شاعری

پرانا گھر

یہ ان دنوں کی بات ہے جب گھر کے ایک کمرے میں دکھ اور ملال منڈلی سجا کے بیٹھا کرتے اور مصروفیت بہانے بہانے سے وہاں تاک جھانک کرتی دوسرے کمرے میں دلوں میں نقب لگانے کے سب منصوبے آپس میں بیٹھ کر تاش کھیلا کرتے اور میں ہر تھوڑی دیر بعد تمہاری عادتیں ڈھونڈنے اسٹور کے چکر کاٹتا ...

مزید پڑھیے

پیٹو صاحب

ایک تھے پیٹو صاحب جن کی چھ فٹ تھی اونچائی بیٹھے بیٹھے پہلو بدلیں دس روٹی کھا جائیں اک دن پیٹو صاحب کو اس گھر سے دعوت آئی دن چھپنے سے پہلے پیٹو اس گھر پر جا دھمکے دسترخوان لگا تو بیٹھے کچھ تن کے کچھ جم کے پہلے روٹی سالن سارے گھر بھر کا کھا ڈالا پھر گھر کی باقی چیزوں کا نکلا خوب ...

مزید پڑھیے

چھوٹی چھوٹی بڑائیاں

قطرے قطرے سے بن گیا دریا ذرے ذرے سے ہو گیا صحرا ابر نیساں بنا ہے بوندوں سے زندگی مجموعہ ہے لمحوں کا بن گئی ہے کلی کلی ہی بہار کوئی چھوٹی سی شے نہیں بیکار اک ذرا کھل کے مسکرا دینا اک ذرا سر کہیں جھکا دینا ہو چکے ہیں جو لاغر و مجبور بوجھ ان کا ذرا اٹھا دینا بھٹکے راہی کو راہ بتلانا آس ...

مزید پڑھیے

جنگل کے راجہ کی شادی

جنگل میں منگل کروایا اک بارات سجائی جنگل کے راجہ نے اپنی شادی خوب رچائی مینڈک جی نے بینڈ بجایا بھالو جی نے ڈھول گیدڑ صاحب نے بھی گائے میٹھے میٹھے بول بھری سبھا میں بندر جی نے بندری کو نچوایا بن کر شاہی بھاٹ گدھے نے ڈھینچوں راگ سنایا بنے مہاشے بگلے پنڈت کوے صاحب نائی جھینگر جی نے ...

مزید پڑھیے

طور جینے کے بدل کر دیکھ لیں

طور جینے کے بدل کر دیکھ لیں وقت کے سانچے میں ڈھل کر دیکھ لیں دل سے باہر بھی ہیں کتنی بستیاں دل کی دنیا سے نکل کر دیکھ لیں ایک پہلو زندگی کا اور ہے زاویہ اپنا بدل کر دیکھ لیں وقت کیا ہے وقت کی پہچان کیا آؤ اس کے ساتھ چل کر دیکھ لیں ویسے دل کو کام یہ آتا نہیں وہ سنبھالے تو سنبھل کر ...

مزید پڑھیے

پہنچی ہے کس مقام پہ تشنہ لبوں کی پیاس

پہنچی ہے کس مقام پہ تشنہ لبوں کی پیاس پلکوں کو ہم نے دیکھا ہے اشکوں کے آس پاس بجھتی نہیں ہے اوس سے شاید گلوں کی پیاس آنسو ہی کچھ بکھیر دوں شبنم کے آس پاس خوش کس طرح سے رہتے ہیں ویراں گھروں میں لوگ اپنا تو ہو گیا ہے بھرے گھر میں جی اداس لگتا ہے اس جہاں میں خوشی ہی نہیں رہی جیسے ...

مزید پڑھیے

بے ستوں اک آسماں کو دیکھتے رہتے ہیں ہم

بے ستوں اک آسماں کو دیکھتے رہتے ہیں ہم اک خلائے بے کراں کو دیکھتے رہتے ہیں ہم کیا بشر کا حال ہو جاتا ہے ان کے درمیاں اس زمین و آسماں کو دیکھتے رہتے ہیں ہم رہبروں کی بھیڑ میں کچھ راہزن بھی ہیں شریک اب تو میر کارواں کو دیکھتے رہتے ہیں ہم ہے خطا کس کی سزا ملتی ہے کس کو دیکھیے اب ...

مزید پڑھیے

چند یادیں کبھی خوشیاں کبھی آنسو بن کر

چند یادیں کبھی خوشیاں کبھی آنسو بن کر بارہا دل میں چلی آتی ہیں خوشبو بن کر کتنی ہی یادیں ہیں کیا تم کو بتاؤں اے دوست رات میں اب بھی چلی آتی ہیں جگنو بن کر تجربے زیست کے وہ اپنے بتائیں گے کسے اونچے پربت پہ جو جا بیٹھے ہیں سادھو بن کر لوریاں ماں کی مجھے یاد ہیں کچھ کچھ فرحتؔ دل پہ ...

مزید پڑھیے

کوئی عہد وفا بھولا ہوا ہوں

کوئی عہد وفا بھولا ہوا ہوں نہیں کچھ یاد کیا بھولا ہوا ہوں خبر گیری کروں گا کیا کسی کی میں خود اپنا پتا بھولا ہوا ہوں اگر مانگوں تو شاید پا سکوں کچھ مگر حرف دعا بھولا ہوا ہوں خود اپنے شہر ہی میں ہوں مسافر میں گھر کا راستہ بھولا ہوا ہوں مجھے ہے یاد جو تجھ سے سنا تھا خود اپنا ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4260 سے 5858