شاعری

عجلت میں پشیمانی کا تذکرہ

ہم کہیں ساعت بے بال و پری کھول کے دم لیتے ہیں ریگ زاروں سے نکلتے ہیں روانی لے کر اور اتر جاتے ہیں گدرائے ہوئے پانی میں بس اسی پانی میں ہے اپنی ہوس اپنے چلن کا قصہ یہ چلن خواب گہ ہست سے ہوتا ہوا کاشانے تلک جاتا ہے جس کی درزوں سے دعا جھانکتی ہے اور خلقت ہے کہ غفلت بھرے پہروں میں ہوا ...

مزید پڑھیے

معلوم کرو

کیا اگلا موڑ وصال کا ہے کیا اگلا حکم دھمال کا ہے معلوم کرو معلوم کرو وہ منزل چوتھے کوس پہ ہے جس منزل پر انکار درون ذات الم احساس بد دور ہو جائے گا اور پارہ پارہ جذبوں کی یکجائی سے اقرار امر ہو جائے گا جب عمروں کے تخمینوں سے کچھ قدموں پر اک بھیڑ لگے گی سانسوں کی ان سانسوں کی جو چھن ...

مزید پڑھیے

یہاں تو صرف کپاسوں کے رنگ اڑنے لگے

یہاں تو صرف کپاسوں کے رنگ اڑنے لگے ادھر غلیظ مشینوں کے رنگ اڑنے لگے غریب شخص کی شہرت حسد اگاتی ہے کنول کھلا تو گلابوں کے رنگ اڑنے لگے ہمارے پاؤں کے جھڑنے کی بات پھیل گئی تمام شہر کی سڑکوں کے رنگ اڑنے لگے جھلک رہی تھی کفن سے سفید کلکاری بڑے بزرگوں کی قبروں کے رنگ اڑنے لگے کئی ...

مزید پڑھیے

پرسہ داری کے فن میں طاق نہیں

پرسہ داری کے فن میں طاق نہیں ایسا پنجرہ ہوں جس میں چاک نہیں تو بھی مجبور ہو چکا ہوگا ان دنوں میں بھی ٹھیک ٹھاک نہیں اک معین کلام ہے تجھ سے یہ ضرورت ہے اشتیاق نہیں روز آتی ہے اک صدا مجھ تک آسمانوں کے پار تاک نہیں دشت کا داغ بننے والا ہے ایک وحشی جو دل کا پاک نہیں ایسے بد ذوق بھی ...

مزید پڑھیے

ترے حسد کے مقابل کوئی صفائی نہیں

ترے حسد کے مقابل کوئی صفائی نہیں تو چھوٹا شخص ہے تجھ سے مری لڑائی نہیں وہی لباس وہی ہاؤ ہو وہی میں ہوں تمہارے بعد کسی نے ہنسی اڑائی نہیں چراغ بجھنے سے پہلے سحر بناتے ہیں یہ اپنا دین ہے صاحب سنی سنائی نہیں غلاف کھول اگر آگ دیکھنی ہے تجھے یہ ایک آگ جو میں نے بھی آزمائی ...

مزید پڑھیے

کن اشاروں سے مدعا پوچھے

کن اشاروں سے مدعا پوچھے گونگا کوا گھڑے سے کیا پوچھے کچھ کھلونے خریدنے تھے مجھے جا فقیرا تجھے خدا پوچھے اب میں دیوار ہونے والا ہوں اب کوئی مجھ سے بے بہا پوچھے ایک چھتری تو کھل نہیں پائی کون بارش کی ابتلا پوچھے دو برے لوگ پکا یارانہ آئنہ آئنے سے کیا پوچھے

مزید پڑھیے

جوکر نہیں جو ہنسنے ہنسانے کا کام ہے

جوکر نہیں جو ہنسنے ہنسانے کا کام ہے وحشی کو کھارا دشت اگانے کا کام ہے پہلے میں کوئلے کی دکاں پر تھا صاب جی اب سے خرد چراغ بنانے کا کام ہے تجھ سے نظر بچا کے ہنسیں گے تمام لوگ وہ یوں کہ تیرا دل بھی دکھانے کا کام ہے میں بادشاہ بن تو گیا ہوں مگر مرا فریادیوں کے پاؤں دبانے کا کام ...

مزید پڑھیے

تمام رات سڑک پر ہمیں بٹھایا گیا

تمام رات سڑک پر ہمیں بٹھایا گیا جب اہتمام نہیں تھا تو کیوں بلایا گیا بلا رہی تھی کوئی چھاؤں ایسی عجلت میں کہ اپنا سایہ بھی ہم سے نہیں اٹھایا گیا تمہیں تو آگ دکھائی گئی سہولت سے ہمیں چراغ سمجھ کر دھواں دکھایا گیا بہت دنوں میں اترتا ہے زنگ اندر کا بہت دنوں مری آنکھوں کو آزمایا ...

مزید پڑھیے

جب آنسوؤں کے بھروسے کا ذکر چلتا ہے

جب آنسوؤں کے بھروسے کا ذکر چلتا ہے بچھڑتے وقت بھی تکیے کا ذکر چلتا ہے گلی میں لوگ ہیں اور ان میں ایک میں بھی ہوں اور اک مکان کے تالے کا ذکر چلتا ہے کسی بھی بات کو سنجیدگی سے کیا لینا ابھی تو آپ کے نخرے کا ذکر چلتا ہے ہنسی کی بات چلی اور خواب ٹوٹ گیا لہو کے ذکر سے لاشے کا ذکر چلتا ...

مزید پڑھیے

پاؤں زنجیر پرکھنے میں ابھی کچے ہیں

پاؤں زنجیر پرکھنے میں ابھی کچے ہیں یا ترا حکم سمجھنے میں ابھی کچے ہیں پیڑ بے موسمی باتوں کا برا مان گیا ورنہ کچھ پھل ہیں جو چکھنے میں ابھی کچے ہیں ہم سے کیا ہوگی تعلق میں برائی صاحب ہم تو بہتان ہی گھڑنے میں ابھی کچے ہیں اتنے لوگوں میں کوئی ڈھنگ کا وحشی نہ ملا ایک دو ہیں بھی تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4185 سے 5858