شاعری

سورج

ہر روز کی طرح دن آج بھی سورج کی گواہی لے کر آخر اندھیری گلیوں میں گھس آیا اور ہم اپنے اپنے گھر کے نیایے دھیش سورج کی گواہی کے عادی ہو چکے ہیں سچ مان لیتے ہیں اور یوں کہیں نہ کہیں اپنے ہی بکھراؤ میں ساجھی ہو چکے ہیں ہمیں اس سورج کی گواہی نہیں چاہیے جو کسی پیشے ور گواہ کی طرح دن کی ...

مزید پڑھیے

سچ

کانپتے ہاتھوں سے میں جہاں لکھوں گا پیار وہاں کمل پتر کھل جائے گا ایک دن بھیتر جنم لیتے امڈتے نادانراگی ساگر کی لہروں پر تر کر اک دن وہ سچ ہو جائے گا سچ مجھے معلوم نہیں تھا

مزید پڑھیے

ماں

دو لہریں ساتھ رہتی ہوئی جب کبھی ملنے کو ہوتی ہیں تو لگتا ہے ماں کے ہونٹھ کچھ کہنا چاہتے ہیں ندی کبھی سوتی نہیں ہے مڑتی ٹھٹھکتی بھٹکتی اور ٹکراتی ا ورام بہتی رہتی ہے ندی صدیوں تک بہت ہوا تو اونگھتی ہیں اس کی لہریں اداسی میں کبھی کبھی پانی کی پرتوں کے بیچ گونجتا ہے سناٹا کچھ ٹوٹتا ...

مزید پڑھیے

شبدوں کا گل مہر

کال نے لکھ دیا مجھے شبدوں کے مانند میرے یگ کے چہرے پر چاہتا ہوں فقط شبدوں کا سلگتا گل مہر بطور وصیت اگلے یگ کو سونپا جائے

مزید پڑھیے

دو گدھے

جا رہے تھے دو گدھے ایک راہ سے اپنی نادانی پہ وہ نازاں ہوئے راستہ گم تھا غبار و گرد سے جا رہے تھے گڈریے بھیڑیں لئے سوچتے جاتے تھے کچھ دونوں گدھے راستہ طے کر رہے تھے سوچتے آگے والا دل سے یوں گویا ہوا پیچھے جو آتا ہے میرے یہ گدھا رہنمائی کر رہا ہوں اس کی میں بادشاہی کر رہا ہوں سب کی ...

مزید پڑھیے

جس میں عمل کا جوش نہیں وہ شباب کیا

جس میں عمل کا جوش نہیں وہ شباب کیا مستی تو دل میں چاہیے شغل شراب کیا کیا درد دل محرک خدمت نہیں رہا جنت ٹھہر گئی ہے بنائے ثواب کیا یوں ہی نظر اٹھی تھی ذرا دیر کی طرف ملتا ہے اب یہ دیکھیں حرم سے خطاب کیا اپنوں سے خوف ہے کہ کہیں غیر ہی نہ ہوں ہے اس سے بڑھ کے اور جہاں میں عذاب ...

مزید پڑھیے

اب تو مذہب کوئی ایسا بھی چلایا جائے

اب تو مذہب کوئی ایسا بھی چلایا جائے جس میں انسان کو انسان بنایا جائے جس کی خوشبو سے مہک جائے پڑوسی کا بھی گھر پھول اس قسم کا ہر سمت کھلایا جائے آگ بہتی ہے یہاں گنگا میں جھیلم میں بھی کوئی بتلائے کہاں جا کے نہایا جائے پیار کا خون ہوا کیوں یہ سمجھنے کے لیے ہر اندھیرے کو اجالے میں ...

مزید پڑھیے

ہے بہت اندھیار اب سورج نکلنا چاہیے

ہے بہت اندھیار اب سورج نکلنا چاہیے جس طرح سے بھی ہو یہ موسم بدلنا چاہیے روز جو چہرے بدلتے ہیں لباسوں کی طرح اب جنازہ زور سے ان کا نکلنا چاہیے اب بھی کچھ لوگو نے بیچی ہے نہ اپنی آتما یہ پتن کا سلسلہ کچھ اور چلنا چاہیے پھول بن کر جو جیا ہے وہ یہاں مسلا گیا زیست کو فولاد کے سانچے ...

مزید پڑھیے

بدن پہ جس کے شرافت کا پیرہن دیکھا

بدن پہ جس کے شرافت کا پیرہن دیکھا وہ آدمی بھی یہاں ہم نے بد چلن دیکھا خریدنے کو جسے کم تھی دولت دنیا کسی کبیر کی مٹھی میں وہ رتن دیکھا مجھے ملا ہے وہاں اپنا ہی بدن زخمی کہیں جو تیر سے گھائل کوئی ہرن دیکھا بڑا نہ چھوٹا کوئی فرق بس نظر کا ہے سبھی پہ چلتے سمے ایک سا کفن دیکھا زباں ...

مزید پڑھیے

جب چلے جائیں گے ہم لوٹ کے ساون کی طرح

جب چلے جائیں گے ہم لوٹ کے ساون کی طرح یاد آئیں گے پرتھم پیار کے چمبن کی طرح ذکر جس دم بھی چھڑا ان کی گلی میں میرا جانے شرمائے وہ کیوں گاؤں کی دلہن کی طرح میرے گھر کوئی خوشی آتی تو کیسے آتی عمر بھر ساتھ رہا درد مہاجن کی طرح کوئی کنگھی نہ ملی جس سے سلجھ پاتی وہ زندگی الجھی رہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4063 سے 5858