شاعری

یہ حسیں لوگ ہیں تو ان کی مروت پہ نہ جا

یہ حسیں لوگ ہیں تو ان کی مروت پہ نہ جا خود ہی اٹھ بیٹھ کسی اذن و اجازت پہ نہ جا صورت شمع ترے سامنے روشن ہیں جو پھول ان کی کرنوں میں نہا ذوق سماعت پہ نہ جا دل سی چیک بک ہے ترے پاس تجھے کیا دھڑکا جی کو بھا جائے تو پھر چیز کی قیمت پہ نہ جا اتنا کم ظرف نہ بن اس کے بھی سینے میں ہے دل اس ...

مزید پڑھیے

یہ ٹھیک ہے کہ بہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیں

یہ ٹھیک ہے کہ بہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیں مگر ہماری ذرا عادتیں بھی ٹھیک نہیں اگر ملو تو کھلے دل کے ساتھ ہم سے ملو کہ رسمی رسمی سی یہ چاہتیں بھی ٹھیک نہیں تعلقات میں گہرائیاں تو اچھی ہیں کسی سے اتنی مگر قربتیں بھی ٹھیک نہیں دل و دماغ سے گھایل ہیں تیرے ہجر نصیب شکستہ در بھی ہیں ان ...

مزید پڑھیے

میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں

میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں جنم دن ہے اکیلا رو رہا ہوں کسی نے جھانک کر دیکھا نہ دل میں کہ میں اندر سے کیسا ہو رہا ہوں جو دل پر داغ ہیں پچھلی رتوں کے انہیں اب آنسوؤں سے دھو رہا ہوں سبھی پرچھائیاں ہیں ساتھ لیکن بھری محفل میں تنہا ہو رہا ہوں مجھے ان نسبتوں سے کون سمجھا میں رشتے ...

مزید پڑھیے

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ لوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھ فیصلہ یہ تو بہرحال تجھے کرنا ہے ذہن کے ساتھ سلگنا ہے کہ جذبات کے ساتھ گفتگو دیر سے جاری ہے نتیجے کے بغیر اک نئی بات نکل آتی ہے ہر بات کے ساتھ اب کے یہ سوچ کے تم زخم جدائی دینا دل بھی بجھ جائے گا ڈھلتی ہوئی ...

مزید پڑھیے

گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جانا

گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جانا تم کسی چشم خریدار میں مت آ جانا خاک اڑانا انہیں گلیوں میں بھلا لگتا ہے چلتے پھرتے کسی دربار میں مت آ جانا یوں ہی خوشبو کی طرح پھیلتے رہنا ہر سو تم کسی دام طلب گار میں مت آ جانا دور ساحل پہ کھڑے رہ کے تماشا کرنا کسی امید کے منجدھار میں مت آ ...

مزید پڑھیے

نگہ شوق سے حسن گل و گلزار تو دیکھ

نگہ شوق سے حسن گل و گلزار تو دیکھ آنکھیں کھل جائیں گی یہ منظر دلدار تو دیکھ پیکر شاہد ہستی میں ہے اک آنچ نئی لذت دید اٹھا شعلۂ رخسار تو دیکھ شوخئ نقش کوئی حادثۂ وقت نہیں معجزہ کاریٔ خون دل فن کار تو دیکھ ہر دکاں اپنی جگہ حیرت نظارہ ہے فکر انساں کے سجائے ہوئے بازار تو دیکھ بن ...

مزید پڑھیے

دہکتے کچھ خیال ہیں عجیب عجیب سے

دہکتے کچھ خیال ہیں عجیب عجیب سے کہ ذہن میں سوال ہیں عجیب عجیب سے تھا آفتاب صبح کچھ تو شام کو کچھ اور عروج اور زوال ہیں عجیب عجیب سے ہر ایک شاہراہ پر دکانوں میں سجے طرح طرح کے مال ہیں عجیب عجیب سے وہ پاس ہو کے دور ہے تو دور ہو کے پاس فراق اور وصال ہیں عجیب عجیب سے نکلنا ان سے بچ ...

مزید پڑھیے

کہکشاں کے تناظر میں ہم کیا ہمارا ستارہ ہے کیا

کہکشاں کے تناظر میں ہم کیا ہمارا ستارہ ہے کیا ان گنت آفتابوں کی اقلیم میں اک شرارہ ہے کیا کون سمجھے زباں برگ و اشجار کی دشت و کہسار کی کون جانے کہ اس بے کراں خامشی میں اشارہ ہے کیا ہم محبت کو اک منصب عاشقانہ سمجھتے رہے یہ نہ سوچا محبت کی سوداگری میں خسارہ ہے کیا یہ طلسم تماشا ...

مزید پڑھیے

جب صبح کی دہلیز پہ بازار لگے گا

جب صبح کی دہلیز پہ بازار لگے گا ہر منظر شب خواب کی دیوار لگے گا پل بھر میں بکھر جائیں گے یادوں کے ذخیرے جب ذہن پہ اک سنگ گراں بار لگے گا گوندھے ہیں نئی شب نے ستاروں کے نئے ہار کب گھر مرا آئینۂ انوار لگے گا گر سیل خرافات میں بہہ جائیں یہ آنکھیں ہر حرف یقیں کلمۂ انکار لگے ...

مزید پڑھیے

ستم زدہ کئی بشر قدم قدم پہ تھے

ستم زدہ کئی بشر قدم قدم پہ تھے شکستہ دل شکستہ گھر قدم قدم پہ تھے ملے ہیں رہزنوں کی صف میں وہ بھی آخرش شریک رہ جو راہ بر قدم قدم پہ تھے ہوا گزر ہمارا کیسے شہر علم میں کہ نکتہ داں و دیدہ ور قدم قدم پہ تھے ہے کیا عجب کہ خواب تھا وہ منظر حسیں ہزاروں لوگ خوش نظر قدم قدم پہ تھے تھے جوق ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5433 سے 5858