شاعری

اب زندگی رو رو کے گزاریں گے نہیں ہم

اب زندگی رو رو کے گزاریں گے نہیں ہم یہ بوجھ تو ہے بوجھ اتاریں گے نہیں ہم تم خود ہی اگر لوٹ کے آ جاؤ تو بہتر ہرگز تمہیں اس بار پکاریں گے نہیں ہم اک عشق کی بازی ہی تو ہم ہارے ہیں اس سے اے راہ طلب حوصلہ ہاریں گے نہیں ہم یہ گیسوئے ہستی کے سنورنے کی گھڑی ہے اب گیسوئے جاناں کو سنواریں ...

مزید پڑھیے

اے کاتب تقدیر یہ تقدیر میں لکھ دے

اے کاتب تقدیر یہ تقدیر میں لکھ دے بس اس کی محبت مری جاگیر میں لکھ دے دے ایسا جنوں جیسا دیا قیس کو تو نے مجھ کو بھی اسی حلقۂ زنجیر میں لکھ دے پانے کا اسے خواب جو دیکھا ہے ہمیشہ وہ خواب ہی بس خواب کی تعبیر میں لکھ دے دل ایسا مکاں ہے جو اگر ٹوٹ گیا تو لگ جائیں گی صدیاں نئی تعمیر میں ...

مزید پڑھیے

تھا پہلا سفر اس کی رفاقت بھی نئی تھی

تھا پہلا سفر اس کی رفاقت بھی نئی تھی رستے بھی کٹھن اور مسافت بھی نئی تھی دل تھا کہ کسی طور بھی قابو میں نہیں تھا رہ رہ کے دھڑکنے کی علامت بھی نئی تھی جب اس نے کہا تھا کہ مجھے عشق ہے تم سے آنکھوں میں جو آئی تھی وہ حیرت بھی نئی تھی صدیوں کے تعلق کا گماں ہونے لگا تھا جب کہ مری اس شخص ...

مزید پڑھیے

نہ دولت کی طلب تھی اور نہ دولت چاہئے ہے

نہ دولت کی طلب تھی اور نہ دولت چاہئے ہے محبت چاہئے تھی بس محبت چاہئے ہے سہا جاتا نہیں ہم سے غم ہجر مسلسل ذرا سی دیر کو تیری رفاقت چاہئے ہے ترا دیدار ہو آنکھیں کسی بھی سمت دیکھیں سو ہر چہرے میں اب تیری شباہت چاہئے ہے کیا ہے تو نے جب ترک تعلق کا ارادہ ہمیں بھی فیصلہ کرنے کی مہلت ...

مزید پڑھیے

مسئلہ آج مرے عشق کا تو حل کر دے

مسئلہ آج مرے عشق کا تو حل کر دے پیار کر ٹوٹ کے مجھ سے مجھے پاگل کر دے لوٹ لے میرا سکوں اور مجھے بے کل کر دے یوں سمٹ آ مری بانہوں میں انہیں شل کر دے دیکھ کر پہلی نظر میں جو امڈ آئے تھے پھر سے جذبات میں پیدا وہی ہلچل کر دے بن کے گھنگھور گھٹا مجھ پہ تو چھا کھل کے برس خشک صحرا کو مرے ...

مزید پڑھیے

ہمہ جہت مری طلب جس کی مثال اب نہیں

ہمہ جہت مری طلب جس کی مثال اب نہیں ترا خیال ہے مگر اپنا خیال اب نہیں شوق کا بحر بیکراں محو سکوت جاوداں اس میں نہ کوئی جوش اب اس میں ابال اب نہیں غم کی زمیں پہ آسماں باقی رہا نہ اے میاں دل کی یہ سوگواریاں رو بہ زوال اب نہیں اب نہ حریم ناز سے ہوگا طلوع آفتاب قرب جمال تو گیا لطف ...

مزید پڑھیے

رگ و پے میں سرایت کر گیا وہ

رگ و پے میں سرایت کر گیا وہ مجھی کو مجھ سے رخصت کر گیا وہ نہ ٹھہرا کوئی موسم وصل جاں کا متعین راہ فرقت کر گیا وہ من و تو کی گری دیوار سر پر بیاں کیسی حقیقت کر گیا وہ درون خانہ سے غافل ہے لیکن برون خانہ زینت کر گیا وہ سر شب ہی میں اکثر جل بجھا ہوں ہر اک خواہش کو لت پت کر گیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4261 سے 5858