شاعری

دیا اپنی روش پر کیا گیا ہے

دیا اپنی روش پر کیا گیا ہے ہوا کا ہاتھ بھی گھبرا گیا ہے تمہارے پھول مجھ تک آ گئے ہیں مگر یوں بھیجنا چونکا گیا ہے ہمارے خواب بے پردہ ہوئے ہیں ہماری آنکھ میں جھانکا گیا ہے تڑپ کر آنگنوں میں دھوپ بکھری گلا برگد کا پھر کاٹا گیا ہے سڑک پر شور اور بھگدڑ مچا کر مری آواز کو کچلا گیا ...

مزید پڑھیے

وہی میری خوشی کا مسئلہ ہے

وہی میری خوشی کا مسئلہ ہے جو صحرا میں نمی کا مسئلہ ہے شجر بھی تو زمیں کے پھیپھڑے ہیں نہ کاٹو زندگی کا مسئلہ ہے ترا چہرہ ہے دھند آلود یوں بھی بصارت میں کمی کا مسئلہ ہے ہمیں مشکوک نظروں سے نہ دیکھیں محبت تو سبھی کا مسئلہ ہے نکل آئی ہے منہ سے بات ایسی کہ جس کی واپسی کا مسئلہ ...

مزید پڑھیے

دھڑکن ہو کر دل سے سازش کرتا ہوں

دھڑکن ہو کر دل سے سازش کرتا ہوں اور پھر جینے کی فرمائش کرتا ہوں اے خالق قسمت کا تارا چمکا دے روز سمے کے جوتے پالش کرتا ہوں گندم کا ہر دانہ پانی پیتا ہے میں محنت کی اتنی بارش کرتا ہوں تم بھی تھوڑے اور کھلونے لے جاؤ میں بھی تھوڑی سی گنجائش کرتا ہوں موسم اور یہ لوگ مجھے کچھ مہلت ...

مزید پڑھیے

مری تکلیف اعصابی کہاں ہے

مری تکلیف اعصابی کہاں ہے یہ بے داری ہے بے خوابی کہاں ہے مجھے آزاد کرنا ہے کسی کو مرے زندان کی چابی کہاں ہے یہ ہم جو ساحلوں پر چل رہے ہیں خبر رکھتے ہیں غرقابی کہاں ہے ہرے ہیں پیڑ نہروں کے کنارے مری پلکوں کی شادابی کہاں ہے برائے سیر آئے باغ میں ہم شجرکاری کی بیتابی کہاں ہے

مزید پڑھیے

دل کی دھڑکن بھی جو سن لو تم مری آواز میں

دل کی دھڑکن بھی جو سن لو تم مری آواز میں تب تمہیں احساس ہوگا درد ہے اس ساز میں بے وجہ تھک کر نہیں بیٹھے ہیں کچھ طائر یہاں لگ گیا ہے کوئی گرہن ان کی بھی پرواز میں اس جہاں کی بزم سے وہ شخص پیاسا جائے گا فکر ہے انجام کی بس جس کو ہر آغاز میں راز تھا جو کھل گیا وہ اک اشارے پر یہاں کیا ...

مزید پڑھیے

بڑھتی ہوئی نفرت کو محبت سے مٹا دے

بڑھتی ہوئی نفرت کو محبت سے مٹا دے دنیا کو بھی جینے کا یہ انداز سکھا دے جاتے ہوئے لمحوں کا ہے بس اتنا تقاضا بجھتے ہوئے شعلوں کو نہ پھر کوئی ہوا دے کچھ ایسی خطائیں ہیں جو ہو جاتی ہیں سب سے مالک پہ یہ چھوڑا ہے وہ جو چاہے سزا دے فرزانوں سے پوچھا تھا کہ کس بات پہ گم ہیں کہنے لگے ہنس ...

مزید پڑھیے

ان کو کہاں ہے فکر کسی بھی عذاب کی

ان کو کہاں ہے فکر کسی بھی عذاب کی کیوں بات کر رہے ہو گناہ و ثواب کی دنیا بنائی اس نے کچھ اپنے حساب کی تصویر کھینچ ڈالی حقیقت کی خواب کی تنقید کرتے کرتے وہ نقاد بن گئے اب آ گئی ہے باری خود ان کے حساب کی جاتی ہوئی بہار کے منظر کو دیکھ کر ان کو پڑی ہے فکر اب اپنے شباب کی آسودگی مزے ...

مزید پڑھیے

سیلاب کا گزر بھی تو لوگوں کی موت ہے

سیلاب کا گزر بھی تو لوگوں کی موت ہے دریا کا بانجھ پن جہاں نہروں کی موت ہے کچھ بھی تو کہنا روبرو بہروں کے ہے فضول جیسے خلا میں چیخنا چیخوں کی موت ہے رستہ سڑک تلک نہ مسافر کو دیں اگر میرے خیال میں تو یہ گلیوں کی موت ہے آنکھوں سے نیند کے سبھی آثار گمشدہ شب بھر ہمارا جاگنا خوابوں کی ...

مزید پڑھیے

در و دیوار سے جاری لہو ہے

در و دیوار سے جاری لہو ہے تری تصویر کا دکھ سرخ رو ہے بچھے ہیں دور تک پتے زمیں پر یہ خاموشی نہیں ہے ہاؤ ہو ہے خوشا آنکھوں میں جنگل ہیں تمہاری بھٹکنے کی مجھے بھی آرزو ہے جسے چٹکی بجانا کہہ رہے ہو ہماری انگلیوں کی گفتگو ہے کوئی تو آئے چھیڑے ذکر تیرا سماعت کب سے میری با وضو ہے

مزید پڑھیے

غم کی اندھیری رات کی جانے سحر نہ آئے کیوں

غم کی اندھیری رات کی جانے سحر نہ آئے کیوں پہروں جلے کسی کا دل زخم ابھر نہ آئے کیوں اپنے پرائے ہو گئے غیروں نے بھی کیا ستم ایسے میں دردمند دل درد سے بھر نہ آئے کیوں تیرا ہی جب خیال ہے آٹھوں پہر دماغ میں جاگتے سوتے ہر طرف تو ہی نظر نہ آئے کیوں تیرے بنا اب ایک پل مجھ سے رہا نہ جائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 691 سے 5858