اکثر میں یہاں مثل سمندر آیا
اکثر میں یہاں مثل سمندر آیا ہاں دائرۂ عقل سے باہر آیا لوہے کے چنے چبانا ہے عشق فریدؔ جو کر نہ سکا کوئی وہ میں کر آیا
اکثر میں یہاں مثل سمندر آیا ہاں دائرۂ عقل سے باہر آیا لوہے کے چنے چبانا ہے عشق فریدؔ جو کر نہ سکا کوئی وہ میں کر آیا
پھیلی ہے عجب آگ تجھے اس سے کیا ساون ہے یا ماگھ تجھے اس سے کیا جلتا ہے کسی آگ میں تن من میرا دیپک ہوا ہر اگ تجھے اس سے کیا
ہر مسئلے کی تہہ میں اترنا نہیں ٹھیک اس زندگی کے ہاتھوں مرنا نہیں ٹھیک دنیا میں بہت کر کے یہ دیکھا میں نے اس دنیا میں کچھ بھی کرنا نہیں ٹھیک
روشن کبھی ہو جائیں گے دن رات مرے بس ایک وہی جانے ہے جذبات مرے مجھ کو تو فقط اس کے کرم پر ہے نظر ہیں مد نظر اس کے حالات مرے
اے شاہ جنوں تیرے عرفاں کو سلام اے چاک جگر اس تن عریاں کو سلام حشمت کا طلب گار نہ تھا جاہ پسند غارتگریٔ عیش و ساماں کو سلام
تسکین دل اور روح کا آرام پلا کم ہوگی ذرا سخت مے ایام پلا رگ رگ میں کھنچی جاتی ہے تشنہ لبی ساغر کی قسم جام پلا جام پلا
خاشاک وجود ایک بھنور میں رہتا اے بے خبری اپنی خبر میں رہتا سانسوں نے نہیں چھوڑی وظیفہ خوانی مصروف میں کیا کار دگر میں رہتا
جب حشر میں ہوں پیش عمل کے دفتر لرزیدہ ترے قہر سے ہوں جن و بشر پروانہ ترے عشق کا ہوگا مرے ہاتھ کہہ دوں گا ذرا شمار اس کا بھی کر
جب تک تمہارے چہرے پر خون کی روانی ہے میری آنکھوں کے زخم تازہ رہیں گے
اس کے آگے سناٹا ہے وہ کالا ہے اس کے پیچھے اک چہرہ ہے وہ پیارا ہے وہ اپنی پیٹھ پہ اپنی آنکھیں باندھے جاتا ہے ایک پاؤں آگے کی جانب دوسرا پیچھے جاتا ہے