مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہے
مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہے الٹتی ہیں صفیں گردش میں جب پیمانہ آتا ہے نہایت دل کو ہے مرغوب بوسہ خال مشکیں کا دہن تک اپنے کب تک دیکھیے یہ دانہ آتا ہے خوشی سے اپنی رسوائی گوارا ہو نہیں سکتی گریباں پھاڑتا ہے تنگ جب دیوانہ آتا ہے فراق یار میں دل پر نہیں معلوم کیا گزری جو اشک ...