شاعری

جتنا کم سامان رہے گا

جتنا کم سامان رہے گا اتنا سفر آسان رہے گا جتنی بھاری گٹھری ہوگی اتنا تو حیران رہے گا اس سے ملنا نا ممکن ہے جب تک خود کا دھیان رہے گا ہاتھ ملیں اور دل نہ ملیں ایسے میں نقصان رہے گا جب تک مندر اور مسجد ہیں مشکل میں انسان رہے گا نیرجؔ تو کل یہاں نہ ہوگا اس کا گیت ودھان رہے گا

مزید پڑھیے

بے آواز دکھ

دکھ ندی ہے گہری سمرتیوں کی بہتی رہی بے آواز تھکی ٹوٹی اکیلے پن سے پر کہاں ٹھہری

مزید پڑھیے

درد کی پہچان

کبھی تمہارا چہرہ آئینہ تھا جس کی لکیروں کا تمل ناد دکھ کے پہاڑوں سا میری بھیتری ندی کے تھپیڑوں سے ٹکرا کر گلتا تھا درد رس رس کر ہوتا جاتا تھا دیپت دنوں دن آج بھی وہی چہرہ ہے وہی لکیریں ہیں وہی دکھ ہیں وہی پہاڑ ہیں دوست نہیں ہے تو بس وہ بھیتری ندی جس نے دکھ کے پہاڑوں کو گلا دیا ...

مزید پڑھیے

پانی کی عمر

ہر اس چیز کے بارے میں کچھ بھی کہنا خطرناک ہے جس کا کوئی رنگ نہیں ہوتا جیسے پانی پانی کی خاموشی خاموشی کے بھیتر اتل میں انل سی پل پل دھدھکتی چھٹپٹاتی بھاشا اور پھر یہ کہنا بھی اتنا آسان کہاں ہے کہ پرانا قلعہ پرانا ہے یا قلعے کے پتھروں سے لگا میکھلا کار ٹھہرا ہوا پانی بھاشا کو ...

مزید پڑھیے

سمے کا راگ

دشائیں مجھ میں سمٹ آئی ہیں آسمان ظلم‌ و جبر کے باوجود اپنے تمام رنگوں کے ساتھ میری آنکھوں میں اتر رہا ہے دھرا کی شرا شرا میں امڑ آیا ہے سمے کا راگ ہواؤں کے پار اسپرش سے پرے بھیتر جو بولتا ہے کچھ نراکار آکھر کی آگ میں نہایا ہوا ہاتھوں میں پور پور میں کرم سا سمایا ہوا پوروج کے ...

مزید پڑھیے

کوی سے

درد تمہارا تھا شبد بھی تمہارے تھے اور گان بھی تمہارے تھے لیکن پرتدھونیوں سے گونجتا آکاش بھی کیا تمہارا تھا کوی

مزید پڑھیے

دیہہ سے پرے

ایسا کچھ ضرور ہے دنیا میں جس کی پرچھائیں نہیں بنتی اکثر دکھ بھی اپنے لئے کوئی سانچہ تلاش کر لیتے ہیں دکھوں کی فطرت ہی ہوتی ہے سمے کی گود میں بیٹھ کوئی نہ کوئی روپ دھارن کر لینا پرچھائیں سے پرے بھی ہوتی بہت سے دکھوں کی آواز آوازیں کہاں چلی جاتی ہیں کیا وہ سو جاتی ہیں چپ کے سینے ...

مزید پڑھیے

سپنے میں سپنا دیکھا تھا

سپنے میں سپنا دیکھا تھا نور کا اک دریا بہتا تھا نغمہ بھی وہ کیا نغمہ تھا آہ سے میری جو اپجا تھا جانے کیا ہونے والا تھا ہر منظر سہما سہما تھا ٹھہرے پانی میں ہلچل تھی پتھر کس نے پھینک دیا تھا سناٹے کے باہر بھیتر بس میں ہی چپ چاپ کھڑا تھا چہرے پر صحرا کا منظر آنکھوں میں دریا دیکھا ...

مزید پڑھیے

میری نیند سے تمہارے سپنوں تک

میں نے دیکھا بھیکھ مانگنے والے بچے اپنے ہی سوانگ پر جب ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں تو بھیکھ دینے والا اپنے کو ٹھگا ہوا محسوس کرتا ہے اور دتکارنے والا اپنی کرورتا پر پچھتاتا ہے آخر یہ پھیلے ہوئے ہاتھ میری نیند سے نکل کر تمہارے سپنوں تک کیوں نہیں آتے کہیں ایسا نہ ہو کہ آس امید پر جینے ...

مزید پڑھیے

رات ہر بار لیے

رات ہر بار لیے خوف کے خالی پیکر خوں مرا مانگنے بے خوف چلی آتی ہے اور جلتی ہوئی آنکھوں کے تحیر کے تلے ایک سناٹا بہت شور کیا کرتا ہے کچھ تو کٹتا ہے تڑپتا ہے بہاتا ہے لہو اور کھل جاتے ہیں ریشوں کے پرانے بخیے رات ہر بار مری جاگتی پلکیں چن کر اندھے گمنام دریچوں پہ سجا جاتی ہے اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4064 سے 5858