شاعری

رات دن شام و سحر سب ایک رنگ

رات دن شام و سحر سب ایک رنگ حادثے خیر و خبر سب ایک رنگ ایک رنگ آب و ہوائے خشک و تر بحر و بر سیر و سفر سب ایک رنگ ہر طرف ویرانیاں ہیں خیمہ زن گھر کھنڈر صحرا نگر سب ایک رنگ جانے کس موسم نے یہ منظر دیا خار، گل، برگ و ثمر سب ایک رنگ نیک و بد کردار کی پہچان کیا جن پری پتھر بشر سب ایک ...

مزید پڑھیے

ایسی خوشبو تو مجھے آج میسر کر دے

ایسی خوشبو تو مجھے آج میسر کر دے جو مرا دل مرا احساس معطر کر دے خشک پھر ہونے لگے زخم دل بسمل کے اپنی چاہت کی نمی دے کے انہیں تر کر دے وسعت دل کو ذرا اور بڑھا دے یا رب یہ جو گاگر ہے اسے پیار کا ساگر کر دے آہٹیں نیند کی جو سننے کو ترسے آنکھیں وہ ہی بچپن کی طرح فرش کو بستر کر ...

مزید پڑھیے

دھرتی کاٹے عنبر کاٹے

دھرتی کاٹے عنبر کاٹے تم بن ہر اک منظر کاٹے اس پاپی کا منتر کاٹے کوئی پیر پیمبر کاٹے پیار میں دنیا بلی بن کر میرا رستہ اکثر کاٹے فصل محبت کی دیوانی دن بھر بوئے شب بھر کاٹے رونے کے دن بھی آئے تھے لیکن ہم نے ہنس کر کاٹے تجھ بن مجھ کو نیند نہ آئے رین ڈسے اور بستر کاٹے دیتے ہو تم ...

مزید پڑھیے

خود پہ گزرے عذاب لکھتی ہوں

خود پہ گزرے عذاب لکھتی ہوں آج کر کے حساب لکھتی ہوں بحر دل میں ہے اک سناٹا اور میں اضطراب لکھتی ہوں خود کو ذرے سے مختصر کر کے آپ کو آفتاب لکھتی ہوں جب کوئی پھول مسکراتا ہے اس کو اپنا شباب لکھتی ہوں ناز کر کر کے آج کل خود کو آپ کا انتخاب لکھتی ہوں میری اچھائی کی سند یہ ہے خود کو ...

مزید پڑھیے

ہوگا کسی کے حسن کا سودا یہیں کہیں

ہوگا کسی کے حسن کا سودا یہیں کہیں یوسف خرید لے گی زلیخا یہیں کہیں شاید ادھر ادھر پڑی ہوں اب بھی کرچیاں ٹوٹا تھا آنکھوں کا کوئی سپنا یہیں کہیں اہل جنوں کے نقش کف پا یہاں پہ ہیں ہونا تو چاہیے کوئی صحرا یہیں کہیں حیرت ہے دیکھ کر کہ جہاں اڑ رہی ہے خاک بہتا تھا میرے خواب کا دریا ...

مزید پڑھیے

یوں اپنے ایک خواب میں گم ہو گیا تھا میں

یوں اپنے ایک خواب میں گم ہو گیا تھا میں نکلی ہوئی تھی دھوپ مگر سو رہا تھا میں کوئی مقام نیند کے باغوں میں تھا کہیں ٹھنڈی ہواؤں میں وہاں دو پل رکا تھا میں کچھ اجنبی مکان تھے کچھ اجنبی مکیں آنکھیں تھیں بند پھر یہ کہاں جھانکتا تھا میں اک سمت چاندنی تھی تو اک سمت دھوپ تھی جیسے کوئی ...

مزید پڑھیے

دور سے ہم کو لگا تھا بے زباں آب رواں

دور سے ہم کو لگا تھا بے زباں آب رواں اگلے ہی پل تھا صداؤں کا جہاں آب رواں اک سہانی شام کے رنگوں کے گھیرے میں کہیں میں مری تنہائی یاد رفتگاں آب رواں شاخ سے پھولوں کو کھینچا ان کے اپنے عکس نے جانے اب لے جائے گا ان کو کہاں آب رواں میں بھی راہی ہوں مجھے اپنے سفر کا راز دے کس کی خاطر ...

مزید پڑھیے

پرندوں کی بولی

بہت دن ہوئے ایک تالاب کے پاس میں نے پرندوں کو دیکھا فلک پر بھٹکتے ہوئے چند بادل تھے اور صبح کی دھوپ میں ہلکی ہلکی سی ٹھنڈک وہاں گہرے تالاب کے پاس اونچے درختوں کی اس اوٹ میں دھوپ کی ٹھنڈی ٹھنڈی سی کرنوں سے لپٹے ہوئے سبز پتے درختوں سے تالاب میں گر رہے تھے وہیں میں نے دیکھا کہ دنیا ...

مزید پڑھیے

کوئی ستم اور کوئی نہ ظلم یاد رہے گا (ردیف .. ی)

کوئی ستم اور کوئی نہ ظلم یاد رہے گا ہم کو وطن سے ہے جو محبت یاد رہے گی جب ہم اپنی ہر شے بھولتے جاتے ہوں گے بھولتے جانے کی یہ عادت یاد رہے گی مسلے گئے تھے جانے کیوں امید کے پھول پھولوں کی انمول شہادت یاد رہے گی بھول نہ پاؤں حسن وہ چہرہ خوابوں جیسا اس سے بچھڑ جانے کی قیامت یاد رہے ...

مزید پڑھیے

صحرا میں ہوں جنوں کے بھی آثار ہی نہیں

صحرا میں ہوں جنوں کے بھی آثار ہی نہیں سر پھوڑنے کے واسطے دیوار ہی نہیں جس کی دوائے دل کی ضرورت کے واسطے ہم چارہ گر ہوئے تو وہ بیمار ہی نہیں اپنے وطن کی خاک لیے پھر رہا ہوں میں اس کی وفاؤں سے مجھے انکار ہی نہیں تقدیر کے ہیں کھیل جواں عشق جب ہوا تب کھیلنے کے واسطے منجھدار ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 120 سے 5858