے وہ دل جو گردش دوراں کا سامنا نہ کرے دلا رہی ہے یقین وفا مجھے وہ نظر یہ بات اور ہے ہر ایک سے وفا نہ کرے اسے بہار کی رنگینیاں نصیب نہ ہوں چمن میں رہ کے چمن کا جو حق ادا نہ ...

مزید پڑھیے

راہ دشوار میں چلنا سیکھو

راہ دشوار میں چلنا سیکھو رخ زمانے کا بدلنا سیکھو زندگی خود ہی سنور جائے گی غم کے سانچے میں تو ڈھلنا سیکھو مے پرستی کی ہے اس میں توہین پی لیا ہے تو سنبھلنا سیکھو تیرگی آپ ہی چھٹ جائے گی بن کے خورشید نکلنا سیکھو دل کو پتھر نہ بناؤ اپنے موم کی طرح پگھلنا سیکھو ہو کے سرگرم عمل اے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1063 سے 6203