شاعری

دھوپ بارش ہوا کمر بستہ

دھوپ بارش ہوا کمر بستہ اور دریچے میں ایک گلدستہ پیڑ سے پیڑ کٹ گیا ورنہ کیا کلہاڑی اگر نہ ہو دستہ غم سے ایسے نڈھال ہوں جیسے ایک بچے کی پیٹھ پر بستہ بارشوں کی دعائیں مانگی ہیں اور دیوار گھر کی ہے خستہ ایک جگنو تھا آس کی صورت بھر گیا روشنی سے سب رستہ باندھ رکھا ہے کب سے رخت ...

مزید پڑھیے

بات میں کچھ مگر بیان میں کچھ

بات میں کچھ مگر بیان میں کچھ رنگ بدلا ہر ایک آن میں کچھ یوں ہی قائم نہیں ہے یہ دنیا لوگ اچھے ہیں اس جہان میں کچھ مرثیہ ہو گیا چراغوں کا جب بھی لکھا ہوا کی شان میں کچھ قتل ہونے ہیں سب کے سب کردار موڑ ایسے ہیں داستان میں کچھ اس کو دیکھا ملی پلک سے پلک جان سی آ گئی ہے جان میں ...

مزید پڑھیے

انگلی فگار کوئی نہ خوں میں قلم ہوا

انگلی فگار کوئی نہ خوں میں قلم ہوا کب ہم سے اپنے درد کا قصہ رقم ہوا روئے تمام عمر مگر اس ہنر کے ساتھ آنسو پلک پہ آیا نہ کاغذ ہی نم ہوا گھر چھوڑ آئے آپ بھی اچھا کیا حضور یہ تو جنوں کی راہ میں پہلا قدم ہوا رہ رہ کے سر اٹھاتی رہیں کتنی خواہشیں ان باغیوں میں سر بھی کسی کا قلم ...

مزید پڑھیے

شکر ہم نے نہ کچھ شکایت کی

شکر ہم نے نہ کچھ شکایت کی بات ہے اپنی اپنی خصلت کی ایسا ہموار راستہ کب تھا کیا ضرورت تھی اتنی عجلت کی کہتی رہتی ہے بوڑھی گمنامی کتنی چھوٹی تھی عمر شہرت کی یاس امید غم خوشی خواہش گھر میں ہر چیز ہے ضرورت کی ہیں مقدر عذاب کے موسم کوئی رت ہو نصیب راحت کی دن ڈھلے ہوگا جشن ...

مزید پڑھیے

آسماں پر بنے تھے چہرے سے

آسماں پر بنے تھے چہرے سے لوگ یاد آئے بھولے بسرے سے کتنے سورج زمین میں سوئے نور پھوٹے گا ذرے ذرے سے آنکھ میں آ گیا ہے اک آنسو دشت سیراب ایک قطرے سے سبز موسم ہے صحن میں لیکن زرد رت جھانکتی ہے کمرے سے عمر کتنی بھی ہو مگر شہرت باز آتی کہاں ہے نخرے سے غم بھی درویش ہو گیا فاروقؔ کم ...

مزید پڑھیے

نہ جانے کس نے کہا تھا بھٹکتے آہو سے

نہ جانے کس نے کہا تھا بھٹکتے آہو سے مہک رہا ہے یہ جنگل تری ہی خوشبو سے جھلس رہا تھا کئی دن سے آنکھ کا صحرا یہ دشت ہو گیا سیراب ایک آنسو سے وہ ہجر تھا کہ اندھیرا سا چھا گیا دل میں وہ یاد تھی کہ چمکنے لگے تھے جگنو سے مرے لیے تو وہ دیوان میرؔ جیسا تھا ہوا تھا نم کبھی کاغذ جو پہلے ...

مزید پڑھیے

چاند سیاہ پڑ چکا ہے

بے شمار سورج آسمان میں روشن ہوتے ہیں اور زمین کے سینے سے دھواں اٹھنے لگتا ہے تیزی سے بڑھتے ہوئے قدموں کی آہٹ اور تیز ہوتی جاتی ہے اور کب معدوم ہو جاتی ہے پتا ہی نہیں چلتا اجالے نے ہم سے رنگوں کی شناخت چھین لی ہے ہماری گردنوں کی رگیں سوج گئی ہیں کہ نغمے اور نالے میں کوئی فرق باقی ...

مزید پڑھیے

محبت کے بغیر ایک نظم

میں سمندر کو چھانتی ہوں جب سورج بہت تیز چمکتا ہے سارا نمک بہہ جاتا ہے میرے پاس بچا رہتا ہے صرف پانی اور مجھے تیرنا نہیں آتا موسیقی کے شور کے درمیان رقص کے کسی خاموش وقفے میں تم میری طرف جھکتے ہو ایک سرخ بوسہ لیے میرے ہونٹوں پر تمہارا ذائقہ پھیل جاتا ہے اور تمہارا لمس کوک کے گلاس ...

مزید پڑھیے

موت

موت ہمارا پیچھا کرتی رہتی ہے اور اس کے کئی نام ہیں دھماکہ رفتار دانت کا درد ہمارے پناہ کے ٹھکانے بھی کئی ہیں ہم پناہ لیتے ہیں کافی کے ایک پیالے میں جب اس سے بھاپ اٹھ رہی ہو درخت کے سائے میں جب وہ درخت سے زیادہ طویل ہو تصویر کے جنگل میں جہاں رنگ کچھ دھندلا گیا ہو محبوب کے جسم ...

مزید پڑھیے

زرد ذائقہ

ہم عورتیں ایک دوسرے کی دشمن ہیں مگر سب نہیں تم ہم سب سے محبت کرتے ہو مگر ہمیشہ نہیں موسم کس قدر جلد بیت جاتے ہیں اور محبتیں اس سے بھی جلد اب یہ بھی گزرے زمانے کی بات ہے جب میرے چہرے کی رنگت اور تمہاری آنکھوں کے رنگ کے درمیان ایک بے نام رشتہ تھا اور میرا سراپا پس منظر کو معدوم کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4215 سے 5858