شعلے ہیں کہیں تیز کہیں ہیں مدھم
شعلے ہیں کہیں تیز کہیں ہیں مدھم جاری ہے عمل اک ارتقا کا پیہم ہیں اس کی لپیٹ میں سمندر صحرا پھیلی ہے نمو کی آگ عالم عالم
شعلے ہیں کہیں تیز کہیں ہیں مدھم جاری ہے عمل اک ارتقا کا پیہم ہیں اس کی لپیٹ میں سمندر صحرا پھیلی ہے نمو کی آگ عالم عالم
منجدھار میں ہوں پاس کنارا بھی نہیں بس میں مرے اس درد کا چارہ بھی نہیں دنیا کی روش سے خوش نہیں ہوں لیکن دنیا کو بدل دینے کا یارا بھی نہیں
ملتا نہیں مجھ کو نقش اپنا مجھ میں دنیا ہے کہ ڈھونڈھتی ہے دنیا مجھ میں گمبھیر بہت ہے شخصیت میری بھی دریا مجھ میں ہے اور صحرا مجھ میں
درد میں میرے کمی آ جائے اتنا رو لوں کہ ہنسی آ جائے اس کے ہوتے ہوئے بھی اس دل میں یہ نہ ہو اور کوئی آ جائے نیند اس شرط پہ آئے گی کہ خواب جھوٹا ہی سہی آ جائے خود کو آواز دوں میں پھر چاہے میرے اندر سے تو ہی آ جائے پیار اس پہ بھی ذرا برسا دو اس کی باتوں میں نمی آ جائے
دن گزرا اور شام ڈھلی پھر وحشت لے کر آئی رات جب بھی اس کا ہجر منایا ہم نے وہ کہلائی رات اس کو رونے سے پہلے کچھ ہم نے یوں تیاری کی کونے میں تنہائی رکھی کمرے میں پھیلائی رات تو نے کیسے سوچ لیا کہ تیرے تحفے بھول گئے دل نے تیرے غم کو پہنا آنکھوں کو پہنائی رات ساون آیا لیکن سوکھی ...
اگر وہ خود ہی بچھڑ جانے کی دعا کرے گا تو اس سے بڑھ کے مرے ساتھ کوئی کیا کرے گا سنا ہے آج وہ مرہم پہ چوٹ رکھے گا مجھی سے مجھ کو بھلانے کا مشورہ کرے گا ترس رہی ہیں یہ آنکھیں اس ایک منظر کو جہاں سے لوٹ کے آنے کا دکھ ہوا کرے گا اگر یہ پھول ہے میری بلا سے مرجھائے اگر یہ زخم ہے مالک اسے ...
کسی کے ہجر کو ایسے منا رہے تھے ہم گھڑی میں وقت کو الٹا گھما رہے تھے ہم نہیں تھا یاد سبق اپنی زندگی کا ہمیں سو امتحان کا پرچہ بنا رہے تھے ہم کنارے بیٹھ کے آنسو بہا کے آئے تھے ندی کی پیاس کو پانی پلا رہے تھے ہم کیا یہ جرم کہ اپنے ہی دل کی سنتے تھے یہی کہیں کہ خود اپنی سزا رہے تھے ...
مرے ہاتھوں میں ابھرا ہے یہ نقشہ کس طرح کا ہے مری آنکھوں میں ٹھہرا ہے یہ دریا کس طرح کا ہے یہ میرا جسم ہے آزاد لیکن روح قیدی ہے خدایا کوئی بتلائے یہ پنجرا کس طرح کا ہے مری آہوں کو میرے قہقہوں نے ڈھانک رکھا ہے مری اس لاش کے اوپر یہ ملبہ کس طرح کا ہے ہے جن میں بوجھ دنیا بھر کا مذہب ...
تم سے آتا نہیں جدا ہونا تم مری آخری سزا ہونا جس کو تم روز دکھ ہی جاتے ہو اس کی قسمت ہے آئنہ ہونا اس کے ہونے کی یہ گواہی ہے ان درختوں کا یوں ہرا ہونا کتنا مشکل ہے بچپنا اب تو کتنا آسان تھا بڑا ہونا میں تو حل ہوں کسی کی مشکل کا مجھ کو آیا نہ مسئلہ ہونا
یوں بھی راس آئی نہیں اس کی وفا تم رکھ لو مجھ کو بیمار ہی رہنے دو دوا تم رکھ لو بند کمروں کی گھٹن میرے لیے رہنے دو یہ جو آتی ہے دریچوں سے ہوا تم رکھ لو میری راہوں میں بچھا دو تم اندھیرے سارے اور یہ لو مرے حصے کا دیا تم رکھ لو اوڑھ کر بیٹھ گئی ہوں میں دکھوں کی چادر یہ خوشی اور یہ ...