محبتوں کا جو سر پر وبال رکھا ہے
محبتوں کا جو سر پر وبال رکھا ہے فتور عشق ہے اور ہم نے پال رکھا ہے یہ انتخاب جو ہم نے کیا ہے جینے کا فراق چن لیا ہے اور وصال رکھا ہے کسی بھی روز ملو اور اداسیاں لے لو ہم ایسے لوگ ہیں سب پر ملال رکھا ہے خزاں کے پھول سنجوئے کتاب میں رکھے فصیل غم سے یوں رشتہ بحال رکھا ہے وہ آخرش مجھے ...