شاعری

گھر جو لوٹے تو ملے غیر کے سامانوں میں

گھر جو لوٹے تو ملے غیر کے سامانوں میں پھول کچھ چھوڑ کے آئے تھے جو گل دانوں میں وہ بھی ہجرت کے تکلف سے بری ہو نہ سکے آئے کچھ لوگ جو کعبے سے صنم خانوں میں ان کے چہروں کو نگاہوں سے قطع مت کیجئے جن کی پہچان رہی آئنہ سامانوں میں میری آمد پہ ہر اک شخص کو حیرانی ہے وہ مجھے ڈھونڈنے نکلے ...

مزید پڑھیے

دن وصل کے رنج شب غم بھول گئے ہیں

دن وصل کے رنج شب غم بھول گئے ہیں یہ خوش ہیں کہ اپنے تئیں ہم بھول گئے ہیں ان وعدہ فروشوں سے کیا کیجیے شکوہ کھا کھا کے مرے سر کی قسم بھول گئے ہیں جس دن سے گئے اپنی خبر تک نہیں بھیجی شاید ہمیں یارانۂ عدم بھول گئے ہیں کاٹی ہیں مہینوں ہی تری یاد میں راتیں غفلت میں تجھے گر کوئی دم ...

مزید پڑھیے

پاس آئی ہوئی منزل کے اجالے دیکھے

پاس آئی ہوئی منزل کے اجالے دیکھے جب بھی لوگوں نے مرے پاؤں کے چھالے دیکھے کتنے خوددار تھے کٹ کر نہ گرے قدموں پر جتنے سر آپ نے نیزے سے اچھالے دیکھے مصلحت نام کو چھو کر نہیں گزری مجھ سے میرے ہونٹوں پہ کبھی آپ نے نالے دیکھے چاند کو دیکھا کبھی ہم نے ہوائیں چھو لیں کس طرح دل کے یہ ...

مزید پڑھیے

بتاؤ کیسے زمانے کا خوں بہا دو گے

بتاؤ کیسے زمانے کا خوں بہا دو گے جو بجھ گئے ہیں چراغ ان کو کیا جلا دو گے تمہارا کیا ہے ہر اک نام کو مٹا دو گے جو سچ کہے گا اسے دار پر چڑھا دو گے نظر اٹھا کے نہ دیکھو گے آنکھ کے آنسو کہانی سن کے غریبوں کی مسکرا دو گے تمہارا طرز تکلم بتا رہا ہے مجھے تباہ لوگوں کو جینے کا آسرا دو ...

مزید پڑھیے

فکر کے جب بھی پاؤں اٹھیں گے تیرے گھر تک جائیں گے

فکر کے جب بھی پاؤں اٹھیں گے تیرے گھر تک جائیں گے دنیا بھر کو دیکھنے والے میری نظر تک جائیں گے ہم نے جی کر دیکھ لیا ہے یہ دھرتی تو تنگ رہی دوستو اب یہ سوچ رہے ہیں شمس و قمر تک جائیں گے تبدیلی اس نظم کہن کی آج نہیں تو کل ہوگی جن رستے یہ راز ملیں گے ایسی ڈگر تک جائیں گے بیٹھے بیٹھے ...

مزید پڑھیے

جو ترے در پہ رک گئی ہوگی

جو ترے در پہ رک گئی ہوگی وہ نظر مجھ کو ڈھونڈھتی ہوگی زندگی بھی اداس راہوں میں میرے بارے میں سوچتی ہوگی ان نگاہوں سے واسطہ بھی کیا جن نگاہوں میں بے رخی ہوگی دن کی یادوں سے روشنی پا کر رات سرشار ہو گئی ہوگی جن کو اپنا پتہ نہیں معلوم ان سے کیا خاک رہبری ہوگی سخت راہوں سے بچ کے ...

مزید پڑھیے

اندھیرے ناپنا مشکل نہیں ہے

اندھیرے ناپنا مشکل نہیں ہے مگر سورج کا اتنا دل نہیں ہے ستارے ٹوٹ کر گرتے ہیں کیسے زمیں اس بات سے غافل نہیں ہے گرا ہے میرے دامن پہ جو آنسو وہ میری زیست کا حاصل نہیں ہے نہ جانے کس کے ہاتھوں قتل ٹھہرا وہ ظالم ہے مگر قاتل نہیں ہے جسے شائستہؔ تو نے توڑ ڈالا میں کہتی ہوں وہ میرا دل ...

مزید پڑھیے

کچھ اس طرح سے زمانہ بدلتا رہتا ہے

کچھ اس طرح سے زمانہ بدلتا رہتا ہے دل و دماغ میں سناٹا چلتا رہتا ہے بدلتے وقت کا احساس ہوشمندی ہے ہماری عمر کا سورج بھی ڈھلتا رہتا ہے کوئی ضروری نہیں دل ہمیشہ سخت رہے وفا کی آنچ سے وہ بھی پگھلتا رہتا ہے اگر ہے صاحب ایماں گناہ کرنے پر خدا کے خوف سے اکثر دہلتا رہتا ہے جسے تمیز ہے ...

مزید پڑھیے

زندگی بس وہ زندگی ہوگی

زندگی بس وہ زندگی ہوگی جو کسی ہجر میں کٹی ہوگی عمر رفتہ کے غم میں کیوں روئیں تیری دہلیز پر پڑی ہوگی آپ کی دید اور چشم فقیر کس قیامت کی وہ گھڑی ہوگی چاروں جانب سے تیر آ رہے تھے شست تو آپ نے بھی لی ہوگی مجھ پہ آوازے کسنے والوں میں اک نمایاں صدا تری ہوگی رونق راہ میں نہ گم ...

مزید پڑھیے

تنہائیوں کی رات بڑی دور تک گئی

تنہائیوں کی رات بڑی دور تک گئی چھوٹی سی ایک بات بڑی دور تک گئی ہم تو ہر امتحاں میں ہوئے سرخ رو مگر مجبورئ حیات بڑی دور تک گئی تشنہ لبی تو زیست کا اوج کمال تھی گو کہ لب فرات بڑی دور تک گئی واعظ تمہاری جنت و دوزخ کی خیر ہو رندوں کی کائنات بڑی دور تک گئی بچھڑے ہر ایک موڑ پہ ساتھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 867 سے 5858