مرے مد مقابل تیر خنجر اور بھالے ہیں
مرے مد مقابل تیر خنجر اور بھالے ہیں مگر ایسے کئی بھالے مرے دل نے سنبھالے ہیں مقید دائرہ در دائرہ ہے زندگی میری مرے ہر چاند کے چاروں طرف تاریک ہالے ہیں کٹے کی زندگی کیسے مسلسل جبر میں رہ کر سفر صحرا کا ہے اور پاؤں میں چھالے ہی چھالے ہیں بھلا سکتا ہوں کیسے وار جو سینے پہ کھائے ...