شاعری

سرائے

لرزتے کانپتے کمزور بوڑھے سورج کا لہو بہا چکا قزاق آفریدۂ شب نئی نویلی سہاگن کی مانگ کی مانند سیاہ جھیل کے پانی میں سرخ سرخ لکیر تمام کشتیاں ساحل کی سمت لوٹ گئیں وہ دور چند گھروندوں کی چھوٹی سی بستی بسی ہوئی ہے جو خوشبوئے ماہی و مے میں ابھی ابھی یہ اندھیروں میں ڈوب جائے گی پرندے ...

مزید پڑھیے

ناگزیر

یہ چاندنی یہ ستارے یہ آبشار یہ جھیل یہ جگنوؤں کی چمک اور یہ تتلیوں کی اڑان یہ کوئلیں یہ پپیہے طرح طرح کے یہ پھول گھنے گھنے سے درختوں کے میٹھے میٹھے پھل حسین خواب میں بچے کی جادوئی مسکان وفا خلوص محبت جہاد قربانی یہ سب قدیم ہیں ان میں نیا تو کچھ بھی نہیں ہمارے اپنے مسائل بھی سب ...

مزید پڑھیے

انارکزم

غیر فطری تحفظ کی مجبوریاں آدمی آج کیڑے مکوڑے کی مانند پھر رینگنے لگ گیا جن میں جینے کی کچھ اہلیت ہی نہیں وہ بھی زندہ ہیں اور زندہ رہنے کے حق دار لوگوں کا حق کھا رہے ہیں بوجھ دھرتی کے سینے کا بڑھتا چلا جا رہا ہے اٹھا دو یہ سارے قوانین بے جا زمینوں کو آزاد کر دو اصول ازل اور قانون ...

مزید پڑھیے

حسین

حسین نام ہے اک روشنی کے پیکر کا حسین فکر بشر کی عظیم منزل ہے حسین سینۂ انساں میں جاگتا دل ہے حسین صرف کسی اک بشر کا نام نہیں حسین ایک علامت ہے زندگی کے لیے حسین عزم سفر ہے مسافروں کے لیے حسین زیست کے تپتے ہوئے بیاباں میں ہے قافلوں کے لیے اک گھنے درخت کا نام ہے بے کسوں کے لیے قوت عمل ...

مزید پڑھیے

بیساکھی

اپنی ہی وسعتوں سے تنگ آ کر بھاگتا ہے کنارا لیتا ہے یہ سمندر بھی کتنا ظالم ہے پھر بھی اس خاک کے سفر کے لئے بادلوں کا سہارا لیتا ہے کوئی کامل نہیں عظیم نہیں

مزید پڑھیے

گھروندے

کہتے ہیں ایک روز یہ مریخ بھی کبھی اپنی زمین ہی کی طرح اک جہان تھا آباد تھے وہاں بھی بڑے پر شکوہ لوگ علم و ہنر میں حکمت و دانش میں طاق تھے مٹھی میں ان کی ساری توانائی قید تھی ایٹم کی قوتوں پہ بڑا اختیار تھا اک روز ان کی غلطی سے یا پھر غرور سے ایٹم کی ساری قوتیں آزاد ہو گئیں ساری ...

مزید پڑھیے

کل من علیہا فان

کتنے شاداب پھولوں میں بس اک ہمیں باد صرصر کے جھونکوں سے مرجھا گئے اور اب جلد ہی شاخ سے ٹوٹ کر سخت بے رحم مٹی پہ گر جائیں گے چند لمحوں میں یکسر بکھر جائیں گے لیکن ایسا نہیں سارے پھولوں کا شاید یہی حشر ہے

مزید پڑھیے

اختلاف

بیاض زندگی میں امن کا ورق ہی صاف ہے یہ عافیت کا قصر ہے اور قصر میں شگاف ہے زمیں پہ آسماں نہیں یہ ظلم کا غلاف ہے ہمیں یہ ظلم میں اٹی فضا سے اختلاف ہے کرشمہ گر نگاہ سے ہمیں کوئی غرض نہیں بہانہ ساز آہ سے ہمیں کوئی غرض نہیں نمائشی کراہ سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہمیں گلی سڑی ہوئی وفا سے ...

مزید پڑھیے

نظم

پرندے لاکھ آسودہ رہیں سونے کے پنجروں میں مگر آزادیٔ فردا کی خواہش جاگتی رہتی ہے سینوں میں نگاہیں مضطرب کہتی ہیں کوئی آئے شعور جاں فزا سے تیلیاں پنجروں کی توڑے یا ذرا دروازہ کھولے اڑائے پر شکستہ کو وہ چمکتی روشنی شاید کوئی آیا نہیں کوئی نہیں آیا نہ آئے گا پرندے خود ہی اپنا زور ...

مزید پڑھیے

سر سنگیت

سر سنگیت تال و سر سب سمے کا روپ مور ہاتھی مرگ نرسہم سب گتی پر تال کی ناچا کریں اور پرم آنند میں جھوما کریں تا تا دھن دھن تا تا دھن دھن تال جوڑے تال توڑے سر کے سارے بھید سر سمائے انگ انگ سر کے قیدی صوت و آہنگ کیا سمندر کیا حجر اور کیا شجر جن و پری زاد و بشر بے زباں مضراب و تار و بانس و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 796 سے 960