شاعری

ایک دن منایا جانا چاہیے

ایک دن منایا جانا چاہیے میرا بھی سانس کی بے آواز لہروں پر تیرتی زندگی کے ساتھ بے نشان ساحلوں پر بکھری سیپیوں کے ہم راہ سرد موسموں میں کوچ کر جانے والے پرندوں کے سنگ انجان سر زمینوں پر کسی ان دیکھے رنگ کے پھول کی پتیوں سے پھوٹتی پر اسرار خوشبو کے بازووں میں تم مناتے ہو مدر ڈے اور ...

مزید پڑھیے

تم کہتے ہو

لوگ نہیں کہتے کہ تم نہیں دیکھ سکتے آنکھوں کی بوسیدہ شاخوں سے پھوٹتی ہریاول لوگ نہیں کہتے کہ تم نہیں سن سکتے تاریکی کا سرمست گیت لوگ نہیں کہتے کہ تم نہیں چکھ سکتے زبان میں جاگتے ماورائی ذائقے لوگ نہیں کہتے کہ تم نہیں سونگھ سکتے بوسوں میں مہکتی حلاوت لوگ نہیں کہتے کہ تم نہیں چھو ...

مزید پڑھیے

دیکھ لو گے خود!

درختو! منتظر ہو؟ پانیوں میں جھانکتے کیا ہو؟ کھڑے ہو ساکت و جامد خود اپنے عکس کی حیرانیوں میں گم تکو اک دوسرے کا منہ رہو یوں ایستادہ پانیوں کو کیا یونہی بہتے رہیں گے عکس جو جھلکے گا سطح آب بس آئینہ بن کر جگمگائے گی ہوا جو موج میں آئی تو بس لہروں سے کھیلے گی تمہارے ڈگمگاتے عکس ...

مزید پڑھیے

وہ کیا مصلحت تھی

میں آغاز ہستی سے حوا کی صورت ہوں آدم کی خواہش کا اک شاخسانہ زمیں کو بسانے کا بس اک بہانہ! میں روز ابد نیکیوں کا صلہ ہوں نہ جانے میں کیا ہوں گلہ خالق کل سے کیسے کروں میں اسی کی رضا ہوں یہ ہے فخر آدم کہ بس ابن آدم امین خدا ہے قرین خدا ہے مری ہستی کیا ہے فقط واسطہ ہے! یہ تسلیم ہے ہر ...

مزید پڑھیے

وہاں میں نہیں تھی

فقط خالی پنجرہ بدن کا پڑا تھا اور نیم وا ان کواڑوں کی ہر چرچراہٹ میں حیرانیاں بولتی تھیں زمیں کی فضا سے مجھے کس نے باہر ڈھکیلا فلک تک مری دسترس کیوں نہیں تھی نہ جانے میں کب تک خلا میں بھٹکتی رہی تھی وہیں پر منقش دریچوں میں سر سبز بیلیں ستونوں سے لپٹی ہوئی تھیں چمکتے ہوئے چھت کے ...

مزید پڑھیے

تمہیں کھوجتی ہیں جو آنکھیں

تمہیں کھوجتی ہیں جو آنکھیں۔۔۔ تم ان میں کسے دیکھتے ہو؟ کوئی گم شدہ مسکراہٹ۔۔۔ جو دل کے خلاؤں کو بھرنے لگی ہے یا اک دھن کہ جس پر یہ ٹھہری ہوئی منجمد زندگی، رقص کرنے لگی ہے! تمہارے بھی من میں پرندوں کی چہکار پھر سے اترنے لگی ہے؟ کوئی بھولی بسری سی سرگوشی۔۔۔ ہونٹوں پہ کھلنے لگی ...

مزید پڑھیے

دریچہ کھلا ہے

سنہرا پرندہ نیا ایک سورج پروں میں چھپائے دریچے میں یوں چہچہانے لگا ہے کہ ہر روز آنکھیں وہی نقش پھر ڈھونڈھتی ہیں سنہرا پرندہ ہے شیشے کے اندر کہ شیشے کے باہر کوئی بھی نہیں جانتا ہے وہ عکاس ایسا ہے منظر گھلائے ملائے اگر اس کی تصویر کھینچی گئی تو نہ جانے وہ کیا کچھ دکھائے سنہرا ...

مزید پڑھیے

اسٹیٹس اپ ڈیٹ

قہقہے لگاتی ہیں انگلیوں کی پوریں اور کبھی ماتم کرنے لگتی ہیں بانٹتی رہتی ہیں لفظوں کے پھیکے میٹھے کڑوے اور ترش ذائقے ہر نئی صبح یادوں کی پٹاری سے نکال لاتی ہیں کوئی جادوئی کبوتر ملی جلی آوازیں ٹکراتی رہتی ہیں آنکھوں کے پردے سے اور پوریں آگے چل پڑتی ہیں چہ می گوئیاں اور ...

مزید پڑھیے

لمس جھوٹا نہیں

وہ تھل کی ریت اڑاتا ہے تو ذرے ہونٹوں پر چپک جاتے ہیں زبان ذائقے کی کڑواہٹ تھوکتی رہ جاتی ہے اور وہ جو بند ہونٹوں کے قفل توڑنا جانتا ہے چھٹی حس مقفل نہیں کر سکتا وہ نہیں جانتا بھنچے ہونٹوں سے چھوا جائے تو زبان ہی نہیں دل بھی کلام کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور وہ بھی جو شب و روز کی ...

مزید پڑھیے

سمے ہی کچھ ایسا تھا

سفید بالوں اور ہیرے کی کنی جیسی آنکھوں والوں کے دل سونے کی ڈلی سے تراشے جاتے ہیں وہ نہیں بولتے مگر چار اطراف چاندی جیسے اجلے لفظ مسکرانے لگتے ہیں وہ سفید بادلوں میں شفافیت کا رنگ بھر دیتے ہیں آسمان کی نیلاہٹ بھر لیتے ہیں آنکھوں میں جذب کر لیتے ہیں سات رنگ زندگی کے تجربے کی آنچ ان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 810 سے 960