شاعری

تحریر کی فرصت

ڈاکیہ سارے جہاں کی خبریں لے کر آتا ہے مگر میرے لیے کتنی آوازیں مرے ساتھ چلا کرتی ہیں کبھی ماں باپ کے رونے کی صدا کبھی احباب کے پھٹتے ہوئے جوتوں کی دکھن کبھی دنیا کے چٹختے ہوئے اعضا کی پکار صبح تا شام وہی ایک شب کا آہنگ در و دیوار پہ اڑتی ہوئی راہوں کا غبار راکھ دانی میں وہی سیکڑوں ...

مزید پڑھیے

لہر کا ٹھہراؤ

میں ایک لہر کا ٹھہراؤ جمے ہوئے خون کا دوران کٹے ہوئے ہاتھوں کی پنجہ آزمائی میرا جہاد نوجوان بوڑھوں کی ناخود نوشت میری عصریت تاریخ میرے گھر کا بجھا ہوا چولہا روٹیوں سے زیادہ بھوک پکاتا ہے میرا شہر اس عورت کا حمل جو استقرار سے زیادہ اسقاط ڈھالتا ہے برسوں پہلے نطشے نے کہا تھا'' خدا ...

مزید پڑھیے

خواب ہیں سارے نئے آنکھ پرانی میری

خواب ہیں سارے نئے آنکھ پرانی میری ہے تضادات سے بھرپور کہانی میری تجھ سے میں کہتا نہ تھا اندھی ہوا سے بچنا سن کے بھی ایک یہی بات نہ مانی میری کھا گیا کرب زمانہ مرے لہجے کا وقار عام تھی ورنہ یہاں شعلہ بیانی میری افق دل پہ یہ بجھتا ہوا رنگوں کا ہجوم مانگتا رہتا مجھی سے ہے نشانی ...

مزید پڑھیے

یہ زیست کرنے کی نکلی سبیل راتوں رات

یہ زیست کرنے کی نکلی سبیل راتوں رات میں خود سے ہونے لگا ہوں طویل راتوں رات وہ میری روح کو پھر بھی نہ کر سکا آزاد جو ڈھا کے نکلا بدن کی فصیل راتوں رات دیا ہے جاگتے تاروں نے بے مہار سا کرب بنا گئے ہیں مجھے خود کفیل راتوں رات میں بار بار یہاں زد پہ چڑھتا رہتا ہوں چڑھائی کرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

کسی پہ کرنا نہیں اعتبار میری طرح

کسی پہ کرنا نہیں اعتبار میری طرح لٹا کے بیٹھوگے صبر و قرار میری طرح ابھی تو ہوتی ہیں سرگوشیاں پس دیوار ابھی نہ کرنا ستارے شمار میری طرح بگولہ بن کے اڑا خواہشوں کے صحرا میں ٹھہر گیا تو فقط تھا غبار میری طرح انہیں کے سایوں میں اب سر جھکا کے چلتا ہے اگا گیا تھا جو سرو و خیار میری ...

مزید پڑھیے

اور کچھ اس کے سوا اہل نظر جانتے ہیں

اور کچھ اس کے سوا اہل نظر جانتے ہیں پگڑیاں اپنی بچانے کا ہنر جانتے ہیں اک ستارے کو ضیا بار دکھانے کے لئے وہ بجھائیں گے سبھی شمس و قمر جانتے ہیں خواب میں دیکھتے ہیں کھڑکیاں ہر گھر کی کھلی دور ہو جائے گا اب شہر سے ڈر جانتے ہیں میزبانی تھی کبھی جن میں میسر تیری پلٹ آئیں گے وہی شام ...

مزید پڑھیے

ہر خواب یاد رکھنے کا پیدا سبب کریں

ہر خواب یاد رکھنے کا پیدا سبب کریں جو آج تک نہ کر سکے وہ کام اب کریں ہونے لگا یہاں پہ بلاؤں کا پھر نزول اب کچھ نہ کر سکیں گے چلو ذکر رب کریں جگنو مثال خود کو جلائیں گے رات بھر معمور اس طریقے سے وہ تیرہ شب کریں ہم نے تو اس کا ساتھ نبھایا ہے دیر تک اب اس سے دور جانے کا کار عجب ...

مزید پڑھیے

شوق خوابیدہ وہ بیدار بھی کر دیتا ہے

شوق خوابیدہ وہ بیدار بھی کر دیتا ہے ہوس زیست سے سرشار بھی کر دیتا ہے حسن بے داغ کی بس ایک جھلک دکھلا کر واقف لذت تکرار بھی کر دیتا ہے پہلے وہ ڈالتا ہے آگ کے دریاؤں میں پھر اسی آگ کو گلزار بھی کر دیتا ہے رات بھر کرتا ہے وہ دن کے نکلنے کی دعا صبح دم روشنی مسمار بھی کر دیتا ہے قصۂ ...

مزید پڑھیے

تمنا اپنی ان پر آشکارا کر رہا ہوں میں

تمنا اپنی ان پر آشکارا کر رہا ہوں میں جو پہلے کر چکا ہوں اب دوبارا کر رہا ہوں میں شکست آرزو عرض تمنا شوق لا حاصل تری خاطر تو یہ سب کچھ گوارا کر رہا ہوں میں قفس میں جی بہلنے کے لیے وہ پھول رکھ آئے ہجوم یاس میں جن پر گزارا کر رہا ہوں میں غرض اس چیز سے مجھ کو نہیں میری نہ جو ہوگی یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4263 سے 5858