شاعری

ہیں دھبے تیغ قاتل کے جسے دھونے نہیں دیتے

ہیں دھبے تیغ قاتل کے جسے دھونے نہیں دیتے مرے احباب تجدید وفا ہونے نہیں دیتے مری وحشت کے سائے جھانکتے رہتے ہیں روزن سے یہ آدم خور مجھ کو رات بھر سونے نہیں دیتے شکست آرزو رسوائی فکر و نظر پیہم یہی حالات مجھ کو آپ کا ہونے نہیں دیتے تقاضائے وفا میں بھی ستم کا ایک پہلو ہے میں رونا ...

مزید پڑھیے

اس طرح درد کا تم اپنے مداوا کرنا

اس طرح درد کا تم اپنے مداوا کرنا یاد ماضی کو چراغ رہ فردا کرنا تیری دزدیدہ نگاہی کے میں سو بار نثار دیکھنے والے اسی چاہ سے دیکھا کرنا حشر تک جینے کا ارمان لیے بیٹھا ہوں تم ذرا زیست کے اسباب مہیا کرنا خواہش دید کی توہین ہے جلووں کا خیال میری نظروں کا تقاضا ہے کہ پردا کرنا ایک ...

مزید پڑھیے

یاد جو آئے خود شرمائیں اف ری جوانی ہائے زمانے

یاد جو آئے خود شرمائیں اف ری جوانی ہائے زمانے جیٹھ میں بیٹھے ساون گائیں اف ری جوانی ہائے زمانے ہنستے ہنستے روٹھ بھی جائیں اف ری جوانی ہائے زمانے سونا چاندی دونوں کٹائیں اف ری جوانی ہائے زمانے دور جنوں میں یاس کا عالم حشر سے پہلے حشر کا منظر تپتا موسم سرد ہوائیں اف ری جوانی ...

مزید پڑھیے

نفس نفس نہ کہیں جائے رائیگاں اپنا

نفس نفس نہ کہیں جائے رائیگاں اپنا ہوا کی شاخ پہ رکھا ہے آشیاں اپنا ہمارے خواب میں کمخواب ہے نہ ریشم ہے یقیں یقیں ہی رہا ہے نہ اب گماں اپنا عبا قبا تو ہے شاہوں کی چونچلے بازی قلندروں کا ہے سب سے الگ جہاں اپنا ترے خلوص کے ہاتھوں بکے ہوئے ہیں ہم نہ سود سود ہے اپنا نہ ہے زیاں ...

مزید پڑھیے

طور بے طور ہوئے جاتے ہیں

طور بے طور ہوئے جاتے ہیں اب وہ کچھ اور ہوئے جاتے ہیں چھلکی پڑتی ہے نگاہ ساقی دور پر دور ہوئے جاتے ہیں تو نہ گھبرا کہ ترے دیوانے خوگر جور ہوئے جاتے ہیں عشق کے مسئلہ‌ ہائے سادہ قابل غور ہوئے جاتے ہیں

مزید پڑھیے

یہ کیف کیف محبت ہے کوئی کیا جانے

یہ کیف کیف محبت ہے کوئی کیا جانے چھلک رہے ہیں نگاہوں میں دل کے پیمانے کہانیوں ہی پہ بنیاد ہے حقیقت کی حقیقتوں ہی سے پیدا ہوئے ہیں افسانے نہ اب وہ آتش نمرود ہے نہ شعلۂ طور تری نگاہ کو کیا ہو گیا خدا جانے ہزار تیری محبت نے رہنمائی کی گزر سکے نہ مقام جنوں سے دیوانے انہی کو حاصل ...

مزید پڑھیے

بے نیازی سے مدارات سے ڈر لگتا ہے

بے نیازی سے مدارات سے ڈر لگتا ہے جانے کیا بات ہے ہر بات سے ڈر لگتا ہے ساغر بادۂ گل رنگ تو کچھ دور نہیں نگہ پیر خرابات سے ڈر لگتا ہے دل پہ کھائی ہوئی اک چوٹ ابھر آتی ہے تیرے دیوانے کو برسات سے ڈر لگتا ہے اے دل افسانۂ آغاز وفا رہنے دے مجھ کو بیتے ہوئے لمحات سے ڈر لگتا ہے ہاتھ سے ...

مزید پڑھیے

جو مرے دل میں آہ ہو کے رہی

جو مرے دل میں آہ ہو کے رہی وہ نظر بے پناہ ہو کے رہی میں ہوں اور تہمت زبونیٔ دل بے گناہی گناہ ہو کے رہی خلش دل پہ کچھ بھروسا تھا وہ بھی تیری نگاہ ہو کے رہی دل کی عشرت پسندیاں توبہ ہر تمنا گناہ ہو کے رہی

مزید پڑھیے

پہلو میں اک نئی سی خلش پا رہا ہوں میں

پہلو میں اک نئی سی خلش پا رہا ہوں میں اس وقت غالباً انہیں یاد آ رہا ہوں میں کیا چشم التفات کا مطلب سمجھ گیا کیوں ترک آرزو کی قسم کھا رہا ہوں میں کیا کچھ نہ تھی شکایت‌ کوتاہیٔ نظر اب وسعت نگاہ سے گھبرا رہا ہوں میں تو یہ سمجھ رہا ہے کہ مجبور عشق ہوں کچھ سوچ کر فریب وفا کھا رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

موج انفاس بھی اک تیغ رواں ہو جیسے

موج انفاس بھی اک تیغ رواں ہو جیسے زندگی کار گہ شیشہ گراں ہو جیسے دل پہ یوں عکس فگن ہے کوئی بھولی ہوئی یاد سر کہسار دھندلکے کا سماں ہو جیسے حاصل عمر وفا ہے بس اک احساس یقیں وہ بھی پروردۂ‌ آغوش گماں ہو جیسے مجھ سے وہ آنکھ چراتا ہے تو یوں لگتا ہے ساری دنیا مری جانب نگراں ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3999 سے 5858