شاعری

منہ سے ترے سو بار کے شرمائے ہوئے ہیں

منہ سے ترے سو بار کے شرمائے ہوئے ہیں کیا ظرف ہے غنچوں کا جو اترائے ہوئے ہیں کہتے ہیں گنو مجھ پہ جو دل آئے ہوئے ہیں کچھ چھینے ہوئے ہیں مرے کچھ پائے ہوئے ہیں خنجر پہ نظر ہے کبھی دامن پہ نظر ہے کون آتا ہے محشر میں وہ گھبرائے ہوئے ہیں لب پر ہے اگر آہ تو آنکھوں میں ہیں آنسو بادل یہ ...

مزید پڑھیے

میں جبہہ سا ہوں اس در عالی مقام کا

میں جبہہ سا ہوں اس در عالی مقام کا کعبہ جہاں جواب نہ پائے سلام کا سکہ رواں ہے کس بت محشر خرام کا نقش قدم نگیں ہے قیامت کے نام کا کیا پاس غیر قصد ہے گر قتل عام کا اک مردہ دور رکھ دو مسیحا کے نام کا اے رہروان منزل مقصود مرحبا چمکا کلس وہ روضۂ دار السلام کا خنجر سنبھالیے پئے تسلیم ...

مزید پڑھیے

بھول بھی جائیں تجھے زخم پرانا بھی تو ہو

بھول بھی جائیں تجھے زخم پرانا بھی تو ہو جی بھی لیں جینے کو جینے کا بہانہ بھی تو ہو ہم نے سیکھا ہی نہیں ترک مروت کا سبق بات بڑھتی ہے مگر بات بڑھانا بھی تو ہو اب کے مقتل کو کسی میلے کی زینت کر دو پھر تماشہ جو سجے ساتھ زمانہ بھی تو ہو دشت در دشت سہی آبلہ پائی ہی سہی اور مسافت ہی سہی ...

مزید پڑھیے

وارفتگیٔ عشق ہے یا بے خودی ہے یہ

وارفتگیٔ عشق ہے یا بے خودی ہے یہ مجھ سے جو پوچھئے تو مری زندگی ہے یہ دل ان کے غم سے خوش ہے عجب دل لگی ہے یہ یعنی کہ دکھ کا دکھ ہے ہنسی کی ہنسی ہے یہ دل بھی مرا شریک نہیں بیکسی ہے یہ ہے موت کس کا نام اگر زندگی ہے یہ کب چاہتا ہوں میں کہ خوشی ہو مجھے نصیب میں بھی اسی میں خوش ہوں جو ان ...

مزید پڑھیے

زندگی دو گھڑی کی مستی ہے

زندگی دو گھڑی کی مستی ہے موت تعبیر خواب ہستی ہے ہر نفس صرف غم پرستی ہے میری ہستی عجیب ہستی ہے فصل گل ہے ہوا میں مستی ہے آج کل لطف مے پرستی ہے آسماں پر دماغ ہستی ہے یہ بلندی نہیں ہے پستی ہے یہ جوانی تری معاذ اللہ لاکھ مستی کی ایک مستی ہے تیرے کوچے سے بیٹھ کر اٹھنا کسر شان وفا ...

مزید پڑھیے

نالۂ دل کی صدا دیوار میں ہے در میں ہے

نالۂ دل کی صدا دیوار میں ہے در میں ہے صور یا محشر میں ہوگا یا ہمارے گھر میں ہے یوں تو مرنے کو مروں گا میں مگر مٹی مری یا فلک کے ہاتھ میں یا آپ کی ٹھوکر میں ہے میں پریشاں ہو کے نکلوں گا تو ان کی بزم سے میری بربادی کا ساماں ہے تو ان کے گھر میں ہے وہ اگر دیکھیں تو اب حالت سنبھلتی ہے ...

مزید پڑھیے

دل کی اک حرف و حکایات ہے یہ بھی نہ سہی

دل کی اک حرف و حکایات ہے یہ بھی نہ سہی گر مری بات میں کچھ بات ہے یہ بھی نہ سہی عید کو بھی وہ نہیں ملتے ہیں مجھ سے نہ ملیں اک برس دن کی ملاقات ہے یہ بھی نہ سہی دل میں جو کچھ ہے تمہارے نہیں پنہاں مجھ سے ظاہری لطف و مدارات ہے یہ بھی نہ سہی زندگی ہجر میں بھی یوں ہی گزر جائے گی وصل کی ...

مزید پڑھیے

اے حضرت عیسیٰ نہیں کچھ جائے سخن اب

اے حضرت عیسیٰ نہیں کچھ جائے سخن اب وہ آ گئے رکھوائیے تہہ کر کے کفن اب سینچا گیا پھولا ہے نئے سر سے چمن اب اشکوں نے کیے سبز مرے داغ کہن اب وہ شوق اسیری کھلے گیسو کے شکن اب ترسیں گے قفس کے لیے مرغان چمن اب خاموشی نے معدوم کیا اور دہن اب تم ہی کہو باقی رہی کیا جائے سخن اب یاران وطن ...

مزید پڑھیے

تجھ کو تو معلوم تھا میرے یار اداسی ہے

تجھ کو تو معلوم تھا میرے یار اداسی ہے تجھ سے ہی تو ہم کہتے تھے یار اداسی ہے تیرے حصہ میں اول خوشیاں ہوں گی شاید پر میرے حصہ میں پہلے یار اداسی ہے میرے پاس نہیں ہے کوئی تیرے پاس ہوں میں پھر تیری آنکھوں میں کیسے یار اداسی ہے خود کو ہنستا جب بھی دیکھوں رو دیتا ہوں میں چھائی اس درجے ...

مزید پڑھیے

تمہیں نہیں ہو کہ جس کے حصے اپار دکھ ہیں

تمہیں نہیں ہو کہ جس کے حصے اپار دکھ ہیں ہماری آنکھیں بھی بولتی ہیں کہ یار دکھ ہیں سمجھ رہا ہے تو جس کو اپنی خوشی کی گٹھری نہیں ہیں اس میں خوشی اسے تو اتار دکھ ہیں اگر تمہیں لگ رہا ہے یہ دکھ بس اوپری ہیں یہ ہاتھ دیکھو قطار اندر قطار دکھ ہیں کچھ ایک ہی بس بچے ہیں جن کو ہے تجھ سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 689 سے 5858