دیا اپنی روش پر کیا گیا ہے
دیا اپنی روش پر کیا گیا ہے ہوا کا ہاتھ بھی گھبرا گیا ہے تمہارے پھول مجھ تک آ گئے ہیں مگر یوں بھیجنا چونکا گیا ہے ہمارے خواب بے پردہ ہوئے ہیں ہماری آنکھ میں جھانکا گیا ہے تڑپ کر آنگنوں میں دھوپ بکھری گلا برگد کا پھر کاٹا گیا ہے سڑک پر شور اور بھگدڑ مچا کر مری آواز کو کچلا گیا ...