منہ سے ترے سو بار کے شرمائے ہوئے ہیں
منہ سے ترے سو بار کے شرمائے ہوئے ہیں کیا ظرف ہے غنچوں کا جو اترائے ہوئے ہیں کہتے ہیں گنو مجھ پہ جو دل آئے ہوئے ہیں کچھ چھینے ہوئے ہیں مرے کچھ پائے ہوئے ہیں خنجر پہ نظر ہے کبھی دامن پہ نظر ہے کون آتا ہے محشر میں وہ گھبرائے ہوئے ہیں لب پر ہے اگر آہ تو آنکھوں میں ہیں آنسو بادل یہ ...