سرائے
لرزتے کانپتے کمزور بوڑھے سورج کا لہو بہا چکا قزاق آفریدۂ شب نئی نویلی سہاگن کی مانگ کی مانند سیاہ جھیل کے پانی میں سرخ سرخ لکیر تمام کشتیاں ساحل کی سمت لوٹ گئیں وہ دور چند گھروندوں کی چھوٹی سی بستی بسی ہوئی ہے جو خوشبوئے ماہی و مے میں ابھی ابھی یہ اندھیروں میں ڈوب جائے گی پرندے ...