شاعری

شوق بجھتے نہیں نوابی کے

شوق بجھتے نہیں نوابی کے لاکھ طعنے سنے رکابی کے کیا حفاظت ہو خالی کمرے کی کون نخرے اٹھائے چابی کے سانس ہموار ہونے والی تھی رنگ اڑنے لگے سرابی کے اشک بھر دیجیے پیالے میں ہونٹ تھک جائیں گے شرابی کے عشق میں آنکھ ہو گئی آباد فائدے دیکھ اس خرابی کے

مزید پڑھیے

نقش تکمیل تک پہنچتا ہے

نقش تکمیل تک پہنچتا ہے عکس بس آپ کا ابھرتا ہے اب محبت کی اور حد کیا ہو میری بیٹی میں تو ابھرتا ہے میری سانسوں میں ہے تری خوشبو میری مہندی میں تو ہی رچتا ہے دور ہو کر بھی مجھ سے دور نہیں میری سانسوں میں تو مہکتا ہے ایک بستی جلائی تھی اس نے اب کے حاکم ہے کیا وہ کرتا ہے وہ جو علم و ...

مزید پڑھیے

تھی اس کے لیے خواب کی تعبیر کوئی ہیر

تھی اس کے لیے خواب کی تعبیر کوئی ہیر کرتی تھی نہ رانجھے کو جو تسخیر کوئی ہیر ہوتی ہے وہ عزت بھی وہ بیٹی بھی حیا بھی کیوں پہنے فقط عشق کی زنجیر کوئی ہیر اس درجہ تمہیں پاس زمانہ ہے بھلا کیوں کیا تم نہ کرو گے کبھی تعمیر کوئی ہیر الزام تو آتا ہے فقط عشق کے سر ہی رانجھن کی تو کرتی ...

مزید پڑھیے

تم ہو میری زیست کا حاصل شہزادے

تم ہو میری زیست کا حاصل شہزادے توڑ نہ دینا تم میرا دل شہزادے اپنے اندر تم کو دیکھ رہی ہوں میں آئینہ ہے میرے مقابل شہزادے سیم و زر پر اتراتے تھے دیکھو اب عشق نگر میں بن گئے سائل شہزادے شہزادی نے دل ہارا اور جیتی جنگ مال غنیمت میں تم شامل شہزادے وصل کی رت کا اب تو استقبال ...

مزید پڑھیے

مجھ کو تو کچھ اور دکھا ہے آنکھوں کے اس پار

مجھ کو تو کچھ اور دکھا ہے آنکھوں کے اس پار تم بتلاؤ آخر کیا ہے آنکھوں کے اس پار سپنا کوئی بکھر چکا ہے آنکھوں کے اس پار دریا جیسے ٹوٹ پڑا ہے آنکھوں کے اس پار لکھوں تیرا نام پڑھوں تو سانول تیرا نام تیرا ہی بس نام لکھا ہے آنکھوں کے اس پار بینائی تیرے رستوں کو تھام کے بیٹھی ہے تیرے ...

مزید پڑھیے

ترے عدل کے ایوانوں میں

ڈھل گئی رات تری یاد کے سناٹوں میں بجھ گئی چاند کے ہم راہ وہ دنیا جس کا عکس آنکھوں میں لیے میں نے تھکن باندھی تھی نیم گھائل ہیں وہ شفاف ارادے جن پر کتنی معصوم تمناؤں نے لبیک کہی جانے کس شہر کو آباد کیا ہے تو نے دھڑکنیں بھیگتی پلکوں سے بندھی جاتی ہیں زندگی عصر ہمہ گیر میں بے معنی ...

مزید پڑھیے

یوں بھی ہوتا ہے کہ اپنے آپ آواز دینا پڑتی ہے

دنیا بے صفتی کی آنکھ سے دیکھ یہ تکوین، ،زمان زمینیں، مستی اور لگن کی لیلا اک بہلاوا ہے اس بہلاوے میں اک دستاویز ہے جس کا اول آخر پھٹا ہوا ہے دودھیا روشن شاہراہوں پر کتنے یگ تھے جن میں خاموشی کے لمبے لمبے سکتے ہیں بارش اور ماٹی کا ذکر نہیں پھر بھی ہم نے معنی اور امکان کی بے ترتیبی ...

مزید پڑھیے

دو تہوں والی سرگوشی

سماعتیں پھول چن رہی ہیں کہ خاک میں لو کا استعارہ ہراس کی منزلوں سے ہو کر ہمارے سینوں میں موجزن ہو ہماری آنکھیں ہمارے حلقے نہ جانے کس دن سے منتظر ہیں کہ وہ بھی دیکھیں کوئی ستارہ کوئی ستارہ جو نیلگوں پانیوں کے اندر نشیب کو روشنی سے بھر دے سماعتیں پھول چن رہی ہیں کہ حبس ٹوٹے ہوا چلے ...

مزید پڑھیے

کشتگان خنجر تسلیم را

سکینہ! جب کہانی ختم ہوگی خاک کی تاثیر بدلے گی زمیں شعلہ بہ شعلہ کھینچ لی جائے گی ان تاریک کونوں میں جنہیں روشن زمانے سطر مستحکم کے اندر فاصلوں میں رکھ گئے تھے سکینہ! جب بدن فرش ستم پر دو قدم چلنے لگے گا عصر بے ہنگام سے جیون نئی دنیاؤں کے رستے نکالے گا میان آب و گل کس کو خبر کیا کیا ...

مزید پڑھیے

روح عصر رواں

وہ علم گر گئے جن کے سائے تلے عشق کی اولیں سطر لکھی گئی پھول بھیجے گئے دشمنوں کے لئے اب ملو بھی کہ اے روح عصر رواں رنگ جلنے لگے روپ ڈھلنے لگے دوسرے پہر میں تیرہویں ضرب پر کٹ گئے دن کے راجے کڑی دھوپ میں شاخ تا شاخ مرجھا گئیں رات کی رانیاں اب ملو بھی کہ اے روح عصر رواں آنسوؤں میں سجا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4186 سے 5858