شاعری

دل اسیر غم دوراں ہے غزل کیا کہیے

دل اسیر غم دوراں ہے غزل کیا کہیے زندگی سر بہ گریباں ہے غزل کیا کہیے اب تو ہر نقش نمایاں ہے غزل کیا کہیے دل چراغ تہ داماں ہے غزل کیا کہیے چہرۂ شعلہ و شبنم پہ برستا ہے دھواں برق کی زد میں گلستاں ہے غزل کیا کہیے زلف شب رنگ کا افسانہ خوش آئند سہی روبرو شام غریباں ہے غزل کیا ...

مزید پڑھیے

بے سبب کیوں ہو پریشان کہاں جاؤ گے

بے سبب کیوں ہو پریشان کہاں جاؤ گے شب اندھیری ہے مری جان کہاں جاؤ گے رنگ لائیں مرے آنسو مرے نالے نہ کہیں باد و باراں کا ہے امکان کہاں جاؤ گے اف یہ طوفان ترنم یہ جھنکتی پائل شب میں اس طرح بالاعلان کہاں جاؤ گے دو قدم چلتے ہو اور چل کے ٹھہر جاتے ہو آؤ جانا نہیں آسان کہاں جاؤ گے یہ ...

مزید پڑھیے

دور فضا میں ایک پرندہ کھویا ہوا اڑانوں میں

دور فضا میں ایک پرندہ کھویا ہوا اڑانوں میں اس کو کیا معلوم زمیں پر چڑھے ہیں تیر کمانوں میں پھول توڑ کے لوگ لے گئے اونچے بڑے مکانوں میں اب ہم کانٹے سجا کے رکھیں مٹی کے گل دانوں میں بے در و بام ٹھکانا جس میں دھول دھوپ سناٹا غم وہی ہے مجھ وحشی کے گھر میں جو کچھ ہے ویرانوں میں آپ کے ...

مزید پڑھیے

مرے اعتماد کو غم ملا مری جب کسی پہ نظر گئی

مرے اعتماد کو غم ملا مری جب کسی پہ نظر گئی اسی جستجو اسی کرب میں مری ساری عمر گزر گئی کبھی بن کے عشق کی رازداں کبھی ہو کے آہ کی داستاں کئی طرح تیرے حضور تک مرے حال دل کی خبر گئی مجھے میرے حال پہ چھوڑ دو مرے دوستو یہ کرم کرو مری عمر رفتہ کو دو صدا مجھے درد دے کے کدھر گئی کبھی ...

مزید پڑھیے

بہار زیست کی محرومیاں ارے توبہ

بہار زیست کی محرومیاں ارے توبہ دل شگفتہ کی ناکامیاں ارے توبہ وصال یار کی حسرت ارے معاذ اللہ فراق و شوق کی بیتابیاں ارے توبہ پیام دعوت مے نیم باز آنکھوں سے نگاہ ناز کی رنگینیاں ارے توبہ خدا نے عشق کو مجبوریوں کا غم دے کر لکھیں نصیب میں بربادیاں ارے توبہ ہماری آنکھ سے آنسو بھی ...

مزید پڑھیے

منزل عشق کے راہبر کھو گئے

منزل عشق کے راہبر کھو گئے میرے ہمدم مرے ہم سفر کھو گئے انقلاب زمانہ نے کروٹ جو لی ذکر اک دو کا کیا گھر کے گھر کھو گئے ہو گئی ختم رسم ملاقات بھی وہ نظارے وہ شام و سحر کھو گئے ہم نے ہر گام پر ساتھ چاہا مگر قافلے ہر نئے موڑ پر کھو گئے میں جو دامن میں لایا تھا آنسو ترے داغ ہیں ان کے ...

مزید پڑھیے

چاند تاروں نے بھی جب رخت سفر کھولا ہے

چاند تاروں نے بھی جب رخت سفر کھولا ہے ہم نے ہر صبح اک امید پہ در کھولا ہے میں بھٹکتا رہا سڑکوں پہ تری بستی میں کب کسی نے میری خاطر کوئی گھر کھولا ہے ہو گئی اور بھی رنگیں تری یادوں کی بہار کھلتے پھولوں نے مرا زخم جگر کھولا ہے ان کی پلکوں سے گرے ٹوٹ کے کچھ تاج محل نیند سے چونک کے ...

مزید پڑھیے

بند رکھتا ہوں بس یہ جان کے منہ

بند رکھتا ہوں بس یہ جان کے منہ کبھی لگیے نہ بد زبان کے منہ تاب کس کو ہے تیر کھانے کی کون آئے چڑھی کمان کے منہ مجھ کو کیا کیا گماں گزرتا ہے پاس لاتے ہیں جب وہ کان کے منہ مست مئے سے الجھ نہ اے گردوں بڈھے آتا ہے کیوں جوان کے منہ پہلے وہ جھک کے بات کرتے تھے اب چڑھاتے ہیں سینہ تان کے ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی اپنا غم ہے اور نہ اب کوئی خوشی اپنی

نہ کوئی اپنا غم ہے اور نہ اب کوئی خوشی اپنی تمہیں کہہ دو کہ ہم کیسے گزاریں زندگی اپنی فریب ہم سفر ہے اور راہ غم کا سناٹا مناسب ہے کہ خود ہو اے جنوں اب رہبری اپنی اجالا محفلوں میں کر کے بھی آنسو ہی ہاتھ آئے نہ راس آئی کبھی خود شمع کو بھی روشنی اپنی گزارش ہے کہ اے معبود مجھ کو ضبط ...

مزید پڑھیے

بچھڑتے ٹوٹتے رشتوں کو ہم نے دیکھا تھا

بچھڑتے ٹوٹتے رشتوں کو ہم نے دیکھا تھا یہ وقت ہم پہ بھی گزرے گا یہ نہ سوچا تھا نمی تھی پلکوں پہ بھیگا ہوا سا تکیہ تھا پتہ چلا کہ کوئی خواب ہم نے دیکھا تھا ہمارے ذہن میں اب تک اسی کی ہے خوشبو تمہارے صحن میں بیلے کا ایک پودا تھا کھرچ کے پھینک دوں کس طرح داغ یادوں کے میں بھول جاتا وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 827 سے 5858