شاعری

تیز ہوا اب تو رک جا میں ٹوٹ گیا

تیز ہوا اب تو رک جا میں ٹوٹ گیا فرض سے تو فارغ میں جاں سے چھوٹ گیا چھوڑ کے سب قصہ بس اتنا کہتا ہوں دیواروں سے ٹکرایا سر پھوٹ گیا کان سنی باتوں کو ہم نے سچ جانا آنکھوں سے دیکھا تو سب کچھ جھوٹ گیا آئینہ دیکھا تو کچھ کچھ ہوش آیا کوئی میرا باغ سا چہرہ لوٹ گیا اب تو جی میں آتا ہے کچھ ...

مزید پڑھیے

کوئی سراغ کوئی نقش پا نہیں ملتا

کوئی سراغ کوئی نقش پا نہیں ملتا تمہارے شہر کا اب راستہ نہیں ملتا کہو تو تم کو خدا مان لیں محبت کا کہ ہم کو تم سا کوئی دوسرا نہیں ملتا یہ دشت ہجر کی وحشت ہے صاحبان وفا یہاں کسی کو کوئی آسرا نہیں ملتا سنو ہمیں ہی جلا دو کہ روشنی کے لیے ہمارے شہر کو کوئی دیا نہیں ملتا ہوا نے کر دیا ...

مزید پڑھیے

نشاط ہجر کو تیری کمی کو بھول گئے

نشاط ہجر کو تیری کمی کو بھول گئے ترے خیال میں ڈوبے تجھی کو بھول گئے وہ دنیا دار ہیں ہم نے کبھی کہا تو نہ تھا عجیب لوگ ہیں اس سادگی کو بھول گئے عدو نے ہم سے ہمارا غرور مانگا تھا انا پرست تھے ہم زندگی کو بھول گئے جنوں کا ایک تقاضا تھا صرف سر مستی کتاب جھونک دی ہم آگہی کو بھول ...

مزید پڑھیے

رائگانی کی ریاضت بھی نہیں کر سکتا

رائگانی کی ریاضت بھی نہیں کر سکتا ٹوٹے رشتوں کی مرمت بھی نہیں کر سکتا گھر کی رونق کا سبب ہوتے ہیں بچے یعنی شور ہونے پہ شکایت بھی نہیں کر سکتا جس طرح میں نے ترے نام کیا ہے سب کچھ اس طرح کوئی وصیت بھی نہیں کر سکتا کیمرہ آنکھ میں زندان لیے پھرتا ہے کوئی تصویر سے ہجرت بھی نہیں کر ...

مزید پڑھیے

ضرورت سے زیادہ جی رہا ہے

ضرورت سے زیادہ جی رہا ہے ادھورا شخص پورا جی رہا ہے ہے بارش کی مسلسل مہربانی مرے صحرا میں دریا جی رہا ہے در و دیوار سانسیں لے رہے ہیں تبھی کمرے کا پردہ جی رہا ہے بسا ہے تو مری آنکھوں میں جب سے یہاں رنگوں کا میلہ جی رہا ہے سبھی ہاتھوں میں اپنے پھول دے کر خوشی کے ساتھ گملا جی رہا ...

مزید پڑھیے

دشت ہوتے ہوئے برسات نہیں چاہتے ہم

دشت ہوتے ہوئے برسات نہیں چاہتے ہم یعنی اپنے بھی مفادات نہیں چاہتے ہم ہونٹ سگریٹ کی طلب کرتے چلے جاتے ہیں اور اس کے مضر اثرات نہیں چاہتے ہم راس یکتائی بہت آئی ہوئی ہے ہم کو قید ہو کر بھی ملاقات نہیں چاہتے ہم جو کئی شہروں کے مٹنے کا سبب ہو جائیں دوستا ایسی فتوحات نہیں چاہتے ...

مزید پڑھیے

غم یہ سارا تیرے دل کے تہہ خانے سے نکلے گا

غم یہ سارا تیرے دل کے تہہ خانے سے نکلے گا تیری آنکھ کا آنسو جب میرے شانے سے نکلے گا میری ساری الجھن تو ہے تیرے الجھے بالوں سے اس مسئلے کا حل تو زلفیں سلجھانے سے نکلے گا دنیا داری کے خانے سے نکلیں گے جب نام کئی نام تمہارا صرف محبت کے خانے سے نکلے گا نکل نہ پائے گا تجھ سے گو کچھ ...

مزید پڑھیے

اک اس کی ہنسی اور اداؤں کی دھن

اک اس کی ہنسی اور اداؤں کی دھن بدل دے رہی ہے ہواؤں کی دھن یہ تو نے ہی کھولیں ہیں زلفیں یا پھر کسی نے بجائی ہے چھانو کی دھن انہیں گر تو رکھ دے مرے سینہ پر تو دھڑکن سنائے گی پاؤں کی دھن سناتی ہے جس دھن میں ماں لوریاں کچھ ایسی ہی ہوگی خداؤں کی دھن مرے کانوں میں اب بھی موجود ہے وہ ...

مزید پڑھیے

کب محبت سے دیکھتے ہیں مجھے

کب محبت سے دیکھتے ہیں مجھے سب ضرورت سے دیکھتے ہیں مجھے میرا نیندوں کے ساتھ جھگڑا ہے خواب حسرت سے دیکھتے ہیں مجھے جنگ جیتی ہے کیسے خوشبو سے پھول حیرت سے دیکھتے ہیں مجھے میں تو ان سے بھی پیار کرتا ہوں جو حقارت سے دیکھتے ہیں مجھے سارے تریاک پاس ہیں میرے سانپ نفرت سے دیکھتے ہیں ...

مزید پڑھیے

سلامتی کی دعا کا ثمر بنا ہوا ہے

سلامتی کی دعا کا ثمر بنا ہوا ہے تمہارے باغ کا پودا شجر بنا ہوا ہے وہ جس کے واسطے پھولوں کا اہتمام ہوا فضائے دل سے وہی بے خبر بنا ہوا ہے ملے جو کوئی مجھے دل چرانے لگ جائے تمام شہر ترا جادوگر بنا ہوا ہے عجیب بات ہے دل بھی وہیں پہ ٹوٹے ہیں ہر ایک شخص جہاں کاریگر بنا ہوا ہے کہیں پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 690 سے 5858