شاعری

ابن آدم

کوئی جب پوچھتا ہے یہ شیعہ ہو تم یا سنی ہو وہابی ہو کہ دیوبندی بتاؤ کون سے فرقے سے نسبت ہے نہ جانے کیوں مجھے اک پل سجھائی کچھ نہیں دیتا میں گہری سوچ میں تب ڈوب جاتا ہوں مرے اندر سے اک آواز آتی ہے سنا ہے تم نے بچپن سے کہ تم تو ابن آدم ہو تو پھر سچ سچ بتاؤ نا مسلمانوں کے فرقے کیا کہ ہندو ...

مزید پڑھیے

قیدی

سنو لڑکی محبت کے سفر میں تو کوئی منزل نہیں ہوتی کہ تپتے ریگزاروں میں ہمیشہ چلنا پڑتا ہے یہ ایسا کھیل ہے جس میں کہیں بھی جیت ہوتی ہے نہ کوئی مات ہوتی ہے فقط جو قرب پانے کو محبت نام دیتے ہیں بہت نادان ہوتے ہیں سنو لڑکی تمہیں تو بنت حوا کی نظر آتی ہے مجبوری تمہیں کیسے بتاؤں میں کہ میں ...

مزید پڑھیے

یاد

میری محبوب تجھے یاد بھی ہیں وہ لمحے وہ شب وصل کہ جب خواب سنور آئے تھے اسم اعظم کی طرح ورد زباں تھا کوئی جیسے عابد ہو مصلے پہ زباں کھولے ہوئے خامشی ایسی کہ جگ بیت گئے بولے ہوئے ایک نے ایک کو پیغام دیا ہو جیسے ایک نے ایک سے پیغام لیا ہو جیسے وجد کی نیند میں کچھ دیر تلک سوئے بھی ...

مزید پڑھیے

خواب

تمہارے آنچل کی سرخ شامیں کہ جس کی خوشبو لہو لہو ہے وہ سبز بارش کہ جو ہمارے بدن کی مٹی کو گیلا کر کے دہکتے سورج کی گرم بانہوں میں سو گئی ہے

مزید پڑھیے

مرا مخالف خدا نہیں ہے

میں آسماں کی بلندیوں سے تمہاری نظروں کی نرم شاخوں پہ آ گیا ہوں کہ سر پھری سی ہوا کی زد میں مری نگاہوں کا نور گم ہے میں چاندنی کی سفید راتوں میں لٹ گیا ہوں خود اپنی نظروں سے گر گیا ہوں مگر یہ میری خطا نہیں ہے مرا مخالف خدا نہیں ہے

مزید پڑھیے

صلیب

کہ جیسے روز ازل سے اب تک بکھرتی قوس قزح کی زد میں یہ ریزہ ریزہ وفا کی کرنیں اتر رہی ہیں ہماری سانسوں کی الگنی پر

مزید پڑھیے

لمس

نیند آئے تو تیرا خواب دیکھوں تجھے نظر میں بھروں کہ صبح آئے گی آنکھوں میں پھر عذاب لیے

مزید پڑھیے

عورت

لذت دید سے دیکھو گے مچل جاؤ گے آگ ہوں ہاتھ لگاؤ گے تو جل جاؤ گے موم پتھر کو بنا دوں وہ اثر رکھتی ہوں پاؤں شعلوں پہ تو تلوار پہ سر رکھتی ہوں یہ بہاریں یہ امنگیں یہ مسرت یہ شباب یہ شفق رنگ مناظر یہ شگوفے یہ گلاب یہ نوازش یہ عنایات کہاں پاؤ گے رب سے بخشی ہوئی سوغات کہاں پاؤ گے میری ...

مزید پڑھیے

اجازت

کاش اس دل کی طرح کوئی مکاں بھی ہوتا اپنی ہستی کی طرح اپنا جہاں بھی ہوتا ظلمت شب میں تجلی کا گماں بھی ہوتا میرے ہونٹوں پہ مرا طرز بیاں بھی ہوتا میری یادوں کو مری جان بسر جانے دو بات جو دل پہ گزرتی ہے گزر جانے دو آج جب ترک تعلق کا خیال آیا ہے ایسا لگتا ہے محبت کو زوال آیا ہے اتنی حسرت ...

مزید پڑھیے

مطالبہ

کچلتے جسموں کا درد اب بھی بکھر رہا ہے بدن بدن میں سلگتے خیموں کی آگ اب بھی بھڑک رہی ہے نظر نظر میں سسکتے بچوں کی آہ اب بھی زمین دل کو ہلا رہی ہے تڑپتی لاشوں کی چیخ اب بھی بکھر رہی ہے سماعتوں میں رگوں سے اپنی ہم اپنا خوں جو بہا رہے تھے بہا رہے ہیں ہماری سانسوں میں اس کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 801 سے 960