شاعری

مرے دل کے دریچے میں مری پلکوں کی چوکھٹ پر

مرے دل کے دریچے میں مری پلکوں کی چوکھٹ پر ابھی تک ہے تری خوشبو مرے ہونٹوں کی چوکھٹ پر تری آشا کا ہر شب میں بجھا سا جو دکھائی دے وہ تارا جھلملائے پھر مری صبحوں کی چوکھٹ پر نیا پھر درد کا موسم یہ غم شاداب پھر ہوں گے ترے خوابوں کی دستک پھر مرے نینوں کی چوکھٹ پر تری یادوں کے سب جگنو ...

مزید پڑھیے

لگتا ہے ربط ہی نہیں صبحوں کے ساتھ ساتھ

لگتا ہے ربط ہی نہیں صبحوں کے ساتھ ساتھ شاموں میں ڈھل گئی ہوں میں شاموں کے ساتھ ساتھ اب اس سے بڑھ کے سانحہ ہونا ہے اور کیا آنکھیں بھی جل بجھیں مری خوابوں کے ساتھ ساتھ جھولی میں بھر کے چاند کی کرنیں تری طرف چلتی رہی ہوں رات میں تاروں کے ساتھ ساتھ جاناں تمہاری یاد کے موسم ہرے ...

مزید پڑھیے

پیر کامل

زندگی کے مزاروں پر حسرتوں کے چڑھاوے تو چڑھتے ہیں مگر جب پیر کامل مل جائے منتیں سبھی پوری ہو جاتی ہیں

مزید پڑھیے

میرے مجرم

انہیں سنگسار کر ڈالو انہیں مسمار کر ڈالو عصمتوں کے کھلاڑیوں کو ہوس کے پجاریوں کو حوا کی بیٹیوں کے شکاریوں کو انہیں سنگسار کر ڈالو انہیں مسمار کر ڈالو مجرم تو بن سکتے ہیں محرم بن نہیں سکتے یہ عزت کر نہیں سکتے یہ عزت بن نہیں سکتے جنہیں جس ذات نے پالا اسی سے بے وفا نکلے انہیں سنگسار ...

مزید پڑھیے

آزاد کر دو

سنو اک بات کہنی ہے مجھے آزاد کر دو تم ہر اک بے نام بندھن سے جدائی کی اذیت سے ہجر کی کالی راتوں سے سبھی بے نام رشتوں سے سبھی بے دام وعدوں سے وفا کے جھوٹے دعووں سے سنو اک بات کہنی ہے مجھے آزاد کر دو تم

مزید پڑھیے

ساجن کے سواگت کو سورج لایا بھر بھر تھالی دھوپ

ساجن کے سواگت کو سورج لایا بھر بھر تھالی دھوپ خوش ہو کر دونوں ہاتھوں سے چاروں اور اچھالی دھوپ چھن چھن کر پتوں سے دکھائے کیا کیا کلا نرالی دھوپ بن جائے دھرتی پر کیسی سندر سندر جالی دھوپ جب تک ساتھ تھا من موہن کا جیون کتنا سہانا تھا چاندنی جیسے دودھ کی دھاریں جیسے مدھ کی پیالی ...

مزید پڑھیے

ہم قفس میں رہ کے جس کو آشیاں کہتے رہے

ہم قفس میں رہ کے جس کو آشیاں کہتے رہے تھی فقط حد نظر ہم آسماں کہتے رہے اک سراب مستقل کو گلستاں کہتے رہے اس بت نا مہرباں کو مہرباں کہتے رہے آندھیوں نے آشیانے تو مٹا ڈالا مگر چند تنکے آشیاں کی داستاں کہتے رہے جب زباں نے ساتھ چھوڑا بن گئیں یہ ترجماں ہم جن آنکھوں کو ہمیشہ بے زباں ...

مزید پڑھیے

ہجر میں جس دم روتے روتے آنکھیں جل ہو جائیں

ہجر میں جس دم روتے روتے آنکھیں جل ہو جائیں پتلی میں جو آپ بسے ہیں جل میں کنول ہو جائیں پیار کے ساگر کی تیراکی کھیل نہیں ہے کوئی طوفانوں سے لڑتے لڑتے بازو شل ہو جائیں تم جو ہو سیماب صفت تو ہم بھی ڈھلتی چھاؤں تم جو رہو وعدے پر قائم ہم بھی اٹل ہو جائیں پیار کی بازی ہارنا ہے تو پوری ...

مزید پڑھیے

حیا بھی آنکھ میں وارفتگی بھی

حیا بھی آنکھ میں وارفتگی بھی بدن میں پیاس لب پر خامشی بھی دریچے بند ہوں اچھا ہے لیکن ضروری ہے ہوا بھی روشنی بھی میں واقف ہوں تری چپ گویوں سے سمجھ لیتا ہوں تیری ان کہی بھی پہن لیں لمس کی آنچیں کسی دن پگھل جائے یہ حد آخری بھی کیا کرتی ہے سجدے مجھ کو ٹھوکر مقدس ہے مری آوارگی ...

مزید پڑھیے

تجھ سے بچھڑوں تو یہ خدشہ ہے اکیلا ہو جاؤں

تجھ سے بچھڑوں تو یہ خدشہ ہے اکیلا ہو جاؤں گھور تنہائی کے جنگل کا میں حصہ ہو جاؤں اک ترے دم سے ہی شاداب ہے یہ میرا وجود تو نظر پھیر لے مجھ سے تو میں صحرا ہو جاؤں دل کی دیواروں پہ مرقوم رہے نام مرا قبل اس کے کہ میں بھولا ہوا قصہ ہو جاؤں تو اگر دل میں بسا لے تو بنوں میں شاعر تو جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 122 سے 5858