شاعری

چلی ہے یہ کیسی ہوا خوب صورت

چلی ہے یہ کیسی ہوا خوب صورت کہ دل کا یہ موسم ہوا خوب صورت یہ دنیا بنائی ہے کیا خوب صورت کہ خود ہوگا کتنا خدا خوب صورت گھڑی دو گھڑی ہی جلا ہے دیا ہاں لیکن جلا ہے دیا خوب صورت کہانی محبت کی کچھ بھی نہیں بناتی ہے اس کو وفا خوب صورت کس کی طرف یہ نظر اٹھ گئی یہ کس کا ہے چہرہ نیا خوب ...

مزید پڑھیے

خوف

نیند آتی نہیں خواب کے خوف سے خواب دیکھا تو پھر آس لگ جائے گی آس ٹوٹی تو آنکھوں میں چبھتی ہوئی کرچیاں خوں رلائیں گی آنکھوں کو بے نور کر جائیں گی خوش گمانی کی اڑتی ہوئی تتلیاں رنگ کھو دیں گی بے موت مر جائیں گی اس لیے نیند سے میری بنتی نہیں آنکھ لگتی نہیں خواب کے خوف سے بھول کر بھی ...

مزید پڑھیے

اب گلہ نہیں کرنا

اب کے ہم نے سوچا ہے جس نے بھی رلایا ہو لاکھ دل دکھایا ہو مسکرا کے ملنا ہے اب کسی امید کا محل کھڑا نہیں کرنا خود سے اب نہیں لڑنا تم سے کچھ نہیں کہنا اب گلہ نہیں کرنا یاد کے کنارے اور خواب کے جزیرے تو کب ہیں اختیار میں ہاں مگر حقیقت کے راستوں پہ بھول کر تم سے اب نہیں ملنا جھیل جیسی ...

مزید پڑھیے

سنو

اک بات کہنی ہے محبت کرنے نکلے ہو تو اتنا ذہن میں رکھنا انا کی بات نہ سننا صلے کی آس نہ رکھنا

مزید پڑھیے

گریز

کس قدر عجیب ہے دیکھتا نہیں مجھ کو بولتا نہیں مجھ سے میں جو بات کرتی ہوں ان سنی سی کرتا ہے دور دور رہتا ہے جانے کس سے ڈرتا ہے بے خبر ہے وہ لیکن یوں گریز کرنے سے راستے بدلنے سے کون دل سے نکلا ہے

مزید پڑھیے

ایاز چپ ہے

ایاز چپ ہے صدائے محمود حرب تازہ کی تیز تر رو میں بہہ گئی ہے ایاز چپ ہے ایاز چپ ہے کہ اب اسیران شب بھی خوابیدہ عکس لے کر تھکی تھکی خواہشوں کے سینوں پہ سو گئے ہیں وہ دن کہ جس دن جلے ہوئے طاقچوں پہ حرفوں کی بے کفن لاش دفن ہوگی وہ دن کلینڈر کی سبز تہ سے سرک گیا ہے ایاز چپ ہے لٹی ہوئی ...

مزید پڑھیے

دن گزر جائے گا

حد ادراک سے ماورا منزل خاک تک ایک آراستہ جھومتے جھامتے عصر سے لمحۂ چاک تک دن گزر جائے گا بس یونہی دن گزر جائے گا نیم معلوم صدیوں کے سینۂ اسرار کو دائرہ دائرہ کھولتے کھولتے اپنے چھبیس برسوں کا سونا ترے غم کی میزان پر تولتے تولتے دن گزر جائے گا بس یونہی دن گزر جائے گا کیش کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4184 سے 5858