شاعری

چشم حیرت کو تعلق کی فضا تک لے گیا

چشم حیرت کو تعلق کی فضا تک لے گیا کوئی خوابوں سے مجھے دشت بلا تک لے گیا ٹوٹتی پرچھائیوں کے شہر میں تنہا ہوں اب حادثوں کا سلسلہ غم آشنا تک لے گیا دھوپ دیواروں پہ چڑھ کر دیکھتی ہی رہ گئی کون سورج کو اندھیروں کی گپھا تک لے گیا عمر بھر ملنے نہیں دیتی ہیں اب تو رنجشیں وقت ہم سے روٹھ ...

مزید پڑھیے

کچھ نیا کرنے کی خواہش میں پرانے ہو گئے

کچھ نیا کرنے کی خواہش میں پرانے ہو گئے بال چاندی ہو گئے بچے سیانے ہو گئے زندگی ہنسنے لگی پرچھائیوں کے شہر میں چاند کیا ابھرا کہ سب منظر سہانے ہو گئے ریت پر تو ٹوٹ کر برسے مگر بستی پہ کم اس نئی رت میں تو بادل بھی دوانے ہو گئے بادلوں کو دیکھ کر وہ یاد کرتا ہے مجھے اس کہانی کو سنے ...

مزید پڑھیے

لٹکائی دیوار پہ کس نے حاتم کی تصویر

لٹکائی دیوار پہ کس نے حاتم کی تصویر ہاتھ میں ٹوٹے کاسے تھامے دوڑے آئے فقیر سوچ رہا ہے دیر سے بے چارہ اک مجمع باز شام تلک کچھ ہاتھ نہ آیا دن بھر کی تقریر گاؤں گاؤں مانگ رہے ہیں قسمت کی خیرات جنت دوزخ بیچنے والے شہری پیر فقیر بھولے بسرے لفظ اچٹ کر مٹا گئے مفہوم دن کو پڑھنے بیٹھے ...

مزید پڑھیے

دے گیا لکھ کر وہ بس اتنا جدا ہوتے ہوئے

دے گیا لکھ کر وہ بس اتنا جدا ہوتے ہوئے ہو گئے بے آسرا ہم آسرا ہوتے ہوئے کھڑکیاں مت کھول لیکن کوئی روزن وا تو کر گھٹ نہ جائے میرا دم تازہ ہوا ہوتے ہوئے وقت نے گردن اٹھانے کی نہ دی مہلت ہمیں اپنا چہرہ بھول بیٹھے آئینہ ہوتے ہوئے خود اسی کے عہد میں عزم وفاداری نہ تھا ورنہ کیوں مجھ ...

مزید پڑھیے

یہ وہ سفر ہے جہاں خوں بہا ضروری ہے

یہ وہ سفر ہے جہاں خوں بہا ضروری ہے وہی نہ دیکھنا جو دیکھنا ضروری ہے بدلتی سمتوں کی تاریخ لکھ رہا ہوں میں ہر ایک موڑ پہ اب حادثہ ضروری ہے نقوش چہروں کے الفاظ بنتے جاتے ہیں کچھ اور اس سے زیادہ بھی کیا ضروری ہے یہ سونے والے تجھے سنگسار کر دیں گے یہ کہہ کے دیکھ کبھی جاگنا ضروری ...

مزید پڑھیے

جڑوں سے سوکھتا تنہا شجر ہے

جڑوں سے سوکھتا تنہا شجر ہے مرے اندر بھی اک پیاسا شجر ہے ہزاروں آندھیاں جھیلی ہیں اس نے زمیں تھامے ہوئے بوڑھا شجر ہے پجاری جل چڑھا کر جا رہے ہیں نگر میں دکھ کے سکھ داتا شجر ہے مسافر اور پرندے جانتے ہیں کہ ان کے واسطے کیا کیا شجر ہے جو ہو فرصت تو اس کے پاس بیٹھو قلندر ہے ولی بابا ...

مزید پڑھیے

کتابوں سے نہ دانش کی فراوانی سے آیا ہے

کتابوں سے نہ دانش کی فراوانی سے آیا ہے سلیقہ زندگی کا دل کی نادانی سے آیا ہے تم اپنے حسن کے جلووں سے کیوں شرمائے جاتے ہو یہ آئینہ مری آنکھوں کی حیرانی سے آیا ہے الجھنا خود سے رہ رہ کر نظر سے گفتگو کرنا یہ انداز سخن اس کو نگہبانی سے آیا ہے ندی ہے موج میں اپنی اسے اس کی خبر کیا ...

مزید پڑھیے

مدت سے وہ خوشبوئے حنا ہی نہیں آئی

مدت سے وہ خوشبوئے حنا ہی نہیں آئی شاید ترے کوچے کی ہوا ہی نہیں آئی مقتل پہ ابھی تک جو تباہی نہیں آئی سرکار کی جانب سے گواہی نہیں آئی دنیا کا ہر اک کام سلیقے سے کیا ہے ہم لوگوں کو بس یاد خدا ہی نہیں آئی جس وقت کہ وہ ہاتھ چھڑانے پہ بضد تھا اس وقت کوئی یاد دعا ہی نہیں آئی لہجے سے نہ ...

مزید پڑھیے

کیا جانے کس لیے وہ اتنا بدل رہا ہے

کیا جانے کس لیے وہ اتنا بدل رہا ہے پھولوں کا جسم لیکن کانٹوں پہ چل رہا ہے گر ہو ترا اشارہ سیراب ہو یہ صحرا پلکوں پہ ایک آنسو کب سے مچل رہا ہے کیا پیاس کی تھی شدت دیکھا ہے سب نے اب تک تپتی ہوئی زمیں سے چشمہ ابل رہا ہے خود کو بچائیں کیا اب اس کی کریں حفاظت بستی سلگ رہی ہے جنگل بھی ...

مزید پڑھیے

درخت اب کس کا رستہ دیکھتے ہیں

درخت اب کس کا رستہ دیکھتے ہیں مسافر منزلوں کے ہو گئے ہیں خدا جانے ہوئی ہے بات کیسی مخالف سب کے سب اپنے ہوئے ہیں وہاں تو عشق ہے اک کھیل گویا یہاں تو جان کے لالے پڑے ہیں کہیں گونجا ہے کوئی قہقہہ کیا فضاؤں میں بھنور سے پڑ رہے ہیں اسی دنیا میں ہیں کتنی ہی دنیا سبھی کے اپنے اپنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4214 سے 5858