شاعری

سرنگوں موسم بہار میں ہے

سرنگوں موسم بہار میں ہے یہ شجر کس کے انتظار میں ہے تاب نظارہ آنکھ کو بھی نہیں دل بھی کب اپنے اختیار میں ہے زیست ہو بات ہو کہ مجلس ہو لطف گر ہے تو اختصار میں ہے وہ بس اک بار چھو کے گزرے تھے روح تک لمس کے خمار میں ہے کیسا الٹا سفر ہے جیون کا یہ چڑھاؤ کسی اتار میں ہے زیست کرنے میں ...

مزید پڑھیے

ایسے مقام تک بھی ترے نارسا گئے

ایسے مقام تک بھی ترے نارسا گئے تارے فلک کے ٹوٹ کے قدموں میں آ گئے امید وصل یار لیے کتنے کم نصیب اپنی دکان تیرے جہاں سے بڑھا گئے دیکھا جنہوں نے آنکھ گنوا کر سفر کیا بے لوث جو چلے تھے وہی تجھ کو پا گئے مجھ سے کسی کے سامنے رویا نہیں گیا کتنے ہی غم تھے جو مجھے اندر سے کھا گئے اک ان ...

مزید پڑھیے

دل و نظر پہ کوئی اختیار بھی تو نہیں

دل و نظر پہ کوئی اختیار بھی تو نہیں یہ شتر ایسے مگر بے مہار بھی تو نہیں منا ہی لیتے اسے ہم کڑی ریاضت سے وہ زود رنج کہ پروردگار بھی تو نہیں نہ جانے کیوں ہمیں شرمندگی ہے ماضی پر اگرچہ ایسا کوئی داغ دار بھی تو نہیں یہ کیفیت کہ کوئی سر خوشی نہیں لیکن تری جدائی طبیعت پہ بار بھی تو ...

مزید پڑھیے

ساقی مئے گل رنگ مرے لب سے ملا دیکھ

ساقی مئے گل رنگ مرے لب سے ملا دیکھ جس وقت بہکنے میں لگوں تب تو مزہ دیکھ گر دیکھنا ہے بلبل نالاں کا تماشہ تو باد صبا باغ میں تو گل کو ہنسا دیکھ بگڑی ہے شب وصل تو وہ مجھ سے کہے ہے اب کی تو بدن کو تو مرے ہاتھ لگا دیکھ پیچھا ترا چھوڑیں نہ کبھی بوسہ لیے بن دو روز ہم ایسوں کو ذرا منہ تو ...

مزید پڑھیے

نقد دل لے کر پھرے ہم نقد جاں لے کر پھرے

نقد دل لے کر پھرے ہم نقد جاں لے کر پھرے دل میں کیا کیا آرزوؤں کا جہاں لے کر پھرے ایک بھی تو تیری بستی میں نہ تھا پرسان غم ہم تو آنکھوں میں ہزاروں داستاں لے کر پھرے ہم نہ ہوں گے تو ہمارے نقش پا کام آئیں گے زندگی کو کیوں کوئی اب سرگراں لے کر پھرے اے کلیم اپنی حکایات جنوں ہیں بے ...

مزید پڑھیے

اپنے ذوق دید کو اب کارگر پاتا ہوں میں

اپنے ذوق دید کو اب کارگر پاتا ہوں میں ان کا جلوہ ہر طرف پیش نظر پاتا ہوں میں وہ بھی دن تھے جب مرے دل کو تھی تیری جستجو یہ بھی دن ہے دل کو اب تیرا ہی گھر پاتا ہوں میں ہر قدم ہے جستجو کی راہ میں دشوار تر ہر قدم پر گم رہی کو راہ بر پاتا ہوں میں آ گیا ہے عشق میں کیسا یہ حیرت کا مقام جس ...

مزید پڑھیے

للکار

آزادئ عالم کے پرستار ہیں ہم احرار جنہیں کہئے وہ احرار ہیں ہم ناپاک لٹیرو یہ تمہیں یاد رہے جاں باز ہیں بے باک ہیں جرار ہیں ہم

مزید پڑھیے

یہ دور

اس دور بلندی میں بڑی پستی ہے سر مستی ہے بد مستی ہے خر مستی ہے روٹی تو بہت مہنگی ہے یکسر مہنگی مے سستی بہت سستی بہت سستی ہے

مزید پڑھیے

ہمارا عقیدہ

ہم امن میں رکھتے ہیں یقین کامل ہے امن جہانگیر ہماری منزل لیکن کوئی غاصب جو بڑھے سرحد پر شیداؔ اسے کر دیں گے جہنم واصل

مزید پڑھیے

کچھ ازالہ تو کریں آپ بھی تڑپانے کا

کچھ ازالہ تو کریں آپ بھی تڑپانے کا دل جو توڑا ہے تو پھر سوچیے ہرجانے کا نہ کوئی اشک نہ بازو نہ کوئی زلف نصیب کوئی مصرف نظر آیا نہیں اس شانے کا رات کیا خوب تماشہ تھا گلی میں ان کی شیخ جی پوچھا کیے راستہ مے خانے کا دو گھڑی دل تو بہل جاتا ہے تصویر کے ساتھ مسئلہ حل نہیں ہوتا ترے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 868 سے 5858