شاعری

جب رستوں سے عشق کامل ہوتا ہے

جب رستوں سے عشق کامل ہوتا ہے تب بندہ نزدیک منزل ہوتا ہے ہمدردی ہے دل میں تو پھر راہ دکھا بس تنقیدوں سے کیا حاصل ہوتا ہے حق کی باتیں اس کی سمجھ میں آتی ہیں جس بندے کے سینے میں دل ہوتا ہے رشتوں سے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے ورنہ کون کسی کے قابل ہوتا ہے حیرت ہے وہ جس کو ہم سے ربط نہیں دل ...

مزید پڑھیے

ہیں بہت مہربانیاں تیری

ہیں بہت مہربانیاں تیری یاد ہیں قدر دانیاں تیری میرے جینے کے دو سہارے ہیں تیری یادیں نشانیاں تیری خود کو پایا ہے پنے پنے پر پڑھ رہا تھا کہانیاں تیری ایک دن ہم کو مار ڈالیں گی یہی نازک بیانیاں تیری رو پڑا ہوں میں دیکھ کر پھر سے اپنے اندر نشانیاں تیری

مزید پڑھیے

بہا کے بیٹھے ہیں اشکوں کا اک سمندر ہم

بہا کے بیٹھے ہیں اشکوں کا اک سمندر ہم پھر آ گئے ہیں ترے گاؤں سے گزر کر ہم کسی کی آرزو ہم تھے جو نہ ہوئی پوری کسی کو ہو گئے بن کچھ کیے میسر ہم تمہارے دل میں ہی رہتے تھے ہم تو مدت سے کسے بتائیں کہ اب ہو گئے ہیں بے گھر ہم اسی لیے تو گرفتار ہیں مسائل میں سمجھنے خود کو لگے دوسروں سے ...

مزید پڑھیے

احوال مرا پوچھنے آتے بھی نہیں ہیں

احوال مرا پوچھنے آتے بھی نہیں ہیں کس حال میں خود ہیں یہ بتاتے بھی نہیں ہیں ویسے تو بساتے ہی نہیں دل میں کسی کو پر جس کو بسایا ہے بھلاتے بھی نہیں ہیں ہم ملتے نہیں ان سے یہ ان کو ہے شکایت اور خود وہ محبت سے بلاتے بھی نہیں ہیں چاہے نہ بلانا تو نہ بلوائے وہ لیکن یوں خود سے مگر دور ...

مزید پڑھیے

دل تڑپتا ہے مرا ہر دن سحر ہونے کے بعد

دل تڑپتا ہے مرا ہر دن سحر ہونے کے بعد موت آ جائے نہ تیرے بن سحر ہونے کے بعد شام تک فرصت نہ تجھ کو سانس لینے کی ملے آ کے تکلیفیں مری تو گن سحر ہونے کے بعد رات آئی آئے میخانے میں کافر ہو گئے اور پھر سے بن گئے مومن سحر ہونے کے بعد نیند تو کیا چیز آنکھیں بند بھی ہم نے نہ کی جب وہ بولے ...

مزید پڑھیے

جو بھی چاہیں آپ مرضی آپ کی

جو بھی چاہیں آپ مرضی آپ کی جائیں آئیں آپ مرضی آپ کی دل لگائیں آپ مرضی آپ کی دل دکھائیں آپ مرضی آپ کی ہم بہائیں اشک یہ اپنا نصیب مسکرائیں آپ مرضی آپ کی امتحان ہم عشق کا دیں گے ضرور آزمائیں آپ مرضی آپ کی درد دل سے آپ کو کیا واسطہ بس چلائیں آپ مرضی آپ کی شاد دل ہو گر تمہیں ہم دیکھ ...

مزید پڑھیے

مرا دن خوب صورت یوں بنا دیتا تو کیا ہوتا

مرا دن خوب صورت یوں بنا دیتا تو کیا ہوتا وہ ہم کو پیار سے آ کر جگا دیتا تو کیا ہوتا بہت وعدے کیے تھے آپ نے تو ساتھ رہنے کے محبت میں اگر اک دو نبھا دیتے تو کیا ہوتا مرا اس شب کی تاریکی سے دل بے چین ہوتا ہے رخ انور سے وہ پردہ ہٹا دیتے تو کیا ہوتا مصور ہوں تصور آپ کی تصویر ہے ...

مزید پڑھیے

ہے وجہہ سکون دل آشفتہ نوا بھی

ہے وجہہ سکون دل آشفتہ نوا بھی وہ آنکھ کہ ہے فتنۂ صد ہوشربا بھی ہے کار جنوں اہل جنوں کے لیے آساں یہ کام کبھی اہل فراست سے ہوا بھی تسکین دل و جاں ہے اگر وہ رخ زیبا اس قامت زیبا میں ہے اک حشر چھپا بھی جو سامنے آئے تو مری سمت نہ دیکھے دیتا ہے شب ہجر وہی مجھ کو صدا بھی اترے جو وہ ...

مزید پڑھیے

آج یوں درد ترا دل کے افق پر چمکا

آج یوں درد ترا دل کے افق پر چمکا جیسے دو پل کے لیے صبح کا اختر چمکا یوں ضیا بار رہی ہجر کی شب یاد تری غم کا شعلہ ترے رخسار سے بڑھ کر چمکا خاک گلشن سے نہ کوئی بھی شرارا پھوٹا فصل گل آئی نہ کوئی بھی گل تر چمکا اب نہیں اہل نظر اہل بصیرت کوئی لعل سمجھے ہیں اسے جب کوئی پتھر چمکا اک ...

مزید پڑھیے

دل تنہا میں اب احساس محرومی نہیں شاید

دل تنہا میں اب احساس محرومی نہیں شاید تری دوری بھی اب دل کے لئے دوری نہیں شاید جہاں دن میں اندھیرا ہو وہاں راتوں کا کیا کہنا یہاں کے چاند سورج میں چمک ہوتی نہیں شاید میں جب بستر سے اٹھتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے مرے اندر کی دنیا رات بھر سوتی نہیں شاید یہ کس صحرا کے کس گوشے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3998 سے 5858