کسی کی یاد کا چہرہ
کسی کی یاد کا چہرہ مرے ویران گھر کی ادھ کھلی کھڑکی سے جو مجھ کو بلاتا ہے سمے کی آنکھ سے ٹوٹا ہوا تارا جو اکثر رات کی پلکوں کے پیچھے جھلملاتا ہے اسے میں بھول جاؤں گی ملائم کاسنی لمحہ کہیں بیتے زمانوں سے نکل کر مسکراتا ہے کوئی بھولا ہوا نغمہ فضا میں چپکے چپکے پھیل جاتا ہے بہت دن سے ...