شاعری

مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہے

مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہے الٹتی ہیں صفیں گردش میں جب پیمانہ آتا ہے نہایت دل کو ہے مرغوب بوسہ خال مشکیں کا دہن تک اپنے کب تک دیکھیے یہ دانہ آتا ہے خوشی سے اپنی رسوائی گوارا ہو نہیں سکتی گریباں پھاڑتا ہے تنگ جب دیوانہ آتا ہے فراق یار میں دل پر نہیں معلوم کیا گزری جو اشک ...

مزید پڑھیے

دیوانگی نے کیا کیا عالم دکھا دیے ہیں

دیوانگی نے کیا کیا عالم دکھا دیے ہیں پریوں نے کھڑکیوں کے پردے اٹھا دیے ہیں اللہ رے فروغ اس رخسار آتشیں کا شمعوں کے رنگ مثل کافور اڑا دیے ہیں آتش نفس ہوا ہے گل زار کی ہمارے بجلی گری ہے غنچے جب مسکرا دیے ہیں سو بار گل کو اس نے تلووں تلے ملا ہے کٹوا کے سرو شمشاد اکثر جلا دیے ...

مزید پڑھیے

مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیں

مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیں وہ دہن ہوں جس میں زباں نہیں وہ جرس ہوں جس میں صدا نہیں نہ تجھے دماغ نگاہ ہے نہ کسی کو تاب جمال ہے انہیں کس طرح سے دکھاؤں میں وہ جو کہتے ہیں کہ خدا نہیں کسے نیند آتی ہے اے صنم ترے طاق ابرو کی یاد میں کبھی آشنائے تہ بغل سر مرغ قبلہ نما ...

مزید پڑھیے

دوست دشمن نے کئے قتل کے ساماں کیا کیا

دوست دشمن نے کئے قتل کے ساماں کیا کیا جان مشتاق کے پیدا ہوئے خواہاں کیا کیا آفتیں ڈھاتی ہے وہ نرگس فتاں کیا کیا داغ دیتی ہے مجھے گردش دوراں کیا کیا پھر سکی میرے گلے پر نہ چھری ہے ظالم ورنہ گردوں سے ہوئے کار نمایاں کیا کیا حسن میں پہلوئے خورشید مگر دابے گا دور کھنچتا ہے ہمارا ...

مزید پڑھیے

حسن پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کا

حسن پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کا ہشیار وہی ہے کہ جو دیوانہ ہے اس کا گل آتے ہیں ہستی میں عدم سے ہمہ تن گوش بلبل کا یہ نالہ نہیں افسانہ ہے اس کا گریاں ہے اگر شمع تو سر دھنتا ہے شعلہ معلوم ہوا سوختہ پروانہ ہے اس کا وہ شوخ نہاں گنج کی مانند ہے اس میں معمورۂ عالم جو ہے ویرانہ ہے اس ...

مزید پڑھیے

کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا

کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا کبھی سامنے ہو کے مجنوں نہ نکلا بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا بجا کہتے آئے ہیں ہیچ اس کو شاعر کمر کا کوئی ہم سے مضموں نہ نکلا ہوا کون سا روز روشن نہ کالا کب افسانۂ زلف شبگوں نہ نکلا پہنچتا اسے مصرع تازہ و تر قد ...

مزید پڑھیے

تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں

تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں رہی ہے ایک تصویر خیالی روبرو برسوں ہوا مہمان آ کر رات بھر وہ شمع رو برسوں رہا روشن مرے گھر کا چراغ آرزو برسوں برابر جان کے رکھا ہے اس کو مرتے مرتے تک ہماری قبر پر رویا کرے گی آرزو برسوں چمن میں جا کے بھولے سے میں خستہ دل کراہا تھا کیا کی ...

مزید پڑھیے

یہ زندگی کے تجربات قیمتی ہیں بہت

یہ زندگی کے تجربات قیمتی ہیں بہت تمہارے پاک خیالات قیمتی ہیں بہت لکھے تھے ہم نے جو اشکوں کی روشنائی سے وہ عشق کے بھی مقالات قیمتی ہیں بہت انہی سے ہوتی ہے معراج عشق کو حاصل یہ درد اور یہ جذبات قیمتی ہیں بہت نصاب عشق میں پوچھے گئے ہیں جو اکثر جواب چھوڑو سوالات قیمتی ہیں ...

مزید پڑھیے

اب ان پہ میری آہ کا ہوگا اثر کہاں

اب ان پہ میری آہ کا ہوگا اثر کہاں کیا حال ہے مرا انہیں اس کی خبر کہاں اب ان کے دل میں ہم سے فقیروں کا گھر کہاں بس دیکھیے کے پھرتے ہیں ہم در بدر کہاں اک مشکلوں کی دھوپ سے میرا ہے سامنا آسانیوں کا راہ میں کوئی شجر کہاں مدت ہوئی کے عید میسر نہیں ہمیں آیا ہے چاند ہم کو ہمارا نظر ...

مزید پڑھیے

کس نے یہ سوچا تھا حیدرؔ ایسا بھی ہو سکتا ہے

کس نے یہ سوچا تھا حیدرؔ ایسا بھی ہو سکتا ہے جس کو پیار سمجھ بیٹھے وہ دھوکا بھی ہو سکتا ہے غیروں کے ہاتھوں میں خنجر ڈھونڈ رہے ہو آخر کیوں جس نے کیا برباد ہمیں وہ اپنا بھی ہو سکتا ہے سانسیں لینا بس ہو علامت جینے کی لازم تو نہیں دل کے اندر جھانک کے دیکھو مردہ بھی ہو سکتا ہے سارے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3997 سے 5858