شاعری

مہربان

بہ ہر حال احسان کرتے ہیں ہم پر کبھی دوستی سے کبھی دشمنی سے کبھی جان و دل سے کبھی بے دلی سے کبھی موت سے اور کبھی زندگی سے الجھتے چلے جاتے ہیں ہر قدم پر غلط گوئی کی معذرت بھی کریں گے اگر اتفاقاً کبھی سامنا ہو دعائیں بھی لے لو ستائش بھی سن لو نمائش کی خاطر جئیں گے مریں گے چھپائے ہوئے ...

مزید پڑھیے

سچ

نہ میرے پاؤں کی انگلی انگوٹھے سے بڑی ہے نہ میرے ہاتھ کی وہ لکیر کہیں سے بھی کٹی ہوئی ہے پھر تم کیوں میرے ساتھ نہیں ہو تم میں اور مجھ میں یہ انتر ایسا کیوں ہے میں جو کہتی ہوں وہ غلط ہے تم جو کرتے ہو وہ سچ ہے

مزید پڑھیے

گاؤں کا المیہ

جب تم لوٹو گے تو دیکھنا شہر کی ویرانیاں ابابیل کی طرح یہاں بھی اپنا ڈیرا ڈال چکی ہیں اب کسی بھی آنکھ میں پہچان کی خوشبو نہیں ہے چوباروں کے دئے کب کے بجھ چکے ہیں بہت جان لیوا سناٹا وہاں لیٹا رہتا ہے جب تم لوٹو گے تب امرائیوں میں کھڑے پیڑوں کی بے حد اداس سی گپ چپ سرگوشی سنو گے پکے ...

مزید پڑھیے

تمہارے جانے کے بعد

اکثر تمہارے جانے کے بعد دریچے کھلتے ہیں بند ہوتے ہیں شوخ لہریں سرکشی کرتی ہیں کناروں سے سانپ کے کینچل کی طرح سمندر کی لہریں سمٹتی ہیں سکڑتی ہیں اور اپنی ہی گہرائی میں ڈوب جاتی ہیں کچھ لمحے ناد کی مانند سطح پر ابھرتی ہیں اور اوجھل ہو جاتی ہیں

مزید پڑھیے

کیا چاہتا ہوں

نہ تکمیل عہد وفا چاہتا ہوں نہ تجدید جور و جفا چاہتا ہوں میں اک قلب بے مدعا چاہتا ہوں ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں نہیں ہوگا کوئی بشر شوخ اتنا کوئی بے ادب اس قدر شوخ اتنا نہ موسیٰ ہوئے طور پر شوخ اتنا ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا وہی لن ترانی سنا چاہتا ...

مزید پڑھیے

درس خودی

شبنم کا ایک قطرہ بے بہرۂ خودی تھا ٹپکا فلک سے شب کو اور برگ گل پہ ٹھہرا اس طرح تھا چمکتا ہیرے کا جیسے ٹکڑا کرتا تھا کھیل اس سے موج صبا کا جھونکا رنگیں ہوا تھا وہ بھی جس طرح ہر کلی تھی ملتی تھیں جب بھی شاخیں رہ رہ کے تھا سنبھلتا لیتا تھا برگ گل پر دھیرے سے پھر سہارا رنگ چمن تھا ...

مزید پڑھیے

میری اداس آنکھیں

ہر سو دھند کا پہرہ ہے رات خاموش ہے مٹ میلی چاندنی اتر آئی ہے میرے آنگن میں ہاتھوں میں یادوں کے چراغ لئے کھولتی ہوں کھڑکیوں دروازوں کو آج خوب صورت لگ رہی ہیں میری اداس آنکھیں دکھ کے آئینے میں آج میں نے دیکھا ہے اپنا چہرہ آج میں کوئی گیت گنگنانا چاہتی ہوں

مزید پڑھیے

اکثر ایسا ہوتا ہے

اکثر ایک پیڑ سفر میں بدل جاتا ہے اور تمہارا چہرہ دھند میں کھو جاتا ہے اکثر میری یادیں مجبور سی ہو جاتی ہیں اور ایک پل صدی میں بدل جاتا ہے اکثر تمہاری یادیں ایک راستہ بن جاتی ہیں اور ایک صدی پل میں گزر جاتی ہے

مزید پڑھیے

ایک احساس

تمہاری نرم انگلیوں کا مخملی لمس جیسے بند شیشوں کے باہر گرتی مسلسل برف باری کا سلسلہ جیسے دبے پاؤں بے حد آہستہ پھولوں پر گزرتے ہوئے بچوں کے نازک قدم جیسے پیڑوں پر پر سکھاتی سفید پرندوں کی قطار

مزید پڑھیے

رموز محبت

1 جب آنکھ کھول کے دیکھا تو ہو گیا مستور یہ میرا دیدۂ بینا ہی اک حجاب ہوا تو چھپ گیا مہ و انجم میں لالہ و گل میں ہر ایک جلوۂ رنگیں ترا نقاب ہوا جب آنکھ بند ہوئی تو ہی جلوہ آرا تھا 2 مری زبان کھلی شرح عاشقی کے لیے مرا بیاں تھا مرقع مری خجالت کا ہر ایک حرف میں تھا غیریت کا افسانہ مری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 797 سے 960