شاعری

جو تجھے پیکر صد ناز و ادا کہتے ہیں

جو تجھے پیکر صد ناز و ادا کہتے ہیں قدرداں حسن کے یہ بات بجا کہتے ہیں اس کے چہرے کی ضیا سے ہے چمک سورج کی اس کی بکھری ہوئی زلفوں کو گھٹا کہتے ہیں وہ جو آنکھوں سے پلائے تو چلو پی لیں گے ویسے ہم پینے پلانے کو برا کہتے ہیں سرخ ہاتھوں کی حقیقت تو ہمی جانتے ہیں جو نہیں جانتے وہ رنگ حنا ...

مزید پڑھیے

یہ فرقتوں میں لمحۂ وصال کیسے آ گیا

یہ فرقتوں میں لمحۂ وصال کیسے آ گیا محبتوں میں پھر نیا ابال کیسے آ گیا جسے جہاں کے مشغلوں میں اپنا ہوش بھی نہ تھا اچانک آج اسے مرا خیال کیسے آ گیا ابھی تلک تو میرے سارے زخم تھے ہرے بھرے یکایک ان کو کار اندمال کیسے آ گیا جدائی کا بس ایک پل گراں تھا زندگی پہ جب تو درمیان بحر ماہ و ...

مزید پڑھیے

محبت کا یہ رخ دیکھا نہیں تھا

محبت کا یہ رخ دیکھا نہیں تھا وہ یوں بدلے گا یہ سوچا نہیں تھا عجب ہے سہہ کے زخم بے وفائی یہ دل کہتا ہے وہ ایسا نہیں تھا سبب کوئی تو ہے ان نفرتوں کا میں جھوٹا تھا کہ وہ سچا نہیں تھا نہ جانے کیوں مرے حصے میں آیا وہ دکھ قسمت میں جو لکھا نہیں تھا بہت تنہائیاں تھیں اس سے پہلے مگر اتنا ...

مزید پڑھیے

حال میں جینے کی تدبیر بھی ہو سکتی ہے

حال میں جینے کی تدبیر بھی ہو سکتی ہے زندگی ماضی کی تصویر بھی ہو سکتی ہے آس میں اس کی نہ ہر کام ادھورا چھوڑو اس کے آنے میں تو تاخیر بھی ہو سکتی ہے میرا ہر خواب تو بس خواب ہی جیسا نکلا کیا کسی خواب کی تعبیر بھی ہو سکتی ہے دل تو میرا تھا مگر یہ مجھے معلوم نہ تھا یہ کسی اور کی جاگیر ...

مزید پڑھیے

وہ عکس دل آشنا چھوڑ آئے

وہ عکس دل آشنا چھوڑ آئے کہیں بھی جو نقش وفا چھوڑ آئے جہاں اہل غم نقش پا چھوڑ آئے دلوں کے لیے رہنما چھوڑ آئے اجالا دلوں میں نہ جب کر سکے ہم تمنا کا جلتا دیا چھوڑ آئے جو تھے کشتۂ درد ان کے لیے ہم نہیں کچھ تو دل کی دعا چھوڑ آئے فرازؔ اس طرح زندگی ہے گزاری کہ گویا کوئی حادثہ چھوڑ ...

مزید پڑھیے

اک دل کی خاطر اتنے تو فتنے کبھی نہ تھے

اک دل کی خاطر اتنے تو فتنے کبھی نہ تھے ہوتے ہر اک قدم پہ یہ دھوکے کبھی نہ تھے پھولوں کی تازگی میں اداسی ہے شام کی سائے غموں کے اتنے تو گہرے کبھی نہ تھے باد صبا سے پوچھیے آخر ہے بات کیا چہرے گلوں کے اس قدر اترے کبھی نہ تھے دامن میں ہر سحر کے جو منظر ہے شام کا نقشے جہاں کے ایسے تو ...

مزید پڑھیے

بچھڑتے دامنوں میں اپنی کچھ پرچھائیاں رکھ دو

بچھڑتے دامنوں میں اپنی کچھ پرچھائیاں رکھ دو سکوت زندگی میں دل کی کچھ بے تابیاں رکھ دو کہیں ایسا نہ ہو میں دور خود اپنے سے ہو جاؤں میری ہستی کے ہنگاموں میں کچھ تنہائیاں رکھ دو مرے افکار ہو جائیں نہ فرسودہ زمانے میں نگاہوں سے تم اپنے ان میں کچھ گہرائیاں رکھ دو مرا ہر اضطراب دل ...

مزید پڑھیے

اشک غم آنکھوں نے برسایا بہت

اشک غم آنکھوں نے برسایا بہت جانے کیوں ان کا خیال آیا بہت اس کو دیں ہم نے دعائیں بارہا زندگی میں جس نے تڑپایا بہت جس کو اپنا دل سمجھتے تھے اسے اپنا کم اور آپ کا پایا بہت بن کے راز زندگی دل میں رہے زندگی میں پھر بھی ترسایا بہت دولت و حشمت پہ نازاں ہو کوئی ہے ہمیں تو دل کا سرمایا ...

مزید پڑھیے

نکل کے گھر سے اور میداں میں آ کے

نکل کے گھر سے اور میداں میں آ کے ذرا کچھ دیکھیے تیور ہوا کے کوئی زندہ رہا ہے کب جہاں میں چراغ دل کو اپنے خود بجھا کے ہماری خامشی بھی اک نوا تھی ملے کب سننے والے ہیں نوا کے پشیماں ایک مدت تک رہا ہے کوئی در سے مجھے اپنے اٹھا کے یہ دل ہے دل اسے سینے میں ہرگز کبھی رکھنا نہ تم پتھر ...

مزید پڑھیے

خاموشی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میرے ذہن کی گلیوں میں ایک عاشق ایک بچے کی انگلی پکڑ کر طلسمی گھروں کو حسرت سے دیکھتا کچھ گلوں کی خاموشی اور اس خاموشی کی سائیں سائیں کان کے پردوں سے گزر کر ناف میں اتر جایا کرتی تب آخری موڑ پر وہ بوڑھا مل جاتا جس کی آنکھوں میں زندگی سے پیچھا چھڑا لینے والی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4259 سے 5858