الجھے رستوں پہ جا نہیں سکتی
الجھے رستوں پہ جا نہیں سکتی تیری باتوں میں آ نہیں سکتی آنکھ سے دل دکھائی دیتا ہے کوئی دھوکہ میں کھا نہیں سکتی
الجھے رستوں پہ جا نہیں سکتی تیری باتوں میں آ نہیں سکتی آنکھ سے دل دکھائی دیتا ہے کوئی دھوکہ میں کھا نہیں سکتی
تماشہ گر ہمیشہ سے پس دیوار ہوتا ہے کہانی خود نہیں بنتی کہانی کار ہوتا ہے مری حیرانیوں پہ مسکرا کے مجھ سے ہے کہتا یہ دنیا ہے یہاں سب کچھ مری سرکار ہوتا ہے
چلی ہے یہ کیسی ہوا خوب صورت کہ دل کا یہ موسم ہوا خوب صورت یہ دنیا بنائی ہے کیا خوب صورت کہ خود ہوگا کتنا خدا خوب صورت گھڑی دو گھڑی ہی جلا ہے دیا ہاں لیکن جلا ہے دیا خوب صورت کہانی محبت کی کچھ بھی نہیں بناتی ہے اس کو وفا خوب صورت کس کی طرف یہ نظر اٹھ گئی یہ کس کا ہے چہرہ نیا خوب ...
کب سے ضد پہ اڑا ہوا ہے ایسے بھی کوئی بڑا ہوا ہے مجھ سے اونچا ہونے کو وہ پنجوں کے بل کھڑا ہوا ہے
نیند آتی نہیں خواب کے خوف سے خواب دیکھا تو پھر آس لگ جائے گی آس ٹوٹی تو آنکھوں میں چبھتی ہوئی کرچیاں خوں رلائیں گی آنکھوں کو بے نور کر جائیں گی خوش گمانی کی اڑتی ہوئی تتلیاں رنگ کھو دیں گی بے موت مر جائیں گی اس لیے نیند سے میری بنتی نہیں آنکھ لگتی نہیں خواب کے خوف سے بھول کر بھی ...
اب کے ہم نے سوچا ہے جس نے بھی رلایا ہو لاکھ دل دکھایا ہو مسکرا کے ملنا ہے اب کسی امید کا محل کھڑا نہیں کرنا خود سے اب نہیں لڑنا تم سے کچھ نہیں کہنا اب گلہ نہیں کرنا یاد کے کنارے اور خواب کے جزیرے تو کب ہیں اختیار میں ہاں مگر حقیقت کے راستوں پہ بھول کر تم سے اب نہیں ملنا جھیل جیسی ...
اک بات کہنی ہے محبت کرنے نکلے ہو تو اتنا ذہن میں رکھنا انا کی بات نہ سننا صلے کی آس نہ رکھنا
کس قدر عجیب ہے دیکھتا نہیں مجھ کو بولتا نہیں مجھ سے میں جو بات کرتی ہوں ان سنی سی کرتا ہے دور دور رہتا ہے جانے کس سے ڈرتا ہے بے خبر ہے وہ لیکن یوں گریز کرنے سے راستے بدلنے سے کون دل سے نکلا ہے
ایاز چپ ہے صدائے محمود حرب تازہ کی تیز تر رو میں بہہ گئی ہے ایاز چپ ہے ایاز چپ ہے کہ اب اسیران شب بھی خوابیدہ عکس لے کر تھکی تھکی خواہشوں کے سینوں پہ سو گئے ہیں وہ دن کہ جس دن جلے ہوئے طاقچوں پہ حرفوں کی بے کفن لاش دفن ہوگی وہ دن کلینڈر کی سبز تہ سے سرک گیا ہے ایاز چپ ہے لٹی ہوئی ...
حد ادراک سے ماورا منزل خاک تک ایک آراستہ جھومتے جھامتے عصر سے لمحۂ چاک تک دن گزر جائے گا بس یونہی دن گزر جائے گا نیم معلوم صدیوں کے سینۂ اسرار کو دائرہ دائرہ کھولتے کھولتے اپنے چھبیس برسوں کا سونا ترے غم کی میزان پر تولتے تولتے دن گزر جائے گا بس یونہی دن گزر جائے گا کیش کی ...