شاعری

بات سچ کی دھری کی دھری رہ گئی

بات سچ کی دھری کی دھری رہ گئی اور اخبار میں میں سنسنی رہ گئی میں اداسی سے جا کر گلے مل گیا ہاتھ ملتی بلکتی خوشی رہ گئی ہم کو سب کچھ دیا زندگی نے مگر پر جو تیری کمی تھی کمی رہ گئی اب کے تو رام آ کر چلے بھی گئے اہلیہ تو کھڑی کی کھڑی رہ گئی میں اداسی کے کمرے میں سوتا رہا اور ادھر ...

مزید پڑھیے

فیصلے کی یہ گھڑی ہے

فیصلے کی یہ گھڑی ہے ٹرین پٹری پر کھڑی ہے دور واں جو جھونپڑی ہے شہہ کی آنکھوں میں اڑی ہے رات ہم کو کھا رہی ہے تم کو سونے کی پڑی ہے ہم تری خاطر رکے ہیں موت تو آ کر کھڑی ہے وقت بھی اچھا نہیں ہے ہاتھ میں ٹوٹی گھڑی ہے

مزید پڑھیے

کوئی مجبوریاں گنوا رہا ہے

کوئی مجبوریاں گنوا رہا ہے مجھے تو خوب ہنسنا آ رہا ہے اداسی کر رہی ہے رقص ہجرت ہمیشہ کے لیے وہ جا رہا ہے کوئی عورت ابھی گھر چھوڑ دے گی کوئی جنگل سے واپس آ رہا ہے کبھی ہنستے ہوئے جو کہہ دیا تھا مرا وہ شعر مجھ کو کھا رہا ہے گلے میں پڑ چکی رسی کسی کے کنوئیں میں کوئی مرنے جا رہا ہے

مزید پڑھیے

یہ ملی اعتبار کی قیمت

یہ ملی اعتبار کی قیمت لگ گئی میرے پیار کی قیمت مجھ سے اک جنگ جیتنی تھی اسے سو لگی میری ہار کی قیمت ہم کو اک پھول تک نصیب نہیں ہم سے پوچھو بہار کی قیمت آپ کو پیار مل گیا اپنا آپ کیا جانو پیار کی قیمت آ کے باہوں میں بھر لیا اس نے مل گئی انتظار کی قیمت

مزید پڑھیے

خواہشیں آئیں اندھیروں کی سی فطرت اوڑھے

خواہشیں آئیں اندھیروں کی سی فطرت اوڑھے پھر غم آیا چڑھتی راتوں کی سی خصلت اوڑھے یار مانا تھا اسے ہم نے محبت کی تھی وہ مگر آیا رقیبوں کی سی ظلمت اوڑھے باغ یہ اہل چمن نے ہی اجاڑا آخر اب مناظر ہے بیاباں کی سی وحشت اوڑھے پر نکلتے ہی پرندہ گھونسلے کو بھولا اڑ گیا دور وہ منزل کی سی ...

مزید پڑھیے

یادوں کی راکھ میں ہر لمحہ دھواں دھواں ہے

یادوں کی راکھ میں ہر لمحہ دھواں دھواں ہے ہونٹوں پہ بکھرا ہر اک نغمہ دھواں دھواں ہے ماضی کی آگ میں جل کے عمر گزری ساری اب بجھ گئی ہوں تو یہ چہرہ دھواں دھواں ہے انسانیت کی لو بجھتی ہے گلی گلی میں اور شہر بھر میں ہر اک رستہ دھواں دھواں ہے تنہائی کی ہوا سے اک شمع ہاری کل شب کمرے کا ...

مزید پڑھیے

اداس نینا جو برستے ہیں سحاب کی طرح

اداس نینا جو برستے ہیں سحاب کی طرح تو غم کے پھول بھی مہکتے ہیں گلاب کی طرح لرز لرز کے ایسے یاد آتے ہیں وہ گزرے دن کہ نفس نفس جھنجھناتا ہے رباب کی طرح یہ دنیا کے نظارے یادیں خواب عشق زندگی لبھاتے ہیں یہاں پہ سب کے سب سراب کی طرح جہاں کے ظلم سہتے سہتے فاختہ بھی بارہا عقب سے پنجے ...

مزید پڑھیے

جاگے سے کتنے گھر دیکھے رات کی خامشی میں

جاگے سے کتنے گھر دیکھے رات کی خامشی میں دیوار پہ سائے ہی تو تھے رات کی خامشی میں گل بوٹے اور باغ جب سو جاتے ہیں خوابوں کو اوڑھے تب رات رانی ہی خوشبو دے رات کی خامشی میں دن بھر خود اپنی لگائی آتش میں دل جل رہا تھا اب شمع سا بجھ رہا ہے یہ رات کی خامشی میں تنہائی میں چبھتے ہیں جب ...

مزید پڑھیے

گھر ہمارے خاک ٹیلے ہو گئے

گھر ہمارے خاک ٹیلے ہو گئے لوگ اپنے ہی وسیلے ہو گئے رات اس ناگن نے ہم کو یوں ڈسا دیکھ اپنے ہونٹ نیلے ہو گئے بات کس سے کر رہا ہوں فون پر سوچ کر وہ لال پیلے ہو گئے تم یہاں پر شاعری کرتے رہے اور اس کے ہاتھ پیلے ہو گئے سوچ تیرا نام کھائے جو گئے نیم کے پتے رسیلے ہو گئے

مزید پڑھیے

ترے غرور مرے ضبط کا سوال رہا

ترے غرور مرے ضبط کا سوال رہا بکھر بکھر کے تجھے چاہنا کمال رہا وہیں پے ڈوبنا آرام سے ہوا ممکن جہاں پہ موج و سفینہ میں اعتدال رہا نہیں کہ شام ڈھلے تم نہ لوٹتے لیکن تمہاری راہ میں سورج ہی لا زوال رہا پھر اپنا ہاتھ کلیجہ پہ رکھ لیا ہم نے پھر اس کے پاؤں کی آہٹ کا احتمال رہا

مزید پڑھیے
صفحہ 438 سے 5858